<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:38:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:38:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا نے غزہ جنگ پر سلامتی کونسل کی قرارداد چھٹی بار ویٹو کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277188/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو  اُس مسودۂ قرار داد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر امدادی سامان کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرار داد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 منتخب اراکین نے تیار کی تھی اور اس کے حق میں 14 ووٹ آئے، تاہم امریکا نے چھٹی بار ویٹو کا استعمال کیا۔ قرار داد میں یہ بھی مطالبہ شامل تھا کہ حماس اور دیگر گروپوں کی قید میں موجود تمام یرغمالیوں کو فوری، باعزت اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈنمارک کی اقوام متحدہ میں سفیر کرسٹینا مارکس لاسن نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ غزہ میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے، یہ محض پیش گوئی یا خدشہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اسرائیل نے غزہ سٹی میں فوجی کارروائی بڑھا دی ہے جس نے شہریوں کی اذیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا روایتی طور پر اسرائیل کو اقوام متحدہ میں سفارتی تحفظ دیتا آیا ہے، تاہم گزشتہ ہفتے اس نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اُس بیان کی حمایت کی تھی جس میں قطر پر حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی تھی، اگرچہ متن میں اسرائیل کا نام شامل نہیں تھا۔ لیکن اس ہفتے کے ویٹو نے واضح کیا کہ واشنگٹن دوبارہ اسرائیل کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سفارت کار مورگن اورٹیگس نے کہا کہ اس جنگ کی ذمہ داری حماس پر ہے۔ اسرائیل جنگ بندی کی تجویز کو مان چکا ہے لیکن حماس نے انکار کیا۔ اگر حماس یرغمالیوں کو رہا کر دے اور ہتھیار ڈال دے تو یہ جنگ آج ہی ختم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 64,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے میں 1,200 افراد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو  اُس مسودۂ قرار داد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر امدادی سامان کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>یہ قرار داد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 منتخب اراکین نے تیار کی تھی اور اس کے حق میں 14 ووٹ آئے، تاہم امریکا نے چھٹی بار ویٹو کا استعمال کیا۔ قرار داد میں یہ بھی مطالبہ شامل تھا کہ حماس اور دیگر گروپوں کی قید میں موجود تمام یرغمالیوں کو فوری، باعزت اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔</p>
<p>ڈنمارک کی اقوام متحدہ میں سفیر کرسٹینا مارکس لاسن نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ غزہ میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے، یہ محض پیش گوئی یا خدشہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اسرائیل نے غزہ سٹی میں فوجی کارروائی بڑھا دی ہے جس نے شہریوں کی اذیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>امریکا روایتی طور پر اسرائیل کو اقوام متحدہ میں سفارتی تحفظ دیتا آیا ہے، تاہم گزشتہ ہفتے اس نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اُس بیان کی حمایت کی تھی جس میں قطر پر حالیہ حملوں کی مذمت کی گئی تھی، اگرچہ متن میں اسرائیل کا نام شامل نہیں تھا۔ لیکن اس ہفتے کے ویٹو نے واضح کیا کہ واشنگٹن دوبارہ اسرائیل کے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے۔</p>
<p>امریکی سفارت کار مورگن اورٹیگس نے کہا کہ اس جنگ کی ذمہ داری حماس پر ہے۔ اسرائیل جنگ بندی کی تجویز کو مان چکا ہے لیکن حماس نے انکار کیا۔ اگر حماس یرغمالیوں کو رہا کر دے اور ہتھیار ڈال دے تو یہ جنگ آج ہی ختم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>غزہ میں اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 64,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں، جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے میں 1,200 افراد مارے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277188</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 12:01:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19120006c218ae5.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19120006c218ae5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
