<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 01:34:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 01:34:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ جنگ بندی قرارداد، پاکستان نے امریکی ویٹو کو تاریک لمحہ قرار دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277207/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ نے حسبِ روایت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد ویٹو کردیا جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے علاوہ اسرائیل پر محصور علاقے میں امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے انسانی نوعیت کی اس قرارداد کے خلاف ویٹو کے استعمال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 رکنی سلامتی کونسل کے 10 منتخب اراکین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو حق میں 14 ووٹ ملے۔ غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران یہ چھٹی بار تھا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اسرائیلی جارحیت اور محصور علاقے میں پھیلتے قحط اور بھوک کے تناظر میں 80 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منعقدہ میٹنگ میں جمعرات کو منفی ووٹ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرارداد میں حماس کے زیرِ حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ انسانی امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور یہ یقینی بنائے کہ امداد محفوظ طریقے سے آبادی تک پہنچائی جائے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور اس کے شراکت داروں کے ذریعے یہ کام سرانجام دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلامتی کونسل کے وہ 10 غیر مستقل ارکان، جنہوں نے یہ مسودہ پیش کیا، یہ ہیں: پاکستان، الجزائر، ڈنمارک، یونان، گیانا، پاناما، جنوبی کوریا، سیرالیون، سلووینیا، اور صومالیہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5 مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے اور ان سب نے کسی نہ کسی وقت اس اختیار کا استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت جنوبی کوریا نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ووٹنگ سے قبل امریکی مندوب مورگن اورٹاگس نے کہا کہ واشنگٹن کی قرارداد کی مخالفت کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ حماس کی مذمت نہیں کرتی اور نہ ہی اسرائیل کے دفاع کا حق تسلیم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanPR_UN/status/1968878591925432757?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1968878591925432757%7Ctwgr%5E4954472d7a2c038a05d11d91862717ac31f71a19%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40383587"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ متن حماس کے حق میں غلط بیانیوں کو ناجائز طور پر جائز قرار دیتا ہے جنہوں نے افسوس کے ساتھ اس کونسل میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرارداد اس ناکام نظام کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے اور اسی نظام کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتی ہے جس نے حماس کو ضرورت مند شہریوں کے نقصان پر اپنے آپ کو مضبوط اور مالدار بنانے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکی اقدام پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 80 ویں جنرل اسمبلی کے سیشن، اعلیٰ سطح ہفتے کے آغاز  اور اس ایوان میں 10 ہزارویں اجلاس کے موقع پریہ کتنا تاریک لمحہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو کارروائی کرنے سے جس چیز نے روکا وہ ویٹو کا استعمال تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسی کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے شدید انسانی دکھ کے لمحوں میں، کونسل کو اپنا مینڈیٹ پورا کرنے سے روکنا اس دکھ کو جاری رکھنے میں مدد دینے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے یہ راستہ اختیار کیا، انہیں اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی بمباری اور محاصرے میں پھنسے ہوئے غزہ کے لوگوں کی حالتِ زار کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر  نے کہا کہ اس سنگین صورتحال میں آج کی ناکامی ایک خطرناک پیغام بھیجتی ہے کہ دو ملین محصور فلسطینیوں کی زندگیوں کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے اور انہیں سیاسی مفادات کے تابع کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہر گھنٹہ جو رکاوٹ میں گزرتا ہے وہ زخم کو گہرا کرتا ہے اور غزہ کے لوگوں کے دکھوں کو بڑھاتا ہے۔ ہر ناکامی لاگت کو بڑھا دیتی ہے اور اس کونسل کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کونسل کی اکثریت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ کوتاہیاں مجموعی طور پر کونسل کی نہیں ہیں بلکہ اس پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر سفیر عاصم  نے نشاندہی کی کہ غزہ پٹی میں قحط پھیلنے کا خطرہ ہے؛ اسرائیلی حملے اب روزانہ درجنوں جانیں لے رہے ہیں اور ایک ملین افراد بے گھر ہو سکتے ہیں؛ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع قبضے کی جڑیں اور اس کے حقیقی ارادے ظاہر کرتی ہے، یہ دو ریاستی حل کے لیے موت کی گھنٹی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں قحط پھیلنے کا خطرہ ہے، اسرائیل کی کارروائیاں اب روزانہ درجنوں افراد کی جان لے رہی ہیں اور ایک ملین لوگوں کو بے گھر کرسکتی ہیں، مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع قبضے کی جڑوں اور اس کے حقیقی ارادوں کو بے نقاب کرتی ہے جو دو ریاستی حل کیلئے موت کا پروانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ 21 ویں صدی میں نوآبادیاتی آبادکاری کا کتنا واضح مظاہرہ ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حق خودارادیت، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، بھوک اور محاصرے کا خاتمہ، جس میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے لیے متعدد داخلے اور تقسیم کے مقامات کے ذریعے مکمل رسائی دی جائے اور مسئلہ فلسطین کا ایک منصفانہ، دیرپا اور پرامن حل تلاش کیا جائے، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک خودمختار اور مسلسل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی نمائندے نے کہا کہ ہم انسانیت، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا دیکھ رہی ہے۔ بچوں کی چیخیں ہمارے دلوں کو چھوئیں۔ ماؤں کی تکلیف ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ فلسطین اس کونسل کی طرف دیکھ رہا ہے اور ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرارداد کی منظوری کے بعد، الجزائر کے اقوام متحدہ کے سفیر عمار بن جامع نے کہا کہ ہمیں معاف کردیں۔ انہوں نے غزہ کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مخلصانہ کوششوں کے باوجود یہ سلامتی کونسل آپ کی کوئی مدد نہ کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اس خوفناک خواب اور فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری اب انہیں مزید مایوس نہیں کرسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا کہ آج کا اجلاس سفارت کاری نہیں بلکہ تھیٹر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غلط فہمی میں نہ رہیں، اس اسٹیج ڈرامے کا واحد فائدہ اٹھانے والا حماس ہے جو پس پردہ انتظار کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ غزہ میں بچوں کی چیخیں ہمارے دلوں کو چیڑ دیں، ماؤں کی تکلیف ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ فلسطین سلامتی کونسل کی طرف دیکھ رہا ہے اور ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کونگ نے کہا کہ چین آج کی ووٹنگ کے نتائج سے گہری مایوسی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ChinaAmbUN/status/1968892163590074845?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1968892163590074845%7Ctwgr%5E4954472d7a2c038a05d11d91862717ac31f71a19%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40383587"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کونگ نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ غزہ میں تنازعہ تقریباً دو سال سے جاری ہے جس سے ایک بے مثال انسانی تباہی ہوئی ہے۔ بار بار سلامتی کونسل نے کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر بار اسے امریکہ نے  روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول سے پہلے مزید کتنی بے گناہ جانیں ضائع ہوں گی؟ انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل سے پہلے مزید کتنے سانحات رونما ہوں گے؟ سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ہمیں مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ نے حسبِ روایت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد ویٹو کردیا جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے علاوہ اسرائیل پر محصور علاقے میں امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے انسانی نوعیت کی اس قرارداد کے خلاف ویٹو کے استعمال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>15 رکنی سلامتی کونسل کے 10 منتخب اراکین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو حق میں 14 ووٹ ملے۔ غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی جنگ کے دوران یہ چھٹی بار تھا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال کیا۔</p>
<p>غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔</p>
<p>غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اسرائیلی جارحیت اور محصور علاقے میں پھیلتے قحط اور بھوک کے تناظر میں 80 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منعقدہ میٹنگ میں جمعرات کو منفی ووٹ دیا گیا۔</p>
<p>اس قرارداد میں حماس کے زیرِ حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ انسانی امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور یہ یقینی بنائے کہ امداد محفوظ طریقے سے آبادی تک پہنچائی جائے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور اس کے شراکت داروں کے ذریعے یہ کام سرانجام دیا جائے۔</p>
<p>سلامتی کونسل کے وہ 10 غیر مستقل ارکان، جنہوں نے یہ مسودہ پیش کیا، یہ ہیں: پاکستان، الجزائر، ڈنمارک، یونان، گیانا، پاناما، جنوبی کوریا، سیرالیون، سلووینیا، اور صومالیہ۔</p>
<p>5 مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کو کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے اور ان سب نے کسی نہ کسی وقت اس اختیار کا استعمال کیا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت جنوبی کوریا نے کی۔</p>
<p>ووٹنگ سے قبل امریکی مندوب مورگن اورٹاگس نے کہا کہ واشنگٹن کی قرارداد کی مخالفت کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ حماس کی مذمت نہیں کرتی اور نہ ہی اسرائیل کے دفاع کا حق تسلیم کرتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanPR_UN/status/1968878591925432757?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1968878591925432757%7Ctwgr%5E4954472d7a2c038a05d11d91862717ac31f71a19%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40383587"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ متن حماس کے حق میں غلط بیانیوں کو ناجائز طور پر جائز قرار دیتا ہے جنہوں نے افسوس کے ساتھ اس کونسل میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔</p>
<p>یہ قرارداد اس ناکام نظام کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے اور اسی نظام کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتی ہے جس نے حماس کو ضرورت مند شہریوں کے نقصان پر اپنے آپ کو مضبوط اور مالدار بنانے کی اجازت دی۔</p>
<p>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکی اقدام پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 80 ویں جنرل اسمبلی کے سیشن، اعلیٰ سطح ہفتے کے آغاز  اور اس ایوان میں 10 ہزارویں اجلاس کے موقع پریہ کتنا تاریک لمحہ ہے؟</p>
<p>پاکستانی سفیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو کارروائی کرنے سے جس چیز نے روکا وہ ویٹو کا استعمال تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسی کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔</p>
<p>ایسے شدید انسانی دکھ کے لمحوں میں، کونسل کو اپنا مینڈیٹ پورا کرنے سے روکنا اس دکھ کو جاری رکھنے میں مدد دینے کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے جنہوں نے یہ راستہ اختیار کیا، انہیں اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔</p>
<p>اسرائیلی بمباری اور محاصرے میں پھنسے ہوئے غزہ کے لوگوں کی حالتِ زار کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر  نے کہا کہ اس سنگین صورتحال میں آج کی ناکامی ایک خطرناک پیغام بھیجتی ہے کہ دو ملین محصور فلسطینیوں کی زندگیوں کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے اور انہیں سیاسی مفادات کے تابع کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہر گھنٹہ جو رکاوٹ میں گزرتا ہے وہ زخم کو گہرا کرتا ہے اور غزہ کے لوگوں کے دکھوں کو بڑھاتا ہے۔ ہر ناکامی لاگت کو بڑھا دیتی ہے اور اس کونسل کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔</p>
<p>اس کونسل کی اکثریت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، ہم نے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ کوتاہیاں مجموعی طور پر کونسل کی نہیں ہیں بلکہ اس پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے ہیں۔</p>
<p>اس موقع پر سفیر عاصم  نے نشاندہی کی کہ غزہ پٹی میں قحط پھیلنے کا خطرہ ہے؛ اسرائیلی حملے اب روزانہ درجنوں جانیں لے رہے ہیں اور ایک ملین افراد بے گھر ہو سکتے ہیں؛ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع قبضے کی جڑیں اور اس کے حقیقی ارادے ظاہر کرتی ہے، یہ دو ریاستی حل کے لیے موت کی گھنٹی ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں قحط پھیلنے کا خطرہ ہے، اسرائیل کی کارروائیاں اب روزانہ درجنوں افراد کی جان لے رہی ہیں اور ایک ملین لوگوں کو بے گھر کرسکتی ہیں، مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع قبضے کی جڑوں اور اس کے حقیقی ارادوں کو بے نقاب کرتی ہے جو دو ریاستی حل کیلئے موت کا پروانہ ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ 21 ویں صدی میں نوآبادیاتی آبادکاری کا کتنا واضح مظاہرہ ہے؟</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی حق خودارادیت، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، بھوک اور محاصرے کا خاتمہ، جس میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے لیے متعدد داخلے اور تقسیم کے مقامات کے ذریعے مکمل رسائی دی جائے اور مسئلہ فلسطین کا ایک منصفانہ، دیرپا اور پرامن حل تلاش کیا جائے، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک خودمختار اور مسلسل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔</p>
<p>پاکستانی نمائندے نے کہا کہ ہم انسانیت، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔</p>
<p>دنیا دیکھ رہی ہے۔ بچوں کی چیخیں ہمارے دلوں کو چھوئیں۔ ماؤں کی تکلیف ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ فلسطین اس کونسل کی طرف دیکھ رہا ہے اور ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔</p>
<p>قرارداد کی منظوری کے بعد، الجزائر کے اقوام متحدہ کے سفیر عمار بن جامع نے کہا کہ ہمیں معاف کردیں۔ انہوں نے غزہ کے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مخلصانہ کوششوں کے باوجود یہ سلامتی کونسل آپ کی کوئی مدد نہ کر سکی۔</p>
<p>اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اس خوفناک خواب اور فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری اب انہیں مزید مایوس نہیں کرسکتی۔</p>
<p>دوسری طرف اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا کہ آج کا اجلاس سفارت کاری نہیں بلکہ تھیٹر تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ غلط فہمی میں نہ رہیں، اس اسٹیج ڈرامے کا واحد فائدہ اٹھانے والا حماس ہے جو پس پردہ انتظار کررہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ غزہ میں بچوں کی چیخیں ہمارے دلوں کو چیڑ دیں، ماؤں کی تکلیف ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔ فلسطین سلامتی کونسل کی طرف دیکھ رہا ہے اور ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔</p>
<p>دوسری جانب اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کونگ نے کہا کہ چین آج کی ووٹنگ کے نتائج سے گہری مایوسی کا شکار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ChinaAmbUN/status/1968892163590074845?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1968892163590074845%7Ctwgr%5E4954472d7a2c038a05d11d91862717ac31f71a19%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40383587"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کونگ نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ غزہ میں تنازعہ تقریباً دو سال سے جاری ہے جس سے ایک بے مثال انسانی تباہی ہوئی ہے۔ بار بار سلامتی کونسل نے کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہر بار اسے امریکہ نے  روک دیا۔</p>
<p>انہوں نے سوال کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول سے پہلے مزید کتنی بے گناہ جانیں ضائع ہوں گی؟ انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل سے پہلے مزید کتنے سانحات رونما ہوں گے؟ سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ہمیں مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277207</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 16:20:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/191535129956603.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/191535129956603.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
