<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب کی وجہ سے گاڑیوں کی طلب میں کمی کا خدشہ ہے، انڈس موٹر کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277139/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈس موٹر کمپنی، جو پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیاں اسمبل کرتی ہے، نے خبردار کیا ہے کہ جاری سیلاب ملک بھر میں سپلائی چین اور انفراسٹرکچر کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں صارفین کی کمزور ہوتی ہوئی قوتِ خرید قلیل مدت میں گاڑیوں کی طلب کو مزید دباؤ میں ڈال دے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے ایک کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران اپنے تجزیے میں کہا کہ
سیلاب اور مون سون کے سیزن کے مکمل اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں، تاہم قلیل مدت میں گاڑیوں کی طلب متاثر ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جو جون 2025 کے آخر میں شروع ہونے والے طویل مون سون سیزن کا حصہ ہیں اور ستمبر تک مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت خاص طور پر پنجاب کے گنجان آباد علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند روز قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے حالیہ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، انڈس موٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت 5 سال میں درآمدی گاڑیوں (نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں) اور آٹو پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی، اے سی ڈی اور آر ڈی میں بڑی کٹوتی مقامی آٹو انڈسٹری کو متاثر کرے گی اور تجارتی کاروبار کو فروغ دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا تھا کہ
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں سی کے ڈی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسیشن نظام کو بہتر اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ ایک پائیدار نظام قائم ہو جو پیداواری حجم میں اضافہ کرے اور مقامی آٹو انڈسٹری کے ذریعے معیشت میں زیادہ حصہ ڈالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم پالیسی سازوں سے درخواست کرتے ہیں کہ مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی آٹو فنانسنگ بڑھانے کے لیے موجودہ فنانسنگ حدود اور شرائط میں نرمی کی جائے تاکہ ان مشکل حالات میں انڈسٹری اور صارفین کی قوتِ خرید کو سہارا مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس موٹر نے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے قوانین میں نرمی، یعنی عمر کی حد کو 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنا اور کمرشل درآمدات کی اجازت دینا، استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے سیلاب کا باعث بن سکتا ہے جس سے مقامی آٹو انڈسٹری کی ڈی انڈسٹریلائزیشن  شروع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈس موٹر کمپنی، جو پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیاں اسمبل کرتی ہے، نے خبردار کیا ہے کہ جاری سیلاب ملک بھر میں سپلائی چین اور انفراسٹرکچر کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں صارفین کی کمزور ہوتی ہوئی قوتِ خرید قلیل مدت میں گاڑیوں کی طلب کو مزید دباؤ میں ڈال دے گی۔</strong></p>
<p>کمپنی نے ایک کارپوریٹ بریفنگ سیشن کے دوران اپنے تجزیے میں کہا کہ
سیلاب اور مون سون کے سیزن کے مکمل اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں، تاہم قلیل مدت میں گاڑیوں کی طلب متاثر ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>پاکستان اس وقت شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا کر رہا ہے جو جون 2025 کے آخر میں شروع ہونے والے طویل مون سون سیزن کا حصہ ہیں اور ستمبر تک مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت خاص طور پر پنجاب کے گنجان آباد علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔</p>
<p>چند روز قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے حالیہ سیلاب کے معیشت پر منفی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا، انڈس موٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت 5 سال میں درآمدی گاڑیوں (نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں) اور آٹو پارٹس پر کسٹم ڈیوٹی، اے سی ڈی اور آر ڈی میں بڑی کٹوتی مقامی آٹو انڈسٹری کو متاثر کرے گی اور تجارتی کاروبار کو فروغ دے گی۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا تھا کہ
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں سی کے ڈی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسیشن نظام کو بہتر اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ ایک پائیدار نظام قائم ہو جو پیداواری حجم میں اضافہ کرے اور مقامی آٹو انڈسٹری کے ذریعے معیشت میں زیادہ حصہ ڈالے۔</p>
<p>ہم پالیسی سازوں سے درخواست کرتے ہیں کہ مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کی آٹو فنانسنگ بڑھانے کے لیے موجودہ فنانسنگ حدود اور شرائط میں نرمی کی جائے تاکہ ان مشکل حالات میں انڈسٹری اور صارفین کی قوتِ خرید کو سہارا مل سکے۔</p>
<p>انڈس موٹر نے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے قوانین میں نرمی، یعنی عمر کی حد کو 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنا اور کمرشل درآمدات کی اجازت دینا، استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کے سیلاب کا باعث بن سکتا ہے جس سے مقامی آٹو انڈسٹری کی ڈی انڈسٹریلائزیشن  شروع ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277139</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Sep 2025 11:54:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/181151472f64350.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/181151472f64350.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
