<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 21:08:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 21:08:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی پالیسیاں یاماہا کے پاکستان چھوڑنے کی اصل وجہ، آٹو مینوفیکچررز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277189/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جہاں 80 فیصد سے زیادہ آبادی کے لیے موٹر سائیکل نقل وحمل کا ایک پسندیدہ ذریعہ ہے اور ایسے ملک سے یاماہا کا نکل جانا افسوس ناک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے کہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق یاماہا موٹر سائیکل پاکستان لمیٹڈ نے اپنے ڈیلرز کو لکھے گئے خط میں پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے جو 2015 میں دوبارہ آغاز کے صرف 10 سال بعد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالوحید خان  نے مزید کہا کہ یاماہا نے مقامی پیداوار، روزگار کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ہنرمندی کی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ دو پہیوں والی گاڑیوں کی صنعت میں ہونڈا کے بعد صرف یاماہا ہی پاکستان میں انجن کی تیاری کو مقامی سطح پر کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم کیا گیا یاماہا کا آنا مقامی آٹوموٹو منظر نامے میں ایک سنگ میل تھا۔ کمپنی نے عالمی بہترین کاروباری طریقوں کی پیروی کی اور ایک اصولی کاروباری ادارہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعی افسوسناک ہے  لیکن حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے اسے ملک چھوڑنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالوحید خان نے وضاحت کی کہ آٹوموٹو صنعت پر برآمدات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو کمپنی اپنی برآمدی اہداف حاصل نہیں کرسکتی وہ مینوفیکچرنگ کے لیے خام مال اور پرزے درآمد کرنے کی اہل نہیں رہتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رجعت پسندانہ قانون، جو زمینی حقائق کے خلاف بنایا گیا ہے، ملک کی پہلے سے ہی مشکلات میں گھری ہوئی آٹو انڈسٹری کے لیے آخری کیل ثابت ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستم بالائے ستم  حال ہی میں موٹر وہیکل ڈویلپمنٹ ایکٹ 2025 نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد معمول کے اور معمولی کاروباری معاملات کو فوجداری قانون کے تحت لانا ہے، جب کہ ماضی میں ان معاملات کو سول قانون کے تحت دیکھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں، قابلِ احترام اور معروف کاروباری رہنماؤں کو معمولی مسائل پر بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے اور انہیں طویل سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ انہوں  نے کہا یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تباہ کن ہے اور بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی پاما کے مطابق، ملک میں آٹوموٹو صنعت پہلے ہی سے معاشی غیر یقینی، ناقص حکومتی پالیسیوں، روپے کی قدر میں کمی، بھاری ٹیکس، کاروبار کے زیادہ اخراجات اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالوحید نے مزید کہا کہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور شیل، اوبر، کریم، مائیکروسافٹ اور ٹیلی نار جیسی بہت سی عالمی شہرت یافتہ کمپنیاں حال ہی میں پاکستان چھوڑ چکی ہیں،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی ساز اپنی رجعت پسندانہ اور استحصال کرنے والی پالیسیوں پر بضد رہے تو مزید کئی ممتاز کاروبار پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جہاں 80 فیصد سے زیادہ آبادی کے لیے موٹر سائیکل نقل وحمل کا ایک پسندیدہ ذریعہ ہے اور ایسے ملک سے یاماہا کا نکل جانا افسوس ناک ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے کہی ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق یاماہا موٹر سائیکل پاکستان لمیٹڈ نے اپنے ڈیلرز کو لکھے گئے خط میں پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے جو 2015 میں دوبارہ آغاز کے صرف 10 سال بعد ہے۔</p>
<p>عبدالوحید خان  نے مزید کہا کہ یاماہا نے مقامی پیداوار، روزگار کی فراہمی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ہنرمندی کی ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ دو پہیوں والی گاڑیوں کی صنعت میں ہونڈا کے بعد صرف یاماہا ہی پاکستان میں انجن کی تیاری کو مقامی سطح پر کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔</p>
<p>تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم کیا گیا یاماہا کا آنا مقامی آٹوموٹو منظر نامے میں ایک سنگ میل تھا۔ کمپنی نے عالمی بہترین کاروباری طریقوں کی پیروی کی اور ایک اصولی کاروباری ادارہ رہی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعی افسوسناک ہے  لیکن حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے اسے ملک چھوڑنا پڑا۔</p>
<p>ممکنہ وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبدالوحید خان نے وضاحت کی کہ آٹوموٹو صنعت پر برآمدات کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو کمپنی اپنی برآمدی اہداف حاصل نہیں کرسکتی وہ مینوفیکچرنگ کے لیے خام مال اور پرزے درآمد کرنے کی اہل نہیں رہتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رجعت پسندانہ قانون، جو زمینی حقائق کے خلاف بنایا گیا ہے، ملک کی پہلے سے ہی مشکلات میں گھری ہوئی آٹو انڈسٹری کے لیے آخری کیل ثابت ہورہا ہے۔</p>
<p>ستم بالائے ستم  حال ہی میں موٹر وہیکل ڈویلپمنٹ ایکٹ 2025 نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد معمول کے اور معمولی کاروباری معاملات کو فوجداری قانون کے تحت لانا ہے، جب کہ ماضی میں ان معاملات کو سول قانون کے تحت دیکھا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں، قابلِ احترام اور معروف کاروباری رہنماؤں کو معمولی مسائل پر بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے اور انہیں طویل سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ انہوں  نے کہا یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تباہ کن ہے اور بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔</p>
<p>ڈی جی پاما کے مطابق، ملک میں آٹوموٹو صنعت پہلے ہی سے معاشی غیر یقینی، ناقص حکومتی پالیسیوں، روپے کی قدر میں کمی، بھاری ٹیکس، کاروبار کے زیادہ اخراجات اور غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے۔</p>
<p>عبدالوحید نے مزید کہا کہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور شیل، اوبر، کریم، مائیکروسافٹ اور ٹیلی نار جیسی بہت سی عالمی شہرت یافتہ کمپنیاں حال ہی میں پاکستان چھوڑ چکی ہیں،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی ساز اپنی رجعت پسندانہ اور استحصال کرنے والی پالیسیوں پر بضد رہے تو مزید کئی ممتاز کاروبار پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277189</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 21:07:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/191208139cfbd57.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/191208139cfbd57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
