<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کو سال 2011 سے 2016 کے دوران رعایتی ٹکٹس سے 9 ارب روپے کا نقصان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277173/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو 2011 سے 2016 کے دوران مفت اور رعایتی ٹکٹس کی فراہمی سے 9 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی مالی سال 2024-25 کی کنسولیڈیٹڈ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پی آئی اے ایل سی ایل کے اسپیشل آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ انتظامیہ نے 2011 سے 2016 کے دوران مسافروں اور ملازمین کو 1,90,724 رعایتی ٹکٹس جاری کیے، جن میں رعایت 25 فیصد سے 95 فیصد تک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے 1,16,273 ٹکٹس غیر ملازم مسافروں کو 95 فیصد رعایت کے ساتھ اندرون و بیرون ملک پروازوں پر دیے گئے، جس کے تحت صرف 5 فیصد کرایہ وصول کیا گیا۔ اس بے تحاشا رعایت کی وجہ سے 3.5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے ان رعایتی کرایوں کے لیے چیئرمین یا منیجنگ ڈائریکٹر سے منظوری حاصل نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ 2008 سے 2017 تک، انتظامیہ نے 2,58,990 مسافروں کو مفت سفر کی اجازت دی، اور ادارے کی مالی پوزیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا، جس سے 5.55 ارب روپے کا نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ کے مطابق ملازمین کے علاوہ دیگر مسافروں کو مفت ٹکٹس فراہم کرنے کا عمل مالی احتیاطی تدبیر میں کمزوری، صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال، داخلی کنٹرول کی کمی اور شفافیت و احتساب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ انتظامیہ نے ادارے کی مالی حالت کو یکسر نظر انداز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، چیئرمین یا منیجنگ ڈائریکٹر سے منظوری لیے بغیر مسافروں کو رعایتی ٹکٹس جاری کرنے سے شفافیت، احتساب اور وضع شدہ پالیسیوں و طریقہ کار پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ جولائی 2018 سے ستمبر 2018 کے دوران انتظامیہ کو رپورٹ کیا گیا۔ اس دفتر نے 8 مارچ 2019 کو سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن، اسلام آباد (بطور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر) کو ڈی اے سی اجلاس بلانے کے لیے کہا، اور اس حوالے سے 8 یاددہانیاں بھی بھجوائیں۔ جواب میں پی اے او نے 12 سے 14 جولائی 2021 کو ڈی اے سی اجلاس بلایا، جس میں صرف تین ابواب (4.1، 4.2 اور 4.3) پر بحث ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے باقی حصے پر اجلاس بلانے اور زیرِ بحث پیراگراف پر تیار کردہ ڈرافٹ منٹس فراہم کرنے کی درخواست 5 نومبر 2021 کو دوبارہ کی گئی، جس کے بعد جولائی 2022 سے فروری 2023 تک 9 یاد دہانیاں بھی بھیجی گئیں۔ تاہم پی اے او کی جانب سے نہ تو مزید ڈی اے سی اجلاس بلایا گیا اور نہ ہی ڈرافٹ منٹس آڈٹ کو جانچ کے لیے فراہم کیے گئے، یہاں تک کہ یہ آڈٹ رپورٹ حتمی طور پر تیار ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو 2011 سے 2016 کے دوران مفت اور رعایتی ٹکٹس کی فراہمی سے 9 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔</strong></p>
<p>آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی مالی سال 2024-25 کی کنسولیڈیٹڈ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، پی آئی اے ایل سی ایل کے اسپیشل آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ انتظامیہ نے 2011 سے 2016 کے دوران مسافروں اور ملازمین کو 1,90,724 رعایتی ٹکٹس جاری کیے، جن میں رعایت 25 فیصد سے 95 فیصد تک تھی۔</p>
<p>ان میں سے 1,16,273 ٹکٹس غیر ملازم مسافروں کو 95 فیصد رعایت کے ساتھ اندرون و بیرون ملک پروازوں پر دیے گئے، جس کے تحت صرف 5 فیصد کرایہ وصول کیا گیا۔ اس بے تحاشا رعایت کی وجہ سے 3.5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انتظامیہ نے ان رعایتی کرایوں کے لیے چیئرمین یا منیجنگ ڈائریکٹر سے منظوری حاصل نہیں کی۔</p>
<p>مزید یہ کہ 2008 سے 2017 تک، انتظامیہ نے 2,58,990 مسافروں کو مفت سفر کی اجازت دی، اور ادارے کی مالی پوزیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا، جس سے 5.55 ارب روپے کا نقصان ہوا۔</p>
<p>آڈٹ کے مطابق ملازمین کے علاوہ دیگر مسافروں کو مفت ٹکٹس فراہم کرنے کا عمل مالی احتیاطی تدبیر میں کمزوری، صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال، داخلی کنٹرول کی کمی اور شفافیت و احتساب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ انتظامیہ نے ادارے کی مالی حالت کو یکسر نظر انداز کیا۔</p>
<p>مزید برآں، چیئرمین یا منیجنگ ڈائریکٹر سے منظوری لیے بغیر مسافروں کو رعایتی ٹکٹس جاری کرنے سے شفافیت، احتساب اور وضع شدہ پالیسیوں و طریقہ کار پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>یہ معاملہ جولائی 2018 سے ستمبر 2018 کے دوران انتظامیہ کو رپورٹ کیا گیا۔ اس دفتر نے 8 مارچ 2019 کو سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن، اسلام آباد (بطور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر) کو ڈی اے سی اجلاس بلانے کے لیے کہا، اور اس حوالے سے 8 یاددہانیاں بھی بھجوائیں۔ جواب میں پی اے او نے 12 سے 14 جولائی 2021 کو ڈی اے سی اجلاس بلایا، جس میں صرف تین ابواب (4.1، 4.2 اور 4.3) پر بحث ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ کے باقی حصے پر اجلاس بلانے اور زیرِ بحث پیراگراف پر تیار کردہ ڈرافٹ منٹس فراہم کرنے کی درخواست 5 نومبر 2021 کو دوبارہ کی گئی، جس کے بعد جولائی 2022 سے فروری 2023 تک 9 یاد دہانیاں بھی بھیجی گئیں۔ تاہم پی اے او کی جانب سے نہ تو مزید ڈی اے سی اجلاس بلایا گیا اور نہ ہی ڈرافٹ منٹس آڈٹ کو جانچ کے لیے فراہم کیے گئے، یہاں تک کہ یہ آڈٹ رپورٹ حتمی طور پر تیار ہوئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277173</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Sep 2025 10:10:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1910073197fa02a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1910073197fa02a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
