<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب سے متاثرہ بجلی صارفین، حکومت نے ریلیف پیکیج کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ ریلیف پیکیج وزیراعظم شہباز شریف آئندہ چند روز میں باضابطہ طور پر قوم کے سامنے پیش کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ آئی ایم ایف ہر تجویز پر فیصلہ کرنے سے قبل تفصیلی اعداد و شمار طلب کرتا ہے۔ وزیراعظم پہلے ہی اپنے قوم سے خطاب میں اگست 2025 کے مہینے کے لیے سیلاب متاثرہ صارفین کے بجلی کے بل معاف کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے ریلیف کا جائزہ لینے کے لیے سروے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری پاور نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اور بل ادا کرنے کی سکت نہ رکھنے والے صارفین کے لیے ہم نے آئی ایم ایف سے منظوری طلب کر لی ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نے سسٹم اور صارفین کے نقصانات کے تخمینے تیار کر کے آئی ایم ایف کو بھجوا دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے ایم این اے نوشین افتخار کی یہ تجویز مسترد کر دی کہ نادار صارفین کو بل قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی صارف کا بل 30 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے تقریباً ایک سال سے بل ادا نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 3 کروڑ 30 لاکھ بجلی کے صارفین ہیں، جن میں لائف لائن اور پروٹیکٹڈ صارفین پہلے ہی حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری پاور کے مطابق آئی ایم ایف نے مالی سال 2024-25 کے لیے 640 ارب روپے کے نقصانات کی گنجائش دی تھی، جبکہ حقیقی نقصانات 397 ارب روپے رہے۔ یہ پاور سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری کا اعتراف ہے۔ نئے مالی سال 2025-26 کے لیے نقصان کا ہدف 540 ارب روپے رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی اجلاس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شکایات پیش کیں۔ سیکریٹری پاور نے ہدایت کی کہ ڈسکوز اپنی لوڈشیڈنگ کے منصوبے نیپرا سے منظور کرائیں تاکہ بل ادا کرنے والے صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو اور سیپکو کی وصولیوں کی شرح ہدف سے 50 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ حیسکو اور سیپکو کو طویل المدتی رعایتی معاہدوں کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاہم ان کی ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے گی۔ حیسکو حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹرانسفارمرز پر میٹر نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ صرف نادہندگان یا بجلی چوری میں ملوث صارفین کا کنکشن منقطع ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری پاور نے آگاہ کیا کہ حیسکو اور سیپکو کو ایک سال میں 60 ارب روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ ارکان نے زور دیا کہ وقتی اقدامات کے بجائے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی جائیں۔ حیسکو نے نومبر 2024 میں نیپرا کو سرمایہ کاری منصوبہ جمع کرایا تھا جس پر پیشرفت کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ملازمین کی تقرریوں اور تبادلوں کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ ارکان نے مطالبہ کیا کہ اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ اپنے آبائی علاقوں میں ایڈجسٹ کیا جائے اور بے ضابطگیوں کی انکوائری کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے سی ای او نے بھی بریفنگ دی۔ ایم این اے رانا محمد حیات خان نے لیسکو میں اوور بلنگ ختم کرنے اور دو سال سے نامکمل منصوبے مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تباہ شدہ دھان اور گنے کی فصلوں کے باعث کسانوں کو کم از کم چھ ماہ کا جزوی ریلیف اور قرضوں میں سہولت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں شیخ آفتاب احمد، سیدہ نوشین افتخار، رانا محمد حیات خان، محمد شاہریار خان مہر، نعمان اسلام شیخ، سید وسیم حسین اور سنجے پروانی، اراکین قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ پاور ڈویژن کے سینئر افسران کے ساتھ ہی حیسکو، سیپکو، پسکو، لیسکو، آئسکو، جے پی سی ایل اور پی پی ایم سی کے نمائندے بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ ریلیف پیکیج وزیراعظم شہباز شریف آئندہ چند روز میں باضابطہ طور پر قوم کے سامنے پیش کریں گے۔</strong></p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ آئی ایم ایف ہر تجویز پر فیصلہ کرنے سے قبل تفصیلی اعداد و شمار طلب کرتا ہے۔ وزیراعظم پہلے ہی اپنے قوم سے خطاب میں اگست 2025 کے مہینے کے لیے سیلاب متاثرہ صارفین کے بجلی کے بل معاف کرنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے ریلیف کا جائزہ لینے کے لیے سروے جاری ہیں۔</p>
<p>سیکریٹری پاور نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اور بل ادا کرنے کی سکت نہ رکھنے والے صارفین کے لیے ہم نے آئی ایم ایف سے منظوری طلب کر لی ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نے سسٹم اور صارفین کے نقصانات کے تخمینے تیار کر کے آئی ایم ایف کو بھجوا دیے ہیں۔</p>
<p>تاہم انہوں نے ایم این اے نوشین افتخار کی یہ تجویز مسترد کر دی کہ نادار صارفین کو بل قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی صارف کا بل 30 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے تقریباً ایک سال سے بل ادا نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 3 کروڑ 30 لاکھ بجلی کے صارفین ہیں، جن میں لائف لائن اور پروٹیکٹڈ صارفین پہلے ہی حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>سیکریٹری پاور کے مطابق آئی ایم ایف نے مالی سال 2024-25 کے لیے 640 ارب روپے کے نقصانات کی گنجائش دی تھی، جبکہ حقیقی نقصانات 397 ارب روپے رہے۔ یہ پاور سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری کا اعتراف ہے۔ نئے مالی سال 2025-26 کے لیے نقصان کا ہدف 540 ارب روپے رکھا گیا ہے۔</p>
<p>کمیٹی اجلاس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شکایات پیش کیں۔ سیکریٹری پاور نے ہدایت کی کہ ڈسکوز اپنی لوڈشیڈنگ کے منصوبے نیپرا سے منظور کرائیں تاکہ بل ادا کرنے والے صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو اور سیپکو کی وصولیوں کی شرح ہدف سے 50 فیصد کم ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ حیسکو اور سیپکو کو طویل المدتی رعایتی معاہدوں کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاہم ان کی ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے گی۔ حیسکو حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹرانسفارمرز پر میٹر نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ صرف نادہندگان یا بجلی چوری میں ملوث صارفین کا کنکشن منقطع ہو۔</p>
<p>سیکریٹری پاور نے آگاہ کیا کہ حیسکو اور سیپکو کو ایک سال میں 60 ارب روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ ارکان نے زور دیا کہ وقتی اقدامات کے بجائے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی جائیں۔ حیسکو نے نومبر 2024 میں نیپرا کو سرمایہ کاری منصوبہ جمع کرایا تھا جس پر پیشرفت کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں ملازمین کی تقرریوں اور تبادلوں کے مسائل پر بھی گفتگو ہوئی۔ ارکان نے مطالبہ کیا کہ اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ اپنے آبائی علاقوں میں ایڈجسٹ کیا جائے اور بے ضابطگیوں کی انکوائری کی جائے۔</p>
<p>لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے سی ای او نے بھی بریفنگ دی۔ ایم این اے رانا محمد حیات خان نے لیسکو میں اوور بلنگ ختم کرنے اور دو سال سے نامکمل منصوبے مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تباہ شدہ دھان اور گنے کی فصلوں کے باعث کسانوں کو کم از کم چھ ماہ کا جزوی ریلیف اور قرضوں میں سہولت دی جائے۔</p>
<p>اجلاس میں شیخ آفتاب احمد، سیدہ نوشین افتخار، رانا محمد حیات خان، محمد شاہریار خان مہر، نعمان اسلام شیخ، سید وسیم حسین اور سنجے پروانی، اراکین قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ پاور ڈویژن کے سینئر افسران کے ساتھ ہی حیسکو، سیپکو، پسکو، لیسکو، آئسکو، جے پی سی ایل اور پی پی ایم سی کے نمائندے بھی موجود تھے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277122</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Sep 2025 08:54:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/180853069d75908.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/180853069d75908.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
