<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروباری طبقے اور صارفین کی الگ الگ معاشی دنیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277176/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ پانچ برسوں کے بیشتر حصے میں، یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں کاروباری طبقہ اور صارفین دو مختلف معاشی دنیاؤں میں جی رہے تھے۔ جب ایک امید کے ساتھ اوپر دیکھتا تھا، تو دوسرا نیچے دیکھتا یا معاشی بحالی پر کم قائل ہوتا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جذبات کو جانچنے والے سروے (سینٹیمنٹ سروے) کبھی اچانک اوپر نیچے ہو جاتے ہیں لیکن کچھ رجحانات ایسے ہوتے ہیں جو ناقابلِ انکار اور مسلسل رہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین بزنس اور کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فرق بالآخر سکڑ رہا ہے۔ تاہم اس کی وجہ یہ نہیں کہ صارفین اچانک امید سے بھر گئے ہیں بلکہ اس لیے کہ کاروباری طبقہ اب اسی جذباتی کیفیت کو محسوس کر رہا ہے جو صارفین پہلے سے محسوس کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--datawrapper  media__item--relative'&gt;&lt;iframe id="datawrapper-chart-MEoyk" src="//datawrapper.dwcdn.net/MEoyk/1/" scrolling="no" frameborder="0" allowtransparency="true" allowfullscreen="allowfullscreen" webkitallowfullscreen="webkitallowfullscreen" mozallowfullscreen="mozallowfullscreen" oallowfullscreen="oallowfullscreen" msallowfullscreen="msallowfullscreen" height="100%" width="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script type="text/javascript"&gt;if("undefined"==typeof window.datawrapper)window.datawrapper={};window.datawrapper["MEoyk"]={},window.datawrapper["MEoyk"].embedDeltas={"100":678,"200":626,"300":600,"400":600,"500":600,"600":600,"700":600,"800":600,"900":600,"1000":600},window.datawrapper["MEoyk"].iframe=document.getElementById("datawrapper-chart-MEoyk"),window.datawrapper["MEoyk"].iframe.style.height=window.datawrapper["MEoyk"].embedDeltas[Math.min(1e3,Math.max(100*Math.floor(window.datawrapper["MEoyk"].iframe.offsetWidth/100),100))]+"px",window.addEventListener("message",function(a){if("undefined"!=typeof a.data["datawrapper-height"])for(var b in a.data["datawrapper-height"])if("MEoyk"==b)window.datawrapper["MEoyk"].iframe.style.height=a.data["datawrapper-height"][b]+"px"});&lt;/script&gt; &lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2025 کی تازہ ترین ریڈنگ میں صارفین کے اعتماد میں 7 فیصد کمی آئی جبکہ کاروباری اعتماد میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ہوئی۔ جب مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کم کرنا شروع کیا تو دونوں معاشی فریقین نے کھوئے ہوئے اعتماد میں سے کچھ دوبارہ حاصل کیا، لیکن کاروباری طبقے کے لیے اعتماد میں اضافہ درمیانی سطح کے قریب رہا، اس کے برعکس جو عام طور پر کسی حقیقی معاشی ترقی پر ظاہر ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، حالیہ مہینوں میں کمپنیوں میں خوش امیدی محض 51 کے ذرا اوپر تک محدود ہوگئی ہے۔ یہ واپسی خاصی معنی خیز ہے۔ شاید مستقل غیر یقینی صورتحال پہلے کی پرامیدی کو کم کر رہی ہے یا پھر کمپنیاں حکومتی پالیسیوں کو اب کاروبار دوست نہیں سمجھ رہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پالیسی ریٹ گزشتہ چار چکروں سے بدستور ایک ہی سطح پر قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی جب شرحِ سود پر فیصلہ کرتی ہے تو ان میں سے ایک اعدادوشمار جسے دیکھا جاتا ہے وہ بزنس اور کنزیومر کانفیڈنس سروے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ شرحِ سود کو مستقل رکھنے کا محتاط فیصلہ کاروباری اعتماد ہی سے اخذ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--datawrapper  media__item--relative'&gt;&lt;iframe id="datawrapper-chart-mOybV" src="//datawrapper.dwcdn.net/mOybV/1/" scrolling="no" frameborder="0" allowtransparency="true" allowfullscreen="allowfullscreen" webkitallowfullscreen="webkitallowfullscreen" mozallowfullscreen="mozallowfullscreen" oallowfullscreen="oallowfullscreen" msallowfullscreen="msallowfullscreen" height="100%" width="100%"&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;script type="text/javascript"&gt;if("undefined"==typeof window.datawrapper)window.datawrapper={};window.datawrapper["mOybV"]={},window.datawrapper["mOybV"].embedDeltas={"100":678,"200":626,"300":600,"400":600,"500":600,"600":600,"700":600,"800":600,"900":600,"1000":600},window.datawrapper["mOybV"].iframe=document.getElementById("datawrapper-chart-mOybV"),window.datawrapper["mOybV"].iframe.style.height=window.datawrapper["mOybV"].embedDeltas[Math.min(1e3,Math.max(100*Math.floor(window.datawrapper["mOybV"].iframe.offsetWidth/100),100))]+"px",window.addEventListener("message",function(a){if("undefined"!=typeof a.data["datawrapper-height"])for(var b in a.data["datawrapper-height"])if("mOybV"==b)window.datawrapper["mOybV"].iframe.style.height=a.data["datawrapper-height"][b]+"px"});&lt;/script&gt; &lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک چاہتا ہے کہ شرحِ سود مثبت رہے، 3 سے 5 فیصد کے درمیان، تاکہ کرنٹ اکاؤنٹ کو سہارا دیا جا سکے، درآمدی طلب کو قابو میں رکھا جائے اور ایکسچینج ریٹ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کی شرحوں میں کمی کاروباری طبقے کے لیے تسلی بخش رہی ہے لیکن وہ اپنی برداشت کی حد تک پہنچ رہے ہیں کیونکہ مثبت شرح سود ان کے قرض کے اخراجات کو بلند رکھے ہوئے ہے۔ کاروباری طبقے کو اپنی ناراضی میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ان کی خواہش کے مطابق اگر شرحِ سود بلند ہی رہے، تو درمیانی مدت میں کرنٹ اکاؤنٹ اور کرنسی کا استحکام انہیں فائدہ ہی پہنچائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین شاید ایک مختلف اور زیادہ محتاط مخلوق ہیں۔ اگرچہ صارفین کا اعتماد ریکارڈ کم ترین سطح سے کچھ بہتر ہوا ہے لیکن یہ بحالی انتہائی معمولی ہے اور اب بھی درمیانی سطح سے کافی پیچھے ہے، 30 کی حد میں رکا ہوا، کورونا کے دنوں کے قریب لیکن پھر بھی کاروباری سطحوں تک پہنچنے کی کوشش میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ صارفین افراطِ زر اور اس کی توقعات کے معاملے میں نہایت حساس ہیں۔ اگست 2024 میں افراطِ زر 9.6 فیصد سے گر کر اگست 2025 میں 3 فیصد پر آ گیا ہے جو صارفین کی افراطِ زر کی توقعات کے ساتھ میل کھاتا ہے (گراف میں دیکھا جا سکتا ہے کہ توقعات نیچے آ رہی ہیں) اور اس سے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گاڑیوں اور دیگر چھوٹے قرضوں کے لیے ادھار لینا کم مہنگا ہو گیا ہے۔ تاہم، جیسے ہی سیلاب آئے ہیں، توقع ہے کہ افراطِ زر دوبارہ زور پکڑے گا جو صارفین کے اعتماد کو لازمی طور پر الٹی سمت میں لے جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی کمپنیاں زیادہ تر قیمتوں کا تعین کرنے کی طاقت رکھتی ہیں اور حتیٰ کہ جب طلب کم ہو گئی، تب بھی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ کمپنیاں معاشی گراوٹ کے دوران بھی منافع کماتی رہیں۔ دوسری جانب، صارفین کو نوکریوں سے محرومی، تنخواہوں میں کٹوتی اور انکریمنٹ کے رکنے جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ زیادہ افراطِ زر کے ساتھ گزارا کرنا پڑا۔ جمی ہوئی اجرتوں پر بڑھتے ہوئے ٹیکس کا بوجھ خوشی کا باعث نہیں بنتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نکتہ نظر اہمیت رکھتا ہے۔ بڑی کمپنیاں ایسے بفرز یا حفاظتی ریل رکھتے ہیں جو گھریلو صارفین کے پاس نہیں ہوتے۔ کریڈٹ تک رسائی، قیمتیں بڑھانے کی طاقت اور پالیسی سہولیات سب مل کر انہیں جھٹکوں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن صارفین، خاص طور پر درمیانے اور نچلے طبقے، معیشت کا براہِ راست سامنا کرتے ہیں۔ ہر روپیہ اہم ہے، اور اجرت منجمد ہونے یا ٹیکس بڑھنے سے ان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب افراطِ زر کم ہوتا ہے، توقعات پیچھے رہ جاتی ہیں اور خرچ کرنے میں احتیاط برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب کہانی بلند حوصلہ امیدوں سے زیادہ میل جول اور قریب آنے کی ہے۔ کاروباری طبقہ اب آگے نہیں بڑھ رہا، اور صارفین اب مزید پیچھے نہیں گر رہے۔ دونوں ایک بے چین درمیانی سطح پر مل رہے ہیں، لیکن آیا یہ مشترکہ اعتماد ہے یا مشترکہ شک و شبہ، یہ بحث طلب ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ پانچ برسوں کے بیشتر حصے میں، یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں کاروباری طبقہ اور صارفین دو مختلف معاشی دنیاؤں میں جی رہے تھے۔ جب ایک امید کے ساتھ اوپر دیکھتا تھا، تو دوسرا نیچے دیکھتا یا معاشی بحالی پر کم قائل ہوتا۔</strong></p>
<p>جذبات کو جانچنے والے سروے (سینٹیمنٹ سروے) کبھی اچانک اوپر نیچے ہو جاتے ہیں لیکن کچھ رجحانات ایسے ہوتے ہیں جو ناقابلِ انکار اور مسلسل رہتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین بزنس اور کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فرق بالآخر سکڑ رہا ہے۔ تاہم اس کی وجہ یہ نہیں کہ صارفین اچانک امید سے بھر گئے ہیں بلکہ اس لیے کہ کاروباری طبقہ اب اسی جذباتی کیفیت کو محسوس کر رہا ہے جو صارفین پہلے سے محسوس کر رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--datawrapper  media__item--relative'><iframe id="datawrapper-chart-MEoyk" src="//datawrapper.dwcdn.net/MEoyk/1/" scrolling="no" frameborder="0" allowtransparency="true" allowfullscreen="allowfullscreen" webkitallowfullscreen="webkitallowfullscreen" mozallowfullscreen="mozallowfullscreen" oallowfullscreen="oallowfullscreen" msallowfullscreen="msallowfullscreen" height="100%" width="100%"></iframe>
<script type="text/javascript">if("undefined"==typeof window.datawrapper)window.datawrapper={};window.datawrapper["MEoyk"]={},window.datawrapper["MEoyk"].embedDeltas={"100":678,"200":626,"300":600,"400":600,"500":600,"600":600,"700":600,"800":600,"900":600,"1000":600},window.datawrapper["MEoyk"].iframe=document.getElementById("datawrapper-chart-MEoyk"),window.datawrapper["MEoyk"].iframe.style.height=window.datawrapper["MEoyk"].embedDeltas[Math.min(1e3,Math.max(100*Math.floor(window.datawrapper["MEoyk"].iframe.offsetWidth/100),100))]+"px",window.addEventListener("message",function(a){if("undefined"!=typeof a.data["datawrapper-height"])for(var b in a.data["datawrapper-height"])if("MEoyk"==b)window.datawrapper["MEoyk"].iframe.style.height=a.data["datawrapper-height"][b]+"px"});</script> </div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ستمبر 2025 کی تازہ ترین ریڈنگ میں صارفین کے اعتماد میں 7 فیصد کمی آئی جبکہ کاروباری اعتماد میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ہوئی۔ جب مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کم کرنا شروع کیا تو دونوں معاشی فریقین نے کھوئے ہوئے اعتماد میں سے کچھ دوبارہ حاصل کیا، لیکن کاروباری طبقے کے لیے اعتماد میں اضافہ درمیانی سطح کے قریب رہا، اس کے برعکس جو عام طور پر کسی حقیقی معاشی ترقی پر ظاہر ہوتا۔</p>
<p>درحقیقت، حالیہ مہینوں میں کمپنیوں میں خوش امیدی محض 51 کے ذرا اوپر تک محدود ہوگئی ہے۔ یہ واپسی خاصی معنی خیز ہے۔ شاید مستقل غیر یقینی صورتحال پہلے کی پرامیدی کو کم کر رہی ہے یا پھر کمپنیاں حکومتی پالیسیوں کو اب کاروبار دوست نہیں سمجھ رہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پالیسی ریٹ گزشتہ چار چکروں سے بدستور ایک ہی سطح پر قائم ہے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی جب شرحِ سود پر فیصلہ کرتی ہے تو ان میں سے ایک اعدادوشمار جسے دیکھا جاتا ہے وہ بزنس اور کنزیومر کانفیڈنس سروے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ شرحِ سود کو مستقل رکھنے کا محتاط فیصلہ کاروباری اعتماد ہی سے اخذ کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--datawrapper  media__item--relative'><iframe id="datawrapper-chart-mOybV" src="//datawrapper.dwcdn.net/mOybV/1/" scrolling="no" frameborder="0" allowtransparency="true" allowfullscreen="allowfullscreen" webkitallowfullscreen="webkitallowfullscreen" mozallowfullscreen="mozallowfullscreen" oallowfullscreen="oallowfullscreen" msallowfullscreen="msallowfullscreen" height="100%" width="100%"></iframe>
<script type="text/javascript">if("undefined"==typeof window.datawrapper)window.datawrapper={};window.datawrapper["mOybV"]={},window.datawrapper["mOybV"].embedDeltas={"100":678,"200":626,"300":600,"400":600,"500":600,"600":600,"700":600,"800":600,"900":600,"1000":600},window.datawrapper["mOybV"].iframe=document.getElementById("datawrapper-chart-mOybV"),window.datawrapper["mOybV"].iframe.style.height=window.datawrapper["mOybV"].embedDeltas[Math.min(1e3,Math.max(100*Math.floor(window.datawrapper["mOybV"].iframe.offsetWidth/100),100))]+"px",window.addEventListener("message",function(a){if("undefined"!=typeof a.data["datawrapper-height"])for(var b in a.data["datawrapper-height"])if("mOybV"==b)window.datawrapper["mOybV"].iframe.style.height=a.data["datawrapper-height"][b]+"px"});</script> </div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسٹیٹ بینک چاہتا ہے کہ شرحِ سود مثبت رہے، 3 سے 5 فیصد کے درمیان، تاکہ کرنٹ اکاؤنٹ کو سہارا دیا جا سکے، درآمدی طلب کو قابو میں رکھا جائے اور ایکسچینج ریٹ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>اب تک کی شرحوں میں کمی کاروباری طبقے کے لیے تسلی بخش رہی ہے لیکن وہ اپنی برداشت کی حد تک پہنچ رہے ہیں کیونکہ مثبت شرح سود ان کے قرض کے اخراجات کو بلند رکھے ہوئے ہے۔ کاروباری طبقے کو اپنی ناراضی میں جلدبازی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ان کی خواہش کے مطابق اگر شرحِ سود بلند ہی رہے، تو درمیانی مدت میں کرنٹ اکاؤنٹ اور کرنسی کا استحکام انہیں فائدہ ہی پہنچائے گا۔</p>
<p>صارفین شاید ایک مختلف اور زیادہ محتاط مخلوق ہیں۔ اگرچہ صارفین کا اعتماد ریکارڈ کم ترین سطح سے کچھ بہتر ہوا ہے لیکن یہ بحالی انتہائی معمولی ہے اور اب بھی درمیانی سطح سے کافی پیچھے ہے، 30 کی حد میں رکا ہوا، کورونا کے دنوں کے قریب لیکن پھر بھی کاروباری سطحوں تک پہنچنے کی کوشش میں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ صارفین افراطِ زر اور اس کی توقعات کے معاملے میں نہایت حساس ہیں۔ اگست 2024 میں افراطِ زر 9.6 فیصد سے گر کر اگست 2025 میں 3 فیصد پر آ گیا ہے جو صارفین کی افراطِ زر کی توقعات کے ساتھ میل کھاتا ہے (گراف میں دیکھا جا سکتا ہے کہ توقعات نیچے آ رہی ہیں) اور اس سے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>گاڑیوں اور دیگر چھوٹے قرضوں کے لیے ادھار لینا کم مہنگا ہو گیا ہے۔ تاہم، جیسے ہی سیلاب آئے ہیں، توقع ہے کہ افراطِ زر دوبارہ زور پکڑے گا جو صارفین کے اعتماد کو لازمی طور پر الٹی سمت میں لے جائے گا۔</p>
<p>یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستانی کمپنیاں زیادہ تر قیمتوں کا تعین کرنے کی طاقت رکھتی ہیں اور حتیٰ کہ جب طلب کم ہو گئی، تب بھی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ کمپنیاں معاشی گراوٹ کے دوران بھی منافع کماتی رہیں۔ دوسری جانب، صارفین کو نوکریوں سے محرومی، تنخواہوں میں کٹوتی اور انکریمنٹ کے رکنے جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ زیادہ افراطِ زر کے ساتھ گزارا کرنا پڑا۔ جمی ہوئی اجرتوں پر بڑھتے ہوئے ٹیکس کا بوجھ خوشی کا باعث نہیں بنتا۔</p>
<p>نکتہ نظر اہمیت رکھتا ہے۔ بڑی کمپنیاں ایسے بفرز یا حفاظتی ریل رکھتے ہیں جو گھریلو صارفین کے پاس نہیں ہوتے۔ کریڈٹ تک رسائی، قیمتیں بڑھانے کی طاقت اور پالیسی سہولیات سب مل کر انہیں جھٹکوں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔ لیکن صارفین، خاص طور پر درمیانے اور نچلے طبقے، معیشت کا براہِ راست سامنا کرتے ہیں۔ ہر روپیہ اہم ہے، اور اجرت منجمد ہونے یا ٹیکس بڑھنے سے ان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب افراطِ زر کم ہوتا ہے، توقعات پیچھے رہ جاتی ہیں اور خرچ کرنے میں احتیاط برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>اب کہانی بلند حوصلہ امیدوں سے زیادہ میل جول اور قریب آنے کی ہے۔ کاروباری طبقہ اب آگے نہیں بڑھ رہا، اور صارفین اب مزید پیچھے نہیں گر رہے۔ دونوں ایک بے چین درمیانی سطح پر مل رہے ہیں، لیکن آیا یہ مشترکہ اعتماد ہے یا مشترکہ شک و شبہ، یہ بحث طلب ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277176</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 11:05:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/191049262f5e2ce.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/191049262f5e2ce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
