<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرین بینکنگ سسٹم اور منی سولر گرڈز ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کی کلید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277063/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جامع گرین بینکنگ سسٹم کے نفاذ سے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات، بشمول تباہ کن سیلاب، طوفانی بارشوں اور شدید گرمی کی لہروں، میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ غیر رسمی معیشت کو تقویت دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین بینکنگ سسٹم دراصل بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اس انداز میں چلانے کا طریقہ ہے کہ ان کے آپریشنز، مالی مصنوعات اور سرمایہ کاری زیادہ پائیدار ہوں اور سبز معیشت کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو ماحول دوست قرضوں کی اسکیمیں فراہم کی جا سکتی ہیں جبکہ شہری اور دیہی رہائشی منصوبوں کی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ملک میں منی سولر گرڈز (ایم ایس جیز) کی تنصیب ایک موثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منی سولر گرڈز کی اہمیت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی حکمت عملی  اور علاقائی امور کے ماہر ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ دنیا بھر میں منی سولر گرڈز (ایم ایس جیز) کی تنصیب کے رجحانات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں اور پاکستان بھی اس ماڈل کو اپنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2030 تک تقریباً 1.2 ارب افراد کو بجلی تک رسائی دینا ہوگی تاکہ ”یونیورسل ایکسیس“ کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ ڈاکٹر محمودالحسن خان کے بقول اس مقصد کے لیے مرکزی گرڈ کی توسیع، منی گرڈز اور آف گرڈ سولر کا امتزاج ایک مثالی حل ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں دنیا بھر میں لگ بھگ نصف ارب افراد کو صرف منی گرڈز کے ذریعے کم لاگت پر بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی اداروں اور ڈویلپرز کو قانونی طور پر پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے منصوبوں میں منی سولر گرڈز نصب کریں تاکہ کاربن فٹ پرنٹس کو کم کیا جا سکے اور بالآخر کاربن نیوٹرلٹی کے ہدف تک پہنچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تجویز پیش کی کہ ملک میں تمام نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری کو ایم ایس جیز کی تنصیب سے مشروط کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 134 ممالک میں اب تک کم از کم 19 ہزار منی گرڈز نصب ہو چکے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی اور یہ تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ افراد کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج سب سے زیادہ منی گرڈز ایشیا میں نصب ہیں، جبکہ افریقہ مستقبل کے منصوبہ بند منی گرڈز کا سب سے بڑا مرکز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرین گورننس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ ’’یقیناً ایک جامع اور ہمہ جہت گرین بینکنگ سسٹم ملک میں ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات جیسے کہ سیلاب، طوفانی بارشیں اور شدید گرمی کی لہر کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ گرین بینکوں کو چاہیے کہ وہ تجدید پذیر توانائی کے انفراسٹرکچر، قدرتی حل جیسے شہری جنگلات (جو یورپی ممالک میں ابھرنے والا نیا رجحان ہے)، بحال شدہ آبی گزرگاہیں، اور موسمیاتی لچک پر مبنی شہری منصوبہ بندی (جس میں بہتر ڈرینیج اور پائیدار ٹرانسپورٹ شامل ہو) جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تمام بینکوں کو ہدایت دینی چاہیے کہ وہ اپنے مالی وسائل کو ’’گرین ٹرانسفارمیشن‘‘ کی جانب ترجیحی بنیادوں پر منتقل کریں۔ اس کے تحت ماحول دوست انفراسٹرکچر، توانائی مؤثر عمارتوں، تجدید پذیر توانائی، لیتھیم بیٹریوں، برقی گاڑیوں، نرسریوں اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں شہری جنگلات کے فروغ، سبز چھتوں اور بحال شدہ آبی گزرگاہوں کے لیے قرضوں کی فراہمی شہری علاقوں میں حرارت کے دباؤ کو کم کرنے، کاربن کے اخراج جذب کرنے اور برساتی پانی کے بہتر انتظام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر محمود الحسن خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’گرین گورننس‘‘—یعنی ایسا نظامِ حکمرانی جو ماحولیاتی پائیداری کو فیصلوں، پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنائے—ملک میں موسمیاتی لچک دار شہری منصوبہ بندی کو فروغ دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ جیسے پیشگوئی کرنے والے آلات کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہدفی اقدامات، پیشگی منصوبہ بندی اور آفات سے نمٹنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ ڈاکٹر خان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پائیدار انفراسٹرکچر اور شہری ماحولیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرین بینکنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو شامل کیے بغیر گرین بینکنگ تیزی سے ترقی نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی بینکوں کو ایک نئی حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے تاکہ ایس ایم ای سیکٹر کو ماحولیاتی اور سماجی طور پر پائیدار سمت میں ڈھالا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کو تقریباً 5 ارب ڈالر کے کریڈٹ گیپ کا سامنا ہے، جو ان کی پائیدار ترقی کے امکانات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2023 میں تجارتی بینکوں کی ایس ایم ای لینڈنگ محض 13 تا 16 فیصد طلب پوری کر سکی، جس سے نمایاں خلا باقی رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین اور پائیدار فنانسنگ، گرین بینکنگ کے دائرے میں، پاکستان میں ایس ایم ای انقلاب کو توانائی بخشنے کے لیے ناگزیر ہے۔ بینک، موجودہ ای ایس جی (ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی) نظریے کے تحت، ایس ایم ایز کے قیام یا ازسرِنو ڈھانچے کی تشکیل میں مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ پنجاب روزگار اسکیم اور وزیرِاعظم یوتھ لون اسکیم جیسے پروگراموں کو گرین ایس ایم ایز پر مرکوز ہونا چاہیے۔ اسی طرح بینک آف پنجاب کی اسکیمیں جیسے ای-بزنس قرضہ، شمسی توانائی  ایس ایم ایز کی جدید کاری کے لیے ری فنانس اسکیم، خواتین کاروباری افراد کے لیے قرضہ جات اور ای-ویہیکل فنانسنگ بھی گرین معیشت کے فروغ کی سمت میں رہنمائی کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی سینئر نائب صدر ڈاکٹر منّزہ عبدالمجید کے مطابق بینکاری شعبے کو گرین بینکنگ کے عملی اجزاء اپنانے چاہئیں، تاکہ مالیاتی ادارے اپنے آپریشنز، قرضوں اور سرمایہ کاری کو ماحولیاتی طور پر زیادہ پائیدار بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اقدامات میں گرین اکاؤنٹ اوپننگ، گرین فنانسنگ، ماحولیاتی و سماجی (ای اینڈ ایس) ڈیو ڈیلجنس، جامع ماحولیاتی و سماجی مینجمنٹ سسٹم (ای ایس ایم ایس)، گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی اور صاف توانائی کی منتقلی میں تیزی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے بڑے تجارتی بینک اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے مقررہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے تحت ماحول دوست مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ ان میں گرین لون، تجدید پذیر توانائی کی فنانسنگ اور ماحول دوست سرمایہ کاری کے منصوبے شامل ہیں، جیسے سولر پینلز، توانائی مؤثر منصوبے اور ماحولیاتی تحفظ اتھارٹی (ای پی اے) کی نگرانی میں منصوبہ جاتی فنانسنگ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر منّزہ عبدالمجید نے کہا کہ “ہمیں مالیاتی اداروں کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا ہوگا اور پائیداری کو فروغ دینا ہوگا، جس کے لیے گرین فنانسنگ، پائیدار سرمایہ کاری، ڈیجیٹل بینکاری اور کاغذ سے پاک اقدامات مثلاً ای-اسٹیٹمنٹس اور ای رسیدوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اب تک کوئی مکمل طور پر وقف شدہ گرین بینک باضابطہ طور پر قائم نہیں کیا گیا، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے اقدامات کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکٹرک گاڑیاں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر منّزہ عبدالمجید نے کہا کہ پاکستان میں برقی موٹر بائیکس اور سولر پینلز کے فروغ کے لیے گرین بینک کم شرح سود پر قرضے، آسان اقساط پر فنانسنگ، ماحولیاتی کارکردگی سے منسلک سبسڈیز اور عوامی آگاہی مہمات متعارف کرا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق گرین بینک مینوفیکچررز کے ساتھ شراکت داری کر کے صارفین کو برقی موٹر بائیکس اور گھروں کے لیے سولر سسٹمز پر مناسب مالی پیکجز فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے لیزنگ ماڈلز بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں جن میں صارفین ایندھن یا بجلی کے بلوں میں بچت کے ذریعے ماہانہ اقساط ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومتی ضمانتیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ری فنانسنگ بینکوں کے لیے خطرات کو کم کر سکتی ہیں، جس سے ان منصوبوں کو زیادہ تیزی سے اپنانے میں مدد ملے گی۔ یہ حکمتِ عملی صاف توانائی کے فروغ، ایندھن کی درآمدات میں کمی، فضائی آلودگی میں کمی اور نئی سبز ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے زور دیا کہ بطور مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک کو سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے گرین آپریشنل سرگرمیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق برقی موٹر بائیکس اور سولر پینلز جیسے نئے منصوبوں میں گرین بینکوں کے ذریعے سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے، اور صنعت میں گرین آپریشنل سرگرمیاں اخراجات نہیں بلکہ بقا کی ضمانت ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جامع گرین بینکنگ سسٹم کے نفاذ سے ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات، بشمول تباہ کن سیلاب، طوفانی بارشوں اور شدید گرمی کی لہروں، میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ غیر رسمی معیشت کو تقویت دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>گرین بینکنگ سسٹم دراصل بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اس انداز میں چلانے کا طریقہ ہے کہ ان کے آپریشنز، مالی مصنوعات اور سرمایہ کاری زیادہ پائیدار ہوں اور سبز معیشت کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔</p>
<p>اس کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو ماحول دوست قرضوں کی اسکیمیں فراہم کی جا سکتی ہیں جبکہ شہری اور دیہی رہائشی منصوبوں کی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ملک میں منی سولر گرڈز (ایم ایس جیز) کی تنصیب ایک موثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p><strong>منی سولر گرڈز کی اہمیت</strong></p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی حکمت عملی  اور علاقائی امور کے ماہر ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ دنیا بھر میں منی سولر گرڈز (ایم ایس جیز) کی تنصیب کے رجحانات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں اور پاکستان بھی اس ماڈل کو اپنا سکتا ہے۔</p>
<p>عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2030 تک تقریباً 1.2 ارب افراد کو بجلی تک رسائی دینا ہوگی تاکہ ”یونیورسل ایکسیس“ کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ ڈاکٹر محمودالحسن خان کے بقول اس مقصد کے لیے مرکزی گرڈ کی توسیع، منی گرڈز اور آف گرڈ سولر کا امتزاج ایک مثالی حل ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں دنیا بھر میں لگ بھگ نصف ارب افراد کو صرف منی گرڈز کے ذریعے کم لاگت پر بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ پاکستان میں تعمیراتی اداروں اور ڈویلپرز کو قانونی طور پر پابند کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے منصوبوں میں منی سولر گرڈز نصب کریں تاکہ کاربن فٹ پرنٹس کو کم کیا جا سکے اور بالآخر کاربن نیوٹرلٹی کے ہدف تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے تجویز پیش کی کہ ملک میں تمام نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی منظوری کو ایم ایس جیز کی تنصیب سے مشروط کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 134 ممالک میں اب تک کم از کم 19 ہزار منی گرڈز نصب ہو چکے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی اور یہ تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ افراد کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج سب سے زیادہ منی گرڈز ایشیا میں نصب ہیں، جبکہ افریقہ مستقبل کے منصوبہ بند منی گرڈز کا سب سے بڑا مرکز ہے۔</p>
<p><strong>گرین گورننس</strong></p>
<p>ڈاکٹر محمودالحسن خان نے کہا کہ ’’یقیناً ایک جامع اور ہمہ جہت گرین بینکنگ سسٹم ملک میں ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات جیسے کہ سیلاب، طوفانی بارشیں اور شدید گرمی کی لہر کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ گرین بینکوں کو چاہیے کہ وہ تجدید پذیر توانائی کے انفراسٹرکچر، قدرتی حل جیسے شہری جنگلات (جو یورپی ممالک میں ابھرنے والا نیا رجحان ہے)، بحال شدہ آبی گزرگاہیں، اور موسمیاتی لچک پر مبنی شہری منصوبہ بندی (جس میں بہتر ڈرینیج اور پائیدار ٹرانسپورٹ شامل ہو) جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔</p>
<p>ان کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تمام بینکوں کو ہدایت دینی چاہیے کہ وہ اپنے مالی وسائل کو ’’گرین ٹرانسفارمیشن‘‘ کی جانب ترجیحی بنیادوں پر منتقل کریں۔ اس کے تحت ماحول دوست انفراسٹرکچر، توانائی مؤثر عمارتوں، تجدید پذیر توانائی، لیتھیم بیٹریوں، برقی گاڑیوں، نرسریوں اور پانی کے تحفظ کے منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں شہری جنگلات کے فروغ، سبز چھتوں اور بحال شدہ آبی گزرگاہوں کے لیے قرضوں کی فراہمی شہری علاقوں میں حرارت کے دباؤ کو کم کرنے، کاربن کے اخراج جذب کرنے اور برساتی پانی کے بہتر انتظام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر محمود الحسن خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’گرین گورننس‘‘—یعنی ایسا نظامِ حکمرانی جو ماحولیاتی پائیداری کو فیصلوں، پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنائے—ملک میں موسمیاتی لچک دار شہری منصوبہ بندی کو فروغ دے سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ جیسے پیشگوئی کرنے والے آلات کو فیصلہ سازی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہدفی اقدامات، پیشگی منصوبہ بندی اور آفات سے نمٹنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ ڈاکٹر خان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پائیدار انفراسٹرکچر اور شہری ماحولیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>گرین بینکنگ</strong></p>
<p>دوسری جانب ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو شامل کیے بغیر گرین بینکنگ تیزی سے ترقی نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی بینکوں کو ایک نئی حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے تاکہ ایس ایم ای سیکٹر کو ماحولیاتی اور سماجی طور پر پائیدار سمت میں ڈھالا جا سکے۔</p>
<p>ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کو تقریباً 5 ارب ڈالر کے کریڈٹ گیپ کا سامنا ہے، جو ان کی پائیدار ترقی کے امکانات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2023 میں تجارتی بینکوں کی ایس ایم ای لینڈنگ محض 13 تا 16 فیصد طلب پوری کر سکی، جس سے نمایاں خلا باقی رہ گیا۔</p>
<p>گرین اور پائیدار فنانسنگ، گرین بینکنگ کے دائرے میں، پاکستان میں ایس ایم ای انقلاب کو توانائی بخشنے کے لیے ناگزیر ہے۔ بینک، موجودہ ای ایس جی (ماحولیاتی، سماجی اور حکمرانی) نظریے کے تحت، ایس ایم ایز کے قیام یا ازسرِنو ڈھانچے کی تشکیل میں مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ پنجاب روزگار اسکیم اور وزیرِاعظم یوتھ لون اسکیم جیسے پروگراموں کو گرین ایس ایم ایز پر مرکوز ہونا چاہیے۔ اسی طرح بینک آف پنجاب کی اسکیمیں جیسے ای-بزنس قرضہ، شمسی توانائی  ایس ایم ایز کی جدید کاری کے لیے ری فنانس اسکیم، خواتین کاروباری افراد کے لیے قرضہ جات اور ای-ویہیکل فنانسنگ بھی گرین معیشت کے فروغ کی سمت میں رہنمائی کر سکتی ہیں۔</p>
<p>نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی سینئر نائب صدر ڈاکٹر منّزہ عبدالمجید کے مطابق بینکاری شعبے کو گرین بینکنگ کے عملی اجزاء اپنانے چاہئیں، تاکہ مالیاتی ادارے اپنے آپریشنز، قرضوں اور سرمایہ کاری کو ماحولیاتی طور پر زیادہ پائیدار بنا سکیں۔</p>
<p>ان اقدامات میں گرین اکاؤنٹ اوپننگ، گرین فنانسنگ، ماحولیاتی و سماجی (ای اینڈ ایس) ڈیو ڈیلجنس، جامع ماحولیاتی و سماجی مینجمنٹ سسٹم (ای ایس ایم ایس)، گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی اور صاف توانائی کی منتقلی میں تیزی شامل ہیں۔</p>
<p>ملک کے بڑے تجارتی بینک اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے مقررہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے تحت ماحول دوست مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔ ان میں گرین لون، تجدید پذیر توانائی کی فنانسنگ اور ماحول دوست سرمایہ کاری کے منصوبے شامل ہیں، جیسے سولر پینلز، توانائی مؤثر منصوبے اور ماحولیاتی تحفظ اتھارٹی (ای پی اے) کی نگرانی میں منصوبہ جاتی فنانسنگ۔</p>
<p>ڈاکٹر منّزہ عبدالمجید نے کہا کہ “ہمیں مالیاتی اداروں کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا ہوگا اور پائیداری کو فروغ دینا ہوگا، جس کے لیے گرین فنانسنگ، پائیدار سرمایہ کاری، ڈیجیٹل بینکاری اور کاغذ سے پاک اقدامات مثلاً ای-اسٹیٹمنٹس اور ای رسیدوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔”</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اب تک کوئی مکمل طور پر وقف شدہ گرین بینک باضابطہ طور پر قائم نہیں کیا گیا، تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے اقدامات کر رہا ہے۔</p>
<p><strong>الیکٹرک گاڑیاں</strong></p>
<p>ڈاکٹر منّزہ عبدالمجید نے کہا کہ پاکستان میں برقی موٹر بائیکس اور سولر پینلز کے فروغ کے لیے گرین بینک کم شرح سود پر قرضے، آسان اقساط پر فنانسنگ، ماحولیاتی کارکردگی سے منسلک سبسڈیز اور عوامی آگاہی مہمات متعارف کرا سکتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق گرین بینک مینوفیکچررز کے ساتھ شراکت داری کر کے صارفین کو برقی موٹر بائیکس اور گھروں کے لیے سولر سسٹمز پر مناسب مالی پیکجز فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے لیزنگ ماڈلز بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں جن میں صارفین ایندھن یا بجلی کے بلوں میں بچت کے ذریعے ماہانہ اقساط ادا کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومتی ضمانتیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ری فنانسنگ بینکوں کے لیے خطرات کو کم کر سکتی ہیں، جس سے ان منصوبوں کو زیادہ تیزی سے اپنانے میں مدد ملے گی۔ یہ حکمتِ عملی صاف توانائی کے فروغ، ایندھن کی درآمدات میں کمی، فضائی آلودگی میں کمی اور نئی سبز ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>مزید برآں انہوں نے زور دیا کہ بطور مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک کو سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے گرین آپریشنل سرگرمیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق برقی موٹر بائیکس اور سولر پینلز جیسے نئے منصوبوں میں گرین بینکوں کے ذریعے سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے، اور صنعت میں گرین آپریشنل سرگرمیاں اخراجات نہیں بلکہ بقا کی ضمانت ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277063</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 17:05:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/16155101777d084.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/16155101777d084.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
