<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ونتارا کے پنجرے میں نیلا خزانہ: نایاب سپِکس میکاو پر عالمی تنازع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277205/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ کہانی ایک پرندے اور ایک خاندان کی ہے، لیکن یہ نہ عام پرندہ ہے اور نہ ہی عام خاندان۔ سپِکس میکاو ایک شوخ نیلے رنگ کا طوطا ہے جس کے جوڑی  بنانے کے انداز خاصے پیچیدہ ہیں، اس طوطے کو 2019 کے دوران جنگلات میں معدوم قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں قید میں نسل بڑھانے کے پروگرام کے ذریعے کچھ پرندوں کو برازیل کے اپنے اصل مسکن میں دوبارہ چھوڑا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو برس سے تین براعظموں کے حکام یہ سوال اٹھاتے رہے کہ ان نایاب طوطوں میں سے 26 بھارت کے امبانی خاندان کے ذاتی چڑیا گھر   ونتارا  میں کیسے پہنچ گئے۔ بھارتی تحقیق کاروں نے حالیہ دنوں میں اس پناہ گاہ کو کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے بری قرار دیا،مگر یورپی حکام اب بھی ان کی برآمدات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل، جرمنی اور بھارت اس معاملے کو جنگلی حیات کی تجارت کی نگرانی کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تحت حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونتارا، جو گجرات میں واقع ہے، تقریباً 3,500 ایکڑ پر محیط جانوروں کی بازیابی اور نگہداشت کا مرکز ہے، جہاں 2,000 اقسام کے جانور موجود ہیں۔ یہ مرکز ارب پتی مکیش امبانی کے بیٹے آننت امبانی کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکارڈز کے مطابق 2022 سے اس مرکز میں دنیا بھر سے ہزاروں نایاب جانور درآمد کیے گئے ہیں، جن میں سانپ، کچھوے، چیتے، زرافے اور گینڈے شامل ہیں۔ ان کی کھیپ کی مجموعی مالیت 90 لاکھ ڈالر ظاہر کی گئی، جسے مرکز کے ترجمان نے محض فریٹ اور انشورنس کے اخراجات قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل تنازع سپِکس میکاو کے اردگرد ہے، جنہیں 2023 میں جرمنی کی تنظیم  اے سی ٹی پی سے حاصل کیا گیا۔ برازیل کا مؤقف ہے کہ ان پرندوں کی بھارت منتقلی کے لیے اس کی اجازت نہیں لی گئی۔ جرمنی نے بعد میں برازیلی حکام سے مشاورت کے بعد مزید پرندے بھارت بھیجنے کی درخواست مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ونتارا کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی مکمل طور پر قانونی، غیر تجارتی اور افزائشِ نسل کے لیے تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ کہانی ایک پرندے اور ایک خاندان کی ہے، لیکن یہ نہ عام پرندہ ہے اور نہ ہی عام خاندان۔ سپِکس میکاو ایک شوخ نیلے رنگ کا طوطا ہے جس کے جوڑی  بنانے کے انداز خاصے پیچیدہ ہیں، اس طوطے کو 2019 کے دوران جنگلات میں معدوم قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں قید میں نسل بڑھانے کے پروگرام کے ذریعے کچھ پرندوں کو برازیل کے اپنے اصل مسکن میں دوبارہ چھوڑا گیا۔</strong></p>
<p>گزشتہ دو برس سے تین براعظموں کے حکام یہ سوال اٹھاتے رہے کہ ان نایاب طوطوں میں سے 26 بھارت کے امبانی خاندان کے ذاتی چڑیا گھر   ونتارا  میں کیسے پہنچ گئے۔ بھارتی تحقیق کاروں نے حالیہ دنوں میں اس پناہ گاہ کو کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے بری قرار دیا،مگر یورپی حکام اب بھی ان کی برآمدات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>برازیل، جرمنی اور بھارت اس معاملے کو جنگلی حیات کی تجارت کی نگرانی کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے کے تحت حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>ونتارا، جو گجرات میں واقع ہے، تقریباً 3,500 ایکڑ پر محیط جانوروں کی بازیابی اور نگہداشت کا مرکز ہے، جہاں 2,000 اقسام کے جانور موجود ہیں۔ یہ مرکز ارب پتی مکیش امبانی کے بیٹے آننت امبانی کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔</p>
<p>ریکارڈز کے مطابق 2022 سے اس مرکز میں دنیا بھر سے ہزاروں نایاب جانور درآمد کیے گئے ہیں، جن میں سانپ، کچھوے، چیتے، زرافے اور گینڈے شامل ہیں۔ ان کی کھیپ کی مجموعی مالیت 90 لاکھ ڈالر ظاہر کی گئی، جسے مرکز کے ترجمان نے محض فریٹ اور انشورنس کے اخراجات قرار دیا۔</p>
<p>اصل تنازع سپِکس میکاو کے اردگرد ہے، جنہیں 2023 میں جرمنی کی تنظیم  اے سی ٹی پی سے حاصل کیا گیا۔ برازیل کا مؤقف ہے کہ ان پرندوں کی بھارت منتقلی کے لیے اس کی اجازت نہیں لی گئی۔ جرمنی نے بعد میں برازیلی حکام سے مشاورت کے بعد مزید پرندے بھارت بھیجنے کی درخواست مسترد کر دی۔</p>
<p>ونتارا کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی مکمل طور پر قانونی، غیر تجارتی اور افزائشِ نسل کے لیے تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277205</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 16:22:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19153449be04436.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19153449be04436.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
