<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سینٹرل کاٹن کمیٹی اور ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے انضمام میں تاخیر سے کپاس کی پیداوار کو سنگین خطرات لاحق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277106/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے انضمام کے حوالے سے حکومت کے فیصلے پر عملدرآمد میں غیرمعمولی تاخیر نے کپاس کی پیداوار اور قومی تحقیقی فریم ورک کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کردیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے فیصلے کے تحت اس انضمام کا نوٹیفکیشن یکم جنوری 2025 کو جاری کیا گیا تھا اور اسے 30 جون 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم غیر واضح وجوہات، جنہیں بعض ماہرین انتظامی سستی قرار دیتے ہیں، کے باعث نفاذ کا عمل رک گیا ہے۔ اگرچہ قانونی ترامیم اور ڈھانچے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے، ایگزیکٹو آرڈر (نوٹیفکیشن) کا اجراء ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی پالیسی کے ماہرین کے مطابق یہ انضمام محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ملک میں ایک مربوط قومی تحقیقی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسا نظام تحقیق کے وسائل کے دہرائے جانے کو روکے گا اور کپاس، جو شدید موسمی حالات کے باعث پہلے ہی خطرے میں ہے، کے ساتھ ساتھ دیگر اہم فصلوں میں اختراع اور ترقی کو تیز کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 اگست 2025 کو ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں ایگزیکٹو آرڈر کے فوری اجراء پر زور دیا، تاہم ٹھوس کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ انتظامی سستی اور سست فیصلہ سازی قومی زرعی ترقی کے اہداف میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپاس جو پاکستان کی برآمدات اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتی ہے، پہلے ہی مالی اور تحقیقی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ 2016 سے پی سی سی سی بحران کا شکار ہے کیونکہ ٹیکسٹائل ملز نے کپاس سیس کی ادائیگی نہیں کی۔ انضمام میں مزید تاخیر نے تحقیقی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق نائب صدر پی سی سی سی، ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا کہ وفاقی حکومت کو فوری اور ہموار طریقے سے پی سی سی سی کو پی اے آر سی کے ساتھ ضم کرنا چاہیے، کیونکہ تقریباً تمام انتظامی، قانونی اور مالی امور حل ہو چکے ہیں اور صرف کابینہ کی حتمی منظوری اس مسئلے کو مستقل اور خوش اسلوبی سے حل کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی حلقے اس تعطل کومعیشت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ انتباہ کرتے ہیں کہ اگر ایگزیکٹو آرڈر بروقت جاری نہ کیا گیا تو نہ صرف کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہوگی بلکہ ملک میں زرعی سائنس کا ڈھانچہ بھی متاثر ہوگا، جس کے براہِ راست اثرات ٹیکسٹائل برآمدات اور کسانوں کے روزگار پر مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترقی پسند کسان اور ماہرین زور دیتے ہیں کہ حکومت کو اس معاملے کو زرعی ہنگامی صورتحال کے طور پر لینا چاہیے اور فیصلوں میں تاخیر ختم کرنی چاہیے۔ اس اقدام سے تحقیقی ادارے مستحکم ہوں گے اور کپاس کے ساتھ دیگر اہم فصلوں کا مستقبل محفوظ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس میں تحقیق و ترقی کو مضبوط بنا کر یہ ضم کاری نئی اقسام کی پیداوار، بیماریوں سے مقابلہ، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضم کاری محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ قومی زرعی ترقی اور کپاس کی بحالی کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم ہے۔ مزید تاخیر ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا حکومت کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ کپاس اور دیگر فصلوں میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (پی سی سی سی) اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے انضمام کے حوالے سے حکومت کے فیصلے پر عملدرآمد میں غیرمعمولی تاخیر نے کپاس کی پیداوار اور قومی تحقیقی فریم ورک کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کردیے ہیں۔</strong></p>
<p>وفاقی کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے فیصلے کے تحت اس انضمام کا نوٹیفکیشن یکم جنوری 2025 کو جاری کیا گیا تھا اور اسے 30 جون 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم غیر واضح وجوہات، جنہیں بعض ماہرین انتظامی سستی قرار دیتے ہیں، کے باعث نفاذ کا عمل رک گیا ہے۔ اگرچہ قانونی ترامیم اور ڈھانچے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے، ایگزیکٹو آرڈر (نوٹیفکیشن) کا اجراء ابھی باقی ہے۔</p>
<p>زرعی پالیسی کے ماہرین کے مطابق یہ انضمام محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ملک میں ایک مربوط قومی تحقیقی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایسا نظام تحقیق کے وسائل کے دہرائے جانے کو روکے گا اور کپاس، جو شدید موسمی حالات کے باعث پہلے ہی خطرے میں ہے، کے ساتھ ساتھ دیگر اہم فصلوں میں اختراع اور ترقی کو تیز کرے گا۔</p>
<p>8 اگست 2025 کو ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں ایگزیکٹو آرڈر کے فوری اجراء پر زور دیا، تاہم ٹھوس کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ انتظامی سستی اور سست فیصلہ سازی قومی زرعی ترقی کے اہداف میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔</p>
<p>کپاس جو پاکستان کی برآمدات اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتی ہے، پہلے ہی مالی اور تحقیقی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ 2016 سے پی سی سی سی بحران کا شکار ہے کیونکہ ٹیکسٹائل ملز نے کپاس سیس کی ادائیگی نہیں کی۔ انضمام میں مزید تاخیر نے تحقیقی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔</p>
<p>سابق نائب صدر پی سی سی سی، ڈاکٹر یوسف ظفر نے کہا کہ وفاقی حکومت کو فوری اور ہموار طریقے سے پی سی سی سی کو پی اے آر سی کے ساتھ ضم کرنا چاہیے، کیونکہ تقریباً تمام انتظامی، قانونی اور مالی امور حل ہو چکے ہیں اور صرف کابینہ کی حتمی منظوری اس مسئلے کو مستقل اور خوش اسلوبی سے حل کر سکتی ہے۔</p>
<p>پالیسی حلقے اس تعطل کومعیشت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے وسیع تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ انتباہ کرتے ہیں کہ اگر ایگزیکٹو آرڈر بروقت جاری نہ کیا گیا تو نہ صرف کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہوگی بلکہ ملک میں زرعی سائنس کا ڈھانچہ بھی متاثر ہوگا، جس کے براہِ راست اثرات ٹیکسٹائل برآمدات اور کسانوں کے روزگار پر مرتب ہوں گے۔</p>
<p>ترقی پسند کسان اور ماہرین زور دیتے ہیں کہ حکومت کو اس معاملے کو زرعی ہنگامی صورتحال کے طور پر لینا چاہیے اور فیصلوں میں تاخیر ختم کرنی چاہیے۔ اس اقدام سے تحقیقی ادارے مستحکم ہوں گے اور کپاس کے ساتھ دیگر اہم فصلوں کا مستقبل محفوظ ہوگا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس میں تحقیق و ترقی کو مضبوط بنا کر یہ ضم کاری نئی اقسام کی پیداوار، بیماریوں سے مقابلہ، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے عمل کو تیز کرے گی۔</p>
<p>یہ ضم کاری محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ قومی زرعی ترقی اور کپاس کی بحالی کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم ہے۔ مزید تاخیر ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا حکومت کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ کپاس اور دیگر فصلوں میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277106</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Sep 2025 14:49:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/17134103c10df58.webp" type="image/webp" medium="image" height="194" width="259">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/17134103c10df58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
