<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد آٹو انڈسٹری کیلئے خطرہ، ٹویوٹا اسمبلر کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277098/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی این ڈی یو) نے خبردار کیا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (2025-30) کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں نرمی ملک کی آٹو انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے یہ مؤقف اپنی سالانہ رپورٹ میں پیش کیا جو بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ نیشنل ٹیرف پالیسی کا مقصد عالمی معیار کے مطابق ٹیرف میں نرمی اور تجارتی آزادی کو فروغ دینا ہے، لیکن ڈیوٹیز میں کمی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں نرمی جیسے اقدامات آٹو انڈسٹری کو متاثر کرنے، سپلائی چین کو کمزور کرنے اور روزگار و معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات بلند سطح پر رہیں اور انڈسٹری کے اندازوں کے مطابق یہ حجم 40 سے 45 ہزار یونٹس رہا، جو پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی کل فروخت کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس موٹر نے مزید بتایا کہ مقامی آٹو انڈسٹری کی مشترکہ سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 5 لاکھ یونٹس ہے، لیکن موجودہ پلانٹ یوٹیلائزیشن صرف 36 فیصد پر ہے جس کے باعث 60 فیصد سے زائد صلاحیت غیر استعمال شدہ پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ایسے ماحول میں استعمال شدہ گاڑیوں کا بڑھتا ہوا دباؤ نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مقامی پیداواری صلاحیت کے مؤثر استعمال کو محدود کرتا ہے، روزگار کے مواقع کو کم کرتا ہے اور آٹو انڈسٹری کے طویل المدتی امکانات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2024-25 کے دوران انڈس موٹر نے نمایاں بحالی دکھائی اور فروخت میں 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ کمپنی نے 33,757 یونٹس فروخت کیے، جو گزشتہ سال کے 21,603 یونٹس کے مقابلے میں قابلِ ذکر اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے مزید کہا کہ اسے توقع ہے کہ مالی سال 2025-26 میں بھی ترقی کا تسلسل برقرار رہے گا، جسے پالیسی ریٹ میں مزید کمی، سازگار بیس ایفیکٹس اور ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے سہارا ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں زور دیا گیا کہ شعبے کی طویل المدتی صلاحیت کے لیے ڈھانچہ جاتی مسائل جیسے غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت، سپلائی چین کی کمزوریاں، بلند ٹیکسیشن اور زیادہ آپریٹنگ اخراجات کا حل ناگزیر ہے، جبکہ پالیسی میں تسلسل، مقامی پیداوار کی ترغیبات اور ٹیکنالوجی میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہی ترقی کے تسلسل کی ضمانت بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ (آئی این ڈی یو) نے خبردار کیا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (2025-30) کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں نرمی ملک کی آٹو انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے یہ مؤقف اپنی سالانہ رپورٹ میں پیش کیا جو بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ نیشنل ٹیرف پالیسی کا مقصد عالمی معیار کے مطابق ٹیرف میں نرمی اور تجارتی آزادی کو فروغ دینا ہے، لیکن ڈیوٹیز میں کمی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں نرمی جیسے اقدامات آٹو انڈسٹری کو متاثر کرنے، سپلائی چین کو کمزور کرنے اور روزگار و معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات بلند سطح پر رہیں اور انڈسٹری کے اندازوں کے مطابق یہ حجم 40 سے 45 ہزار یونٹس رہا، جو پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی کل فروخت کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>انڈس موٹر نے مزید بتایا کہ مقامی آٹو انڈسٹری کی مشترکہ سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 5 لاکھ یونٹس ہے، لیکن موجودہ پلانٹ یوٹیلائزیشن صرف 36 فیصد پر ہے جس کے باعث 60 فیصد سے زائد صلاحیت غیر استعمال شدہ پڑی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ایسے ماحول میں استعمال شدہ گاڑیوں کا بڑھتا ہوا دباؤ نہ صرف درآمدی بل میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مقامی پیداواری صلاحیت کے مؤثر استعمال کو محدود کرتا ہے، روزگار کے مواقع کو کم کرتا ہے اور آٹو انڈسٹری کے طویل المدتی امکانات پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2024-25 کے دوران انڈس موٹر نے نمایاں بحالی دکھائی اور فروخت میں 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ کمپنی نے 33,757 یونٹس فروخت کیے، جو گزشتہ سال کے 21,603 یونٹس کے مقابلے میں قابلِ ذکر اضافہ ہے۔</p>
<p>کمپنی نے مزید کہا کہ اسے توقع ہے کہ مالی سال 2025-26 میں بھی ترقی کا تسلسل برقرار رہے گا، جسے پالیسی ریٹ میں مزید کمی، سازگار بیس ایفیکٹس اور ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے سہارا ملے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں زور دیا گیا کہ شعبے کی طویل المدتی صلاحیت کے لیے ڈھانچہ جاتی مسائل جیسے غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت، سپلائی چین کی کمزوریاں، بلند ٹیکسیشن اور زیادہ آپریٹنگ اخراجات کا حل ناگزیر ہے، جبکہ پالیسی میں تسلسل، مقامی پیداوار کی ترغیبات اور ٹیکنالوجی میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہی ترقی کے تسلسل کی ضمانت بن سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277098</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Sep 2025 11:57:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/171150476094df6.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/171150476094df6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
