<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے معاون کی بطور گورنر حلف برداری کے بعد امریکی فیڈ کا اہم اجلاس شروع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277072/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فیڈرل ریزرو نے منگل کے روز شرحِ سود سے متعلق اہم اجلاس شروع کردیا جبکہ چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ نئے رکن نے بطور گورنر حلف اٹھالیا ہے، دوسری جانب ایک اور اعلیٰ عہدیدار اپنی برطرفی کے خلاف صدر سے برسرِ پیکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسٹیفن میران، جو ٹرمپ کے قریبی مشیروں میں شمار ہوتے ہیں، نے منگل کے روز بطور فیڈ گورنر حلف اٹھالیا ہے، اسی دوران فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم اسی) نے اپنی دو روزہ پالیسی میٹنگ کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میران نے پیر کی شب سینیٹ میں کڑے مقابلے کے بعد ووٹنگ جیتی، جس کے نتیجے میں وہ ایف او ایم سی کے 12 ووٹنگ اراکین میں شامل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی شک نہیں کہ فیڈ اپنی تازہ ترین میٹنگ کے اختتام پر 2025 کی پہلی شرحِ سود میں کمی کرے گا، کیونکہ پالیسی سازوں کی توجہ بگڑتی ہوئی روزگار مارکیٹ کو سہارا دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی دباؤ کے خدشات آزاد مرکزی بینک پر اس اجلاس کے دوران نمایاں رہیں گے، خاص طور پر اس لیے کہ صدر ٹرمپ نے فیڈ کے چیئرمین جیرویم پاول پر شرح سود میں کٹوتی کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ میران کا بطور فیڈ گورنر تقرر اسے  ایف او ایم سی میں صرف ایک ووٹ دیتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ صدر کی بار بار کی درخواست کے مطابق بڑی شرح میں کمی کے لیے زور دیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ فیڈ کو ”میرے جیسے ذہین لوگوں کی بات سننی چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ میں شمولیت سے قبل، میران وائٹ ہاؤس کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی بجائے چھٹی لینے کا ارادہ ظاہر کیا، جس پر ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اعتراض کیا، کیونکہ وہ چار ماہ سے کچھ زیادہ عرصے کے لیے جاری میران کی فیڈ کی مدت مکمل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میراں کا تقرر اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے فیڈ گورنر لیزا کک کو مورگیج فراڈ کے الزامات کی بنیاد پر ہٹانے کی کوشش کی۔ اس وقت تک، کک، جنہیں سابق صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا، ایف او ایم سی کی میٹنگ میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اگست میں کک کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا اور وہ اس وقت صدر کے ساتھ قانونی جنگ لڑ رہی ہیں، جس کے اثرات فیڈ کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ پیر کے روز ایک وفاقی اپیل عدالت نے فیصلہ دیا کہ کک اپنے قانونی چیلنج کے دوران اپنے عہدے پر رہ سکتی ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس کیس کو سپریم کورٹ لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے اے ایف پی کو بتایا: ”انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی اور اس مسئلے پر بالآخر کامیابی کی توقع رکھتی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ صدر نے ”لیزا کک کو جائز وجہ سے برطرف کیا“، جس کا مطلب بدعنوانی یا فرائض سے غفلت کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ نے کک کی برطرفی کا اعلان کرتے ہوئے ایک کریمنل ریفرل کی طرف اشارہ کیا، لیکن انہیں کسی جرم میں ملوث قرار نہیں دیا گیا، اور مبینہ واقعات اس سے پہلے پیش آئے جب وہ فیڈ گورنر نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گذشتہ دسمبر میں آخری شرح میں کمی کے بعد، فیڈ نے بنیادی قرض دینے کی شرح 4.25 فیصد سے 4.50 فیصد کے درمیان برقرار رکھی، کیونکہ پالیسی ساز ٹرمپ کے ٹیرف کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹیں بدستور توقع کر رہی ہیں کہ بدھ کو مذاکرات کے اختتام پر 25 بیسس پوائنٹس کمی کا اعلان کیا جائے گا، اور سرمایہ کار مستقبل میں شرح میں کمی کی تعداد اور رفتار کے بارے میں اشاروں پر بھی نظر رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فیڈرل ریزرو نے منگل کے روز شرحِ سود سے متعلق اہم اجلاس شروع کردیا جبکہ چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ نئے رکن نے بطور گورنر حلف اٹھالیا ہے، دوسری جانب ایک اور اعلیٰ عہدیدار اپنی برطرفی کے خلاف صدر سے برسرِ پیکار ہیں۔</strong></p>
<p>فیڈ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسٹیفن میران، جو ٹرمپ کے قریبی مشیروں میں شمار ہوتے ہیں، نے منگل کے روز بطور فیڈ گورنر حلف اٹھالیا ہے، اسی دوران فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم اسی) نے اپنی دو روزہ پالیسی میٹنگ کا آغاز کیا۔</p>
<p>میران نے پیر کی شب سینیٹ میں کڑے مقابلے کے بعد ووٹنگ جیتی، جس کے نتیجے میں وہ ایف او ایم سی کے 12 ووٹنگ اراکین میں شامل ہوگئے۔</p>
<p>اس میں کوئی شک نہیں کہ فیڈ اپنی تازہ ترین میٹنگ کے اختتام پر 2025 کی پہلی شرحِ سود میں کمی کرے گا، کیونکہ پالیسی سازوں کی توجہ بگڑتی ہوئی روزگار مارکیٹ کو سہارا دینے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>سیاسی دباؤ کے خدشات آزاد مرکزی بینک پر اس اجلاس کے دوران نمایاں رہیں گے، خاص طور پر اس لیے کہ صدر ٹرمپ نے فیڈ کے چیئرمین جیرویم پاول پر شرح سود میں کٹوتی کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ میران کا بطور فیڈ گورنر تقرر اسے  ایف او ایم سی میں صرف ایک ووٹ دیتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ صدر کی بار بار کی درخواست کے مطابق بڑی شرح میں کمی کے لیے زور دیں گے یا نہیں۔</p>
<p>منگل کو ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ فیڈ کو ”میرے جیسے ذہین لوگوں کی بات سننی چاہیے۔“</p>
<p>فیڈ میں شمولیت سے قبل، میران وائٹ ہاؤس کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ تاہم، انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑنے کی بجائے چھٹی لینے کا ارادہ ظاہر کیا، جس پر ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اعتراض کیا، کیونکہ وہ چار ماہ سے کچھ زیادہ عرصے کے لیے جاری میران کی فیڈ کی مدت مکمل کر رہے ہیں۔</p>
<p>میراں کا تقرر اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے فیڈ گورنر لیزا کک کو مورگیج فراڈ کے الزامات کی بنیاد پر ہٹانے کی کوشش کی۔ اس وقت تک، کک، جنہیں سابق صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا، ایف او ایم سی کی میٹنگ میں موجود ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اگست میں کک کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا اور وہ اس وقت صدر کے ساتھ قانونی جنگ لڑ رہی ہیں، جس کے اثرات فیڈ کے مستقبل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ پیر کے روز ایک وفاقی اپیل عدالت نے فیصلہ دیا کہ کک اپنے قانونی چیلنج کے دوران اپنے عہدے پر رہ سکتی ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس کیس کو سپریم کورٹ لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے اے ایف پی کو بتایا: ”انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی اور اس مسئلے پر بالآخر کامیابی کی توقع رکھتی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ صدر نے ”لیزا کک کو جائز وجہ سے برطرف کیا“، جس کا مطلب بدعنوانی یا فرائض سے غفلت کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ نے کک کی برطرفی کا اعلان کرتے ہوئے ایک کریمنل ریفرل کی طرف اشارہ کیا، لیکن انہیں کسی جرم میں ملوث قرار نہیں دیا گیا، اور مبینہ واقعات اس سے پہلے پیش آئے جب وہ فیڈ گورنر نہیں تھیں۔</p>
<p>گذشتہ دسمبر میں آخری شرح میں کمی کے بعد، فیڈ نے بنیادی قرض دینے کی شرح 4.25 فیصد سے 4.50 فیصد کے درمیان برقرار رکھی، کیونکہ پالیسی ساز ٹرمپ کے ٹیرف کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>مارکیٹیں بدستور توقع کر رہی ہیں کہ بدھ کو مذاکرات کے اختتام پر 25 بیسس پوائنٹس کمی کا اعلان کیا جائے گا، اور سرمایہ کار مستقبل میں شرح میں کمی کی تعداد اور رفتار کے بارے میں اشاروں پر بھی نظر رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277072</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 23:11:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/162231334261ad2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/162231334261ad2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
