<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:35:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن کا 22واں اجلاس تہران میں اختتام پذیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277128/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے دارالحکومت تہران میں 15 اور 16 ستمبر 2025 کو پاک-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کے 22ویں اجلاس کا کامیاب انعقاد ہوا، جس میں اہم پروٹوکولز پر دستخط کیے گئے اور دوطرفہ تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کو دہرانے گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اجلاس پاک-ایران اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جو دونوں ممالک کی باہمی خوشحالی اور تعاون کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی وزیر برائے شہری ترقی و سڑک، فرزانہ صادق نے کی۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ، رہائش، صحت، تعلیم اور ثقافتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں مستقبل کے تعاون کا خاکہ طے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم فیصلوں میں 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو گوادر تک دوبارہ شروع کرنے، بجلی کے تبادلے بڑھانے اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں پر تعاون شامل ہیں۔ زرعی شعبے میں ویٹرنری صحت، بیج، آلات، اور موسمیاتی چیلنجز جیسے ریت و گرد کے طوفانوں اور مینگرووز کے تحفظ پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ اور رابطہ کاری کے میدان میں روڈ، ریل، فضائی اور بحری روابط کو فروغ دینے، ریل کارگو میں اضافے، نیوی گیشن سروسز کو بہتر بنانے اور زائرین کے لیے فیری سروسز پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کے تحت ثقافتی میلوں، میڈیا تعاون، طلبہ کے تبادلے اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں پر اتفاق کیا گیا۔ صحت کے شعبے میں مشترکہ تربیت، دواؤں کی رجسٹریشن اور سرحدی امراض کی نگرانی پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے اختتامی اجلاس میں کہا کہ جامع پروٹوکول دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے لیے واضح روڈمیپ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی و سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ نوجوانوں، سائنس و ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے بھی اجلاس کے نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر ٹرانسپورٹ راہداری اور علاقائی رابطہ دونوں ممالک سمیت پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے جے ای سی جیسے ادارہ جاتی میکنزم کو مشترکہ وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کلیدی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے دارالحکومت تہران میں 15 اور 16 ستمبر 2025 کو پاک-ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کے 22ویں اجلاس کا کامیاب انعقاد ہوا، جس میں اہم پروٹوکولز پر دستخط کیے گئے اور دوطرفہ تجارت کا ہدف 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کو دہرانے گیا۔</strong></p>
<p>یہ اجلاس پاک-ایران اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جو دونوں ممالک کی باہمی خوشحالی اور تعاون کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔</p>
<p>پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی وزیر برائے شہری ترقی و سڑک، فرزانہ صادق نے کی۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، ٹرانسپورٹ، رہائش، صحت، تعلیم اور ثقافتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں مستقبل کے تعاون کا خاکہ طے کیا گیا۔</p>
<p>اہم فیصلوں میں 220 کے وی ٹرانسمیشن لائن منصوبے کو گوادر تک دوبارہ شروع کرنے، بجلی کے تبادلے بڑھانے اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں پر تعاون شامل ہیں۔ زرعی شعبے میں ویٹرنری صحت، بیج، آلات، اور موسمیاتی چیلنجز جیسے ریت و گرد کے طوفانوں اور مینگرووز کے تحفظ پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ اور رابطہ کاری کے میدان میں روڈ، ریل، فضائی اور بحری روابط کو فروغ دینے، ریل کارگو میں اضافے، نیوی گیشن سروسز کو بہتر بنانے اور زائرین کے لیے فیری سروسز پر غور کیا گیا۔</p>
<p>تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کے تحت ثقافتی میلوں، میڈیا تعاون، طلبہ کے تبادلے اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں پر اتفاق کیا گیا۔ صحت کے شعبے میں مشترکہ تربیت، دواؤں کی رجسٹریشن اور سرحدی امراض کی نگرانی پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ ہوا۔</p>
<p>جام کمال خان نے اختتامی اجلاس میں کہا کہ جامع پروٹوکول دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے لیے واضح روڈمیپ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی و سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ نوجوانوں، سائنس و ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔</p>
<p>ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے بھی اجلاس کے نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہتر ٹرانسپورٹ راہداری اور علاقائی رابطہ دونوں ممالک سمیت پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے جے ای سی جیسے ادارہ جاتی میکنزم کو مشترکہ وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کلیدی قرار دیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277128</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Sep 2025 09:51:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/18095010d9582f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="729" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/18095010d9582f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
