<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماحولیاتی تحفظ پر بھارتی سپریم کورٹ کا جرات مندانہ فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277182/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جولائی 2025 میں بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ماحولیاتی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہائیوں تک، بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنی دریاؤں کو سیاست کے اوزار، پہاڑوں کو محض تعمیراتی مقامات اور اپنی عوام کو ڈونرز کے بیانیے اور حکومتی غفلت کے بے بس وصول کنندہ کے طور پر برتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک نایاب صراحت کے ساتھ جسٹس جے۔ بی۔ پرڈیوالا اور آر۔ مہادیون نے اس فریب کو توڑ دیا اور سچائی کو آشکار کیا، ہمالیہ غیر ذمہ دار انسانی مداخلت کے بوجھ تلے ٹوٹ رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہماچل پردیش جیسے پورے علاقے نقشے سے غائب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ مودی حکومت کے لیے ایک ذلت ہے، جو طویل عرصے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کو قومی فخر کی علامت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ لیکن دراصل یہ پاکستان کے خلاف سیاسی دباؤ ڈالنے کے اوزار ہیں۔ وہاں بننے والے ڈیم نہ وادی کے رہائشیوں کے لیے ہیں اور نہ ہی بھارتی عوام کے لیے جو سستی اور پائیدار بجلی کے ضرورت مند ہیں۔ یہ ڈیم بھارتی گھروں کے بلب جلانے کے لیے نہیں بلکہ قوم پرستانہ تقریروں کی سرخیوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس سال سے زیادہ عرصے تک، پاکستان کی ماحولیاتی گفتگو موقع پرست افراد کے قبضے میں رہی جو ماہرین کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے۔ کچھ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے آپریٹرز، ادھار لیے گئے الفاظ—مزاحمت ، موافقت ، کاربن فٹ پرنٹس، پائیداری—سے لیس ہو کر ڈونرز کے حلقوں میں چکر لگاتے رہے لیکن نہ کوئی سنجیدہ تحقیق کی اور نہ ہی کوئی انجینئرنگ منصوبہ تیار کیا۔ ان کے نزدیک ماحولیاتی سرگرمی کا مطلب تھا ڈونرز کے لیے رپورٹیں لکھنا، فائیو اسٹار کانفرنسوں میں شریک ہونا اور کلائمیٹ جسٹس  جیسے گھسے پٹے جملے دہرانا۔ جب سندھ 2022 میں سیلاب کے پانی میں ڈوب گیا یا جب بلوچستان کے زیر زمین پانی کے ذخائر خشک ہو گئے، تو یہ ماہرین غائب تھے۔ ان کے پاس نہ ہائیڈرولوجی کے اعداد و شمار تھے، نہ بند باندھنے کے منصوبے، نہ شجر کاری کی اسکیمیں—صرف پریس ریلیزیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی بدتر یہ کہ انہوں نے پانی کی سیکیورٹی جیسے گہرے تکنیکی مسئلے کو ایک غیر ذمہ دار سیاسی مہم میں بدل دیا، اور سندھ طاس معاہدے پر نظرِثانی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ وہ نہ ہمالیہ کی ہائیڈرولوجی کو سمجھتے تھے اور نہ ہی ڈیم بنانے کے ماحولیاتی نتائج کو، لیکن پھر بھی اس خیال کو بیرونِ ملک بھرپور طریقے سے بیچتے رہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ بالآخر بھارت نے—نہ کہ پاکستان نے—اس خیال کو عملی جامہ پہنایا اور اپریل 2025 میں معاہدہ معطل کر دیا۔ اس سے پاکستان کے ماحولیاتی چیمپئنز کا کھوکھلا پن بے نقاب ہوتا ہے، جو دراصل محض پیشہ ور موقع پرست نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بھارت بھی اخلاقی برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پن بجلی کے جنون نے ایک انسانی اور ماحولیاتی ٹائم بم تیار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چناب، راوی، بیاس اور ستلج جیسے دریا—جو لاکھوں انسانوں کی زندگی کی ڈور ہیں—ڈیموں، آبی ذخائر اور غیر منظم سرنگوں کے ذریعے مسخ کر دیے گئے ہیں۔ 2023 کے ہماچل پردیش کے سیلاب اور اس کے بعد 2025 کی تباہ کاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نقصان بڑی حد تک انسان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہاڑوں کو چیر کر چار لین شاہراہیں، غیر مستحکم ڈھلوانوں پر کئی منزلہ کنکریٹ کے ہوٹل، بے لگام جنگلات کی کٹائی اور مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش میں سرنگوں کی مسلسل کھدائی نے بھاری بارشوں کو تباہ کن آفات میں بدل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی سپریم کورٹ کے الفاظ دوٹوک تھے: پن بجلی خاصے ماحولیاتی نقصانات کے ساتھ آتی ہے۔ عدالت نے پالیسی سازوں کو یاد دلایا کہ ہماچل پردیش کوئی انجینئرنگ کا کھیل کا میدان نہیں بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام ہے، جس کی بقا کا انحصار ارضیات دانوں، ماہرین ماحولیات اور مقامی برادریوں سے مشاورت پر ہے۔ بینچ کی یہ تنبیہ کہ حتیٰ کہ طاقتور ستلج بھی ایک برساتی ندی میں بدل چکا ہے، بھارت کے پن بجلی جنون پر ایک تباہ کن فردِ جرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی پالیسیوں کو ناقابلِ دفاع بنانے والی چیز یہ ہے کہ اس کے پاس اس سے کہیں بہتر متبادل موجود ہیں۔ آج سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی فی یونٹ پن بجلی کے مقابلے میں تقریباً نصف لاگت پر میسر ہے۔ راجستھان کے بڑے سولر پارکس پہلے ہی ریکارڈ کم ٹیرف پر بجلی فراہم کر رہے ہیں، جبکہ گجرات اور تمل ناڈو کے وِنڈ فارمز وسعت پذیری کی مثال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی (این آئی ایس سی) اور انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی  کے مطابق صرف ہماچل پردیش میں 50 گیگاواٹ سے زیادہ سولر صلاحیت موجود ہے، جس میں سے 15 سے 24 گیگاواٹ فوراً بروئے کار لائی جا سکتی ہے۔ تقسیم شدہ چھتوں پر سولر پینلز دیہی گھروں کو بااختیار بنا سکتے ہیں، گرڈ پر انحصار کم کر سکتے ہیں اور قدرتی آفات کے دوران لچک فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لداخ میں حیران کن طور پر 1,314 گیگاواٹ کی ہوا کی صلاحیت موجود ہے—جو دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ ذخائر میں سے ایک ہے—جبکہ جموں و کشمیر میں تقریباً 5,700 میگاواٹ کی ہوا کی صلاحیت کے ساتھ وسیع سولر امکانات بھی ہیں، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وِنڈ انرجی کے مطابق۔ یہ تینوں ہمالیائی خطے مل کر بھارت کی تجدید پذیر توانائی کی انقلاب کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ پن بجلی کے برعکس، جو ڈھلوانوں اور دریاؤں کو تباہ کرتی ہے، سولر اور وِنڈ ماحولیاتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں۔ ڈیموں کے برعکس، جو خشک سالی اور گلیشیئر کے پگھلنے سے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، سولر پینلز اور وِنڈ ٹربائنز انہی حالات میں پھلتے پھولتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہ سراسر حماقت ہے کہ بھارت اب بھی ڈیموں پر اربوں ڈالر جھونک رہا ہے جبکہ اس کے عوام کو سورج اور ہوا سے زیادہ سستی، صاف اور محفوظ بجلی مل سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے بالواسطہ طور پر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے: پن بجلی اب ماحولیاتی غیر یقینی  کے دور میں قابلِ عمل نہیں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کی گہری اہمیت اس تضاد میں ہے جو یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی ماہرین نے پانی کی سلامتی کو ایک ڈونر سرکس میں بدل دیا، نعروں کو پیدا کیا لیکن سائنس نہیں۔ بھارت میں، چاہے بحث تاخیر سے ہی شروع ہوئی ہو، مگر یہ عدالتوں تک پہنچی، جہاں جج حضرات انجینئروں اور حقیقی ماہرینِ موسمیاتی تبدیلی پر انحصار کرنے کو تیار تھے، نہ کہ این جی اوز کی پریس ریلیزوں پر۔ یہی فرق ہے کھوکھلی سرگرمی اور سنجیدہ حکمرانی کے درمیان۔ پھر بھی دونوں ممالک قصوروار ہیں: پاکستان اس لیے کہ اس نے جعلی ماہرین کو برداشت کیا، بھارت اس لیے کہ اس نے غیر ذمہ دار پن بجلی قوم پرستی کو اپنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دوہرا ناکام پن دونوں طرف کی سیاسی قیادت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ مودی کی حکومت، جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نمائشی ڈیموں کے جنون میں مبتلا ہے، اس نے قابلِ تجدید توانائی کے معاشی منطق کو نظرانداز کیا۔ اسلام آباد کا حکمران طبقہ، ڈونر انحصار کے مفلوج اثر میں، این جی اوز کو ماحولیاتی ایجنڈا طے کرنے دیتا رہا—بغیر کسی نتیجے کے۔ دونوں صورتوں میں عام شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے—چاہے وہ ہماچل میں اچانک آنے والے سیلاب ہوں یا سندھ میں پانی کی قلت۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تجزیے کے مصنفین—ایک ماہرِ معاشیات/وکیل اور دوسرا انجینئر، دونوں کو 35 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے—ایک واضح سفارش پیش کرتے ہیں۔ بھارت کو اپنے پرانے ڈیموں کے جنون کو ترک کرنا ہوگا۔ پن بجلی نہ سستی ہے، نہ صاف اور نہ ہی پائیدار۔ اس کے انسانی، ماحولیاتی اور مالیاتی اخراجات اب اس کے فوائد سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ مستقبل سورج اور ہوا میں ہے—ایسی ترکیب جو بجلی کو پن بجلی کے مقابلے میں تقریباً نصف نرخ پر فراہم کر سکتی ہے، اور ماحولیاتی توازن کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں نئے ڈیم منصوبوں کو روک دیا جائے، جہاں تعمیرات عوامی ضرورتوں کے بجائے سیاسی ایجنڈوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جعلی ماہرین کو ماحولیاتی گفتگو سے نکالا جائے اور ڈونر کی دکھاوا بازی کو سائنس پر مبنی سنجیدہ پالیسی سے بدلا جائے۔ دونوں کے لیے اس کا مطلب ہے بھارتی سپریم کورٹ کے سنہری الفاظ کو سننا: ماحولیاتی منصوبہ بندی کے بغیر ترقی خودکشی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ درحقیقت اس کا ماحولیاتی احیا ہے۔ دریاؤں اور پہاڑوں کی نزاکت پر زور دے کر، عدالت نے دونوں قوموں کو یاد دلایا کہ پانی ہتھیار نہیں بلکہ ایک مشترکہ زندگی کی رگ ہے۔ سیاسی حکومتیں گر سکتی ہیں، لیکن ماحولیاتی نظام ایک بار تباہ ہو جائے تو دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے یہ فیصلہ سراہنے کے لائق ہے۔ یہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور اخلاقی تنبیہ ہے۔ اس نے وہ کام کر دیا جو دونوں طرف کی وزارتیں کرنے میں ناکام رہیں۔ شرم ججوں پر نہیں بلکہ ان حکومتوں پر ہے جنہوں نے انہیں مداخلت پر مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا اب ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستے پر ہے پن بجلی کی نمائشی خواہش، این جی اوز کی جعلی سرگرمی اور ماحولیاتی تباہی۔ دوسرے راستے پر ہے قابلِ تجدید توانائی، سنجیدہ سائنس اور ماحولیاتی توازن۔ انتخاب کڑا ہے مگر سادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بھارت سیاست کے نام پر ڈیم بناتا رہا تو سب سے پہلے اپنے ہی عوام کے ساتھ غداری کرے گا، انہیں سیلابوں، بجلی کے بریک ڈاؤن اور بڑھتی ہوئی بجلی کی لاگت میں دھکیل دے گا۔ اگر پاکستان ماحولیاتی ماہر کہلانے والے جعلی ماہرین کو برداشت کرتا رہا تو وہ سیلاب اور خشک سالی کے لیے تیار نہیں رہے گا، ہمیشہ ڈونرز پر انحصار کرتا رہے گا۔ دونوں ممالک کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی اصل دولت دریاؤں کو روکنے میں نہیں بلکہ سورج اور ہوا کو بروئے کار لانے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ طاس معاہدہ ایک دن دوبارہ باضابطہ طور پر بحال ہو سکتا ہے، لیکن اس کی روح کو بھارتی سپریم کورٹ نے پہلے ہی زندہ کر دیا ہے۔ اس نے جنوبی ایشیا کو ایک قدیم سچائی یاد دلائی ہے: دریا جغرافیائی سیاست کے اوزار نہیں بلکہ زندگی کی رگیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دہلی اور اسلام آباد کے رہنما عمل کرنے کی دانش رکھتے ہیں—یا وہ اس آخری تنبیہ کو بھی ضائع کر دیں گے، اپنے پیچھے ٹوٹے ہوئے ڈیم، ٹوٹے ہوئے معاہدے اور ٹوٹا ہوا مستقبل چھوڑ کر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جولائی 2025 میں بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ماحولیاتی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔</strong></p>
<p>دہائیوں تک، بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنی دریاؤں کو سیاست کے اوزار، پہاڑوں کو محض تعمیراتی مقامات اور اپنی عوام کو ڈونرز کے بیانیے اور حکومتی غفلت کے بے بس وصول کنندہ کے طور پر برتا۔</p>
<p>ایک نایاب صراحت کے ساتھ جسٹس جے۔ بی۔ پرڈیوالا اور آر۔ مہادیون نے اس فریب کو توڑ دیا اور سچائی کو آشکار کیا، ہمالیہ غیر ذمہ دار انسانی مداخلت کے بوجھ تلے ٹوٹ رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہماچل پردیش جیسے پورے علاقے نقشے سے غائب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یہ فیصلہ مودی حکومت کے لیے ایک ذلت ہے، جو طویل عرصے سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کو قومی فخر کی علامت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ لیکن دراصل یہ پاکستان کے خلاف سیاسی دباؤ ڈالنے کے اوزار ہیں۔ وہاں بننے والے ڈیم نہ وادی کے رہائشیوں کے لیے ہیں اور نہ ہی بھارتی عوام کے لیے جو سستی اور پائیدار بجلی کے ضرورت مند ہیں۔ یہ ڈیم بھارتی گھروں کے بلب جلانے کے لیے نہیں بلکہ قوم پرستانہ تقریروں کی سرخیوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔</p>
<p>دس سال سے زیادہ عرصے تک، پاکستان کی ماحولیاتی گفتگو موقع پرست افراد کے قبضے میں رہی جو ماہرین کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے۔ کچھ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے آپریٹرز، ادھار لیے گئے الفاظ—مزاحمت ، موافقت ، کاربن فٹ پرنٹس، پائیداری—سے لیس ہو کر ڈونرز کے حلقوں میں چکر لگاتے رہے لیکن نہ کوئی سنجیدہ تحقیق کی اور نہ ہی کوئی انجینئرنگ منصوبہ تیار کیا۔ ان کے نزدیک ماحولیاتی سرگرمی کا مطلب تھا ڈونرز کے لیے رپورٹیں لکھنا، فائیو اسٹار کانفرنسوں میں شریک ہونا اور کلائمیٹ جسٹس  جیسے گھسے پٹے جملے دہرانا۔ جب سندھ 2022 میں سیلاب کے پانی میں ڈوب گیا یا جب بلوچستان کے زیر زمین پانی کے ذخائر خشک ہو گئے، تو یہ ماہرین غائب تھے۔ ان کے پاس نہ ہائیڈرولوجی کے اعداد و شمار تھے، نہ بند باندھنے کے منصوبے، نہ شجر کاری کی اسکیمیں—صرف پریس ریلیزیں تھیں۔</p>
<p>اس سے بھی بدتر یہ کہ انہوں نے پانی کی سیکیورٹی جیسے گہرے تکنیکی مسئلے کو ایک غیر ذمہ دار سیاسی مہم میں بدل دیا، اور سندھ طاس معاہدے پر نظرِثانی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ وہ نہ ہمالیہ کی ہائیڈرولوجی کو سمجھتے تھے اور نہ ہی ڈیم بنانے کے ماحولیاتی نتائج کو، لیکن پھر بھی اس خیال کو بیرونِ ملک بھرپور طریقے سے بیچتے رہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ بالآخر بھارت نے—نہ کہ پاکستان نے—اس خیال کو عملی جامہ پہنایا اور اپریل 2025 میں معاہدہ معطل کر دیا۔ اس سے پاکستان کے ماحولیاتی چیمپئنز کا کھوکھلا پن بے نقاب ہوتا ہے، جو دراصل محض پیشہ ور موقع پرست نکلے۔</p>
<p>تاہم بھارت بھی اخلاقی برتری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پن بجلی کے جنون نے ایک انسانی اور ماحولیاتی ٹائم بم تیار کر دیا ہے۔</p>
<p>چناب، راوی، بیاس اور ستلج جیسے دریا—جو لاکھوں انسانوں کی زندگی کی ڈور ہیں—ڈیموں، آبی ذخائر اور غیر منظم سرنگوں کے ذریعے مسخ کر دیے گئے ہیں۔ 2023 کے ہماچل پردیش کے سیلاب اور اس کے بعد 2025 کی تباہ کاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نقصان بڑی حد تک انسان کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔</p>
<p>پہاڑوں کو چیر کر چار لین شاہراہیں، غیر مستحکم ڈھلوانوں پر کئی منزلہ کنکریٹ کے ہوٹل، بے لگام جنگلات کی کٹائی اور مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش میں سرنگوں کی مسلسل کھدائی نے بھاری بارشوں کو تباہ کن آفات میں بدل دیا ہے۔</p>
<p>بھارتی سپریم کورٹ کے الفاظ دوٹوک تھے: پن بجلی خاصے ماحولیاتی نقصانات کے ساتھ آتی ہے۔ عدالت نے پالیسی سازوں کو یاد دلایا کہ ہماچل پردیش کوئی انجینئرنگ کا کھیل کا میدان نہیں بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام ہے، جس کی بقا کا انحصار ارضیات دانوں، ماہرین ماحولیات اور مقامی برادریوں سے مشاورت پر ہے۔ بینچ کی یہ تنبیہ کہ حتیٰ کہ طاقتور ستلج بھی ایک برساتی ندی میں بدل چکا ہے، بھارت کے پن بجلی جنون پر ایک تباہ کن فردِ جرم ہے۔</p>
<p>بھارت کی پالیسیوں کو ناقابلِ دفاع بنانے والی چیز یہ ہے کہ اس کے پاس اس سے کہیں بہتر متبادل موجود ہیں۔ آج سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی فی یونٹ پن بجلی کے مقابلے میں تقریباً نصف لاگت پر میسر ہے۔ راجستھان کے بڑے سولر پارکس پہلے ہی ریکارڈ کم ٹیرف پر بجلی فراہم کر رہے ہیں، جبکہ گجرات اور تمل ناڈو کے وِنڈ فارمز وسعت پذیری کی مثال ہیں۔</p>
<p>نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی (این آئی ایس سی) اور انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی  کے مطابق صرف ہماچل پردیش میں 50 گیگاواٹ سے زیادہ سولر صلاحیت موجود ہے، جس میں سے 15 سے 24 گیگاواٹ فوراً بروئے کار لائی جا سکتی ہے۔ تقسیم شدہ چھتوں پر سولر پینلز دیہی گھروں کو بااختیار بنا سکتے ہیں، گرڈ پر انحصار کم کر سکتے ہیں اور قدرتی آفات کے دوران لچک فراہم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لداخ میں حیران کن طور پر 1,314 گیگاواٹ کی ہوا کی صلاحیت موجود ہے—جو دنیا کے سب سے بڑے غیر استعمال شدہ ذخائر میں سے ایک ہے—جبکہ جموں و کشمیر میں تقریباً 5,700 میگاواٹ کی ہوا کی صلاحیت کے ساتھ وسیع سولر امکانات بھی ہیں، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وِنڈ انرجی کے مطابق۔ یہ تینوں ہمالیائی خطے مل کر بھارت کی تجدید پذیر توانائی کی انقلاب کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ پن بجلی کے برعکس، جو ڈھلوانوں اور دریاؤں کو تباہ کرتی ہے، سولر اور وِنڈ ماحولیاتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں۔ ڈیموں کے برعکس، جو خشک سالی اور گلیشیئر کے پگھلنے سے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، سولر پینلز اور وِنڈ ٹربائنز انہی حالات میں پھلتے پھولتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہ سراسر حماقت ہے کہ بھارت اب بھی ڈیموں پر اربوں ڈالر جھونک رہا ہے جبکہ اس کے عوام کو سورج اور ہوا سے زیادہ سستی، صاف اور محفوظ بجلی مل سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے بالواسطہ طور پر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے: پن بجلی اب ماحولیاتی غیر یقینی  کے دور میں قابلِ عمل نہیں رہی۔</p>
</blockquote>
<p>اس فیصلے کی گہری اہمیت اس تضاد میں ہے جو یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی ماہرین نے پانی کی سلامتی کو ایک ڈونر سرکس میں بدل دیا، نعروں کو پیدا کیا لیکن سائنس نہیں۔ بھارت میں، چاہے بحث تاخیر سے ہی شروع ہوئی ہو، مگر یہ عدالتوں تک پہنچی، جہاں جج حضرات انجینئروں اور حقیقی ماہرینِ موسمیاتی تبدیلی پر انحصار کرنے کو تیار تھے، نہ کہ این جی اوز کی پریس ریلیزوں پر۔ یہی فرق ہے کھوکھلی سرگرمی اور سنجیدہ حکمرانی کے درمیان۔ پھر بھی دونوں ممالک قصوروار ہیں: پاکستان اس لیے کہ اس نے جعلی ماہرین کو برداشت کیا، بھارت اس لیے کہ اس نے غیر ذمہ دار پن بجلی قوم پرستی کو اپنایا۔</p>
<p>یہ دوہرا ناکام پن دونوں طرف کی سیاسی قیادت کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ مودی کی حکومت، جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں نمائشی ڈیموں کے جنون میں مبتلا ہے، اس نے قابلِ تجدید توانائی کے معاشی منطق کو نظرانداز کیا۔ اسلام آباد کا حکمران طبقہ، ڈونر انحصار کے مفلوج اثر میں، این جی اوز کو ماحولیاتی ایجنڈا طے کرنے دیتا رہا—بغیر کسی نتیجے کے۔ دونوں صورتوں میں عام شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے—چاہے وہ ہماچل میں اچانک آنے والے سیلاب ہوں یا سندھ میں پانی کی قلت۔</p>
<p>اس تجزیے کے مصنفین—ایک ماہرِ معاشیات/وکیل اور دوسرا انجینئر، دونوں کو 35 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے—ایک واضح سفارش پیش کرتے ہیں۔ بھارت کو اپنے پرانے ڈیموں کے جنون کو ترک کرنا ہوگا۔ پن بجلی نہ سستی ہے، نہ صاف اور نہ ہی پائیدار۔ اس کے انسانی، ماحولیاتی اور مالیاتی اخراجات اب اس کے فوائد سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ مستقبل سورج اور ہوا میں ہے—ایسی ترکیب جو بجلی کو پن بجلی کے مقابلے میں تقریباً نصف نرخ پر فراہم کر سکتی ہے، اور ماحولیاتی توازن کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔</p>
<p>بھارت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں نئے ڈیم منصوبوں کو روک دیا جائے، جہاں تعمیرات عوامی ضرورتوں کے بجائے سیاسی ایجنڈوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جعلی ماہرین کو ماحولیاتی گفتگو سے نکالا جائے اور ڈونر کی دکھاوا بازی کو سائنس پر مبنی سنجیدہ پالیسی سے بدلا جائے۔ دونوں کے لیے اس کا مطلب ہے بھارتی سپریم کورٹ کے سنہری الفاظ کو سننا: ماحولیاتی منصوبہ بندی کے بغیر ترقی خودکشی ہے۔</p>
<p>اگرچہ بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ درحقیقت اس کا ماحولیاتی احیا ہے۔ دریاؤں اور پہاڑوں کی نزاکت پر زور دے کر، عدالت نے دونوں قوموں کو یاد دلایا کہ پانی ہتھیار نہیں بلکہ ایک مشترکہ زندگی کی رگ ہے۔ سیاسی حکومتیں گر سکتی ہیں، لیکن ماحولیاتی نظام ایک بار تباہ ہو جائے تو دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>اسی لیے یہ فیصلہ سراہنے کے لائق ہے۔ یہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور اخلاقی تنبیہ ہے۔ اس نے وہ کام کر دیا جو دونوں طرف کی وزارتیں کرنے میں ناکام رہیں۔ شرم ججوں پر نہیں بلکہ ان حکومتوں پر ہے جنہوں نے انہیں مداخلت پر مجبور کیا۔</p>
<p>جنوبی ایشیا اب ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستے پر ہے پن بجلی کی نمائشی خواہش، این جی اوز کی جعلی سرگرمی اور ماحولیاتی تباہی۔ دوسرے راستے پر ہے قابلِ تجدید توانائی، سنجیدہ سائنس اور ماحولیاتی توازن۔ انتخاب کڑا ہے مگر سادہ۔</p>
<p>اگر بھارت سیاست کے نام پر ڈیم بناتا رہا تو سب سے پہلے اپنے ہی عوام کے ساتھ غداری کرے گا، انہیں سیلابوں، بجلی کے بریک ڈاؤن اور بڑھتی ہوئی بجلی کی لاگت میں دھکیل دے گا۔ اگر پاکستان ماحولیاتی ماہر کہلانے والے جعلی ماہرین کو برداشت کرتا رہا تو وہ سیلاب اور خشک سالی کے لیے تیار نہیں رہے گا، ہمیشہ ڈونرز پر انحصار کرتا رہے گا۔ دونوں ممالک کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی اصل دولت دریاؤں کو روکنے میں نہیں بلکہ سورج اور ہوا کو بروئے کار لانے میں ہے۔</p>
<p>سندھ طاس معاہدہ ایک دن دوبارہ باضابطہ طور پر بحال ہو سکتا ہے، لیکن اس کی روح کو بھارتی سپریم کورٹ نے پہلے ہی زندہ کر دیا ہے۔ اس نے جنوبی ایشیا کو ایک قدیم سچائی یاد دلائی ہے: دریا جغرافیائی سیاست کے اوزار نہیں بلکہ زندگی کی رگیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دہلی اور اسلام آباد کے رہنما عمل کرنے کی دانش رکھتے ہیں—یا وہ اس آخری تنبیہ کو بھی ضائع کر دیں گے، اپنے پیچھے ٹوٹے ہوئے ڈیم، ٹوٹے ہوئے معاہدے اور ٹوٹا ہوا مستقبل چھوڑ کر۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277182</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 11:44:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹراکرام الحقانجینئر ارشد ایچ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/19114159ac4665e.webp" type="image/webp" medium="image" height="693" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/19114159ac4665e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
