<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 08:26:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 08:26:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چارلی کرک کے قتل پر تبصرہ: جمی کیمل کا شو اے بی سی سے ہٹا دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277150/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;والٹ ڈزنی کی ملکیت والے ٹی وی چینل اے بی سی ( اےبی سی) نے لیٹ نائٹ شو  جمی کیمل لائیو  کو نشریات سے ہٹا دیا۔ یہ فیصلہ شو کے میزبان کے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر تبصروں کے بعد کیا گیا، جب ایک اعلیٰ امریکی ریگولیٹری ادارے کے سربراہ نے ڈزنی کو دھمکی دی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس خبر کا خیرمقدم کیا، جبکہ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اسے آزادیٔ اظہار رائے پر حملہ قرار دیا۔ یہ واقعہ میڈیا شخصیات اور دیگر ملازمین کے خلاف کارروائیوں کا تازہ ترین سلسلہ ہے جنہیں کرک کے قتل پر تبصرہ کرنے پر برطرف کیا یا معطل کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کِمّل نے اپنے شو میں کہا کہ ماگا گروہ نے پوری کوشش کی کہ چارلی کرک کے قاتل کو اپنے گروہ کا فرد نہ دکھایا جائے بلکہ کچھ اور ثابت کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبصروں پر فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن ( ایف سی سی ) کے چیئرمین برینڈن کیر نے مقامی براڈکاسٹرز کو کیمل کا شو نشر نہ کرنے کا کہا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر نشریات جاری رہیں تو جرمانے یا لائسنس منسوخ ہو سکتے ہیں۔ کیر کے بیان کے بعد نیکسٹار میڈیا گروپ نے اپنے 32 اسٹیشنوں پر شو کی نشریات روک دیں اور اس کے فوراً بعد اے بی سی نے بھی کیمل کا شو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنکلیئر،جو ملک کا سب سے بڑا اے بی سی سے منسلک گروپ ہے، نے بھی کہا کہ وہ کیمل کے شو کو دوبارہ نشر نہیں کرے گا۔ ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو  کھلی سنسر شپ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>والٹ ڈزنی کی ملکیت والے ٹی وی چینل اے بی سی ( اےبی سی) نے لیٹ نائٹ شو  جمی کیمل لائیو  کو نشریات سے ہٹا دیا۔ یہ فیصلہ شو کے میزبان کے قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل پر تبصروں کے بعد کیا گیا، جب ایک اعلیٰ امریکی ریگولیٹری ادارے کے سربراہ نے ڈزنی کو دھمکی دی تھی۔</strong></p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس خبر کا خیرمقدم کیا، جبکہ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اسے آزادیٔ اظہار رائے پر حملہ قرار دیا۔ یہ واقعہ میڈیا شخصیات اور دیگر ملازمین کے خلاف کارروائیوں کا تازہ ترین سلسلہ ہے جنہیں کرک کے قتل پر تبصرہ کرنے پر برطرف کیا یا معطل کیا گیا ہے۔</p>
<p>کِمّل نے اپنے شو میں کہا کہ ماگا گروہ نے پوری کوشش کی کہ چارلی کرک کے قاتل کو اپنے گروہ کا فرد نہ دکھایا جائے بلکہ کچھ اور ثابت کیا جائے۔</p>
<p>ان تبصروں پر فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن ( ایف سی سی ) کے چیئرمین برینڈن کیر نے مقامی براڈکاسٹرز کو کیمل کا شو نشر نہ کرنے کا کہا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر نشریات جاری رہیں تو جرمانے یا لائسنس منسوخ ہو سکتے ہیں۔ کیر کے بیان کے بعد نیکسٹار میڈیا گروپ نے اپنے 32 اسٹیشنوں پر شو کی نشریات روک دیں اور اس کے فوراً بعد اے بی سی نے بھی کیمل کا شو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔</p>
<p>سنکلیئر،جو ملک کا سب سے بڑا اے بی سی سے منسلک گروپ ہے، نے بھی کہا کہ وہ کیمل کے شو کو دوبارہ نشر نہیں کرے گا۔ ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو  کھلی سنسر شپ قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277150</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Sep 2025 15:12:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1814191138c4ab3.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1814191138c4ab3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
