<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خطرے کی علامات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی محاذ پر متعدد تشویشناک خبریں اقتصادی ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے کا سبب بننی چاہئیں: جولائی–اگست میں صرف 5.3 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات کی ادائیگی جو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے بجٹ کا محض 0.5 فیصد ہے، حکومت کے کل قرض میں 2025 میں 9 ٹریلین روپے کے اضافے اور یاماہا موٹر سائیکل کمپنی کے اس فیصلے کا اعلان کہ وہ پاکستان میں اپنی اسمبلی آپریشنز بند کر دے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پی ایس ڈی پی کے تحت ستمبر میں اخراجات کے اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے لیکن امکان کم ہے کہ حکومت قواعد کے مطابق بجٹ میں مختص پی ایس ڈی پی رقم کا 15 فیصد جاری کرنے میں کامیاب ہوپائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ حالیہ سیلاب کی زبردست تباہ کاری ایک بڑا عمل ہے مگر انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت کا قرض گزشتہ مالی سال میں کئی گنا بڑھ گیا جو جون 2025 کے سیلاب سے پہلے ہوا جس کے نتیجے میں نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی محدود ہو گئی، اور یہ رجحان جولائی میں بھی جاری رہا، جب نجی شعبے کو منفی 317.3 ارب روپے کا کریڈٹ فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی میں منفی اثر کے طور پر نکلا اور یہ منفی رجحان یاماہا کے اسمبلی آپریشنز بند کرنے کے فیصلے سے مزید گہرا ہو جائے گا، حالانکہ رپورٹس کے مطابق یاماہا کا یہ فیصلہ کاروباری نوعیت کا تھا اور پاکستان میں اس کے بہت چھوٹے مارکیٹ شیئر کی بنیاد پر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ کئی کابینہ ارکان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پالیسیاں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی حمایت کے لیے بنائی گئی ہیں، ایک دعویٰ جو تقریباً تمام سابقہ حکومتوں نے بھی دہرایا — بینکوں سے حاصل ہونے والا زیادہ تر قرض حکومت اپنے موجودہ اخراجات کی مالی اعانت کے لیے استعمال کرتی ہے، جو موجودہ بجٹ کا تقریباً 93 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ شرح پی ایس ڈی پی  کے بجٹ میں باقی 7 فیصد پر مبنی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، موجودہ حالات میں ممکن ہی نہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نجی شعبے کی وہ بچتیں جو نیشنل سیونگز سینٹرز میں جمع ہیں، اپنے استعمال کے لیے مختص کر لیتی ہے، یوں نجی بچتیں نہ تو ناکافی بنیادی ڈھانچے  سماجی یا فزیکل   ترقی کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور نہ ہی حقیقی سرمایہ کاری کے لیے، بلکہ صرف موجودہ اخراجات پورے کرنے میں لگتی ہیں۔ اس کے لیے نہ صرف فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، خصوصاً سرکاری ملازمین کی پنشن کے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر جاری رکھنے کے معاملے میں، بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ امیر طبقے کی قربانی سے یہ یقینی بنایا جائے کہ فنڈز حقیقی ترقی اور نمو کے لیے استعمال ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں حکومت کے قرض میں تیزی سے اضافے کی توقع ہے، کیونکہ حکومت نے 1.225 ٹریلین روپے تجارتی بینکوں سے ادھار لینے کی منظوری دی ہے تاکہ سرکلر توانائی سیکٹر کے قرض کو ختم کیا جاسکے، اس توقع کے ساتھ کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ موجودہ 11 فیصد سے کم ہو جائے گا اور حکومت اس کم شدہ قرض کی لاگت کو عوام تک کم ٹیرف کی شکل میں منتقل کرسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اس منظرنامے سے مکمل طور پر قائل نہیں ہے اور اس نے 10 فیصد ڈیٹ سروس سرچارج کی حد کو غیر محدود کرنے کی شرط عائد کی ہے تاکہ مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنائی جاسکے۔ اس کے باوجود وزیرِاعظم نے عوامی طور پر توانائی ٹاسک فورس کے ٹیم لیڈرز کا شکریہ ادا کیا اور اشارہ دیا کہ انہیں اس خدمت کے اعتراف میں قومی ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ کہ، اگرچہ سیلابی نقصان انتہائی شدید ہے، خاص طور پر ایسے ملک کے لیے جیسے پاکستان جہاں مالی وسائل پہلے ہی محدود ہیں، مگر ایسے بنیادی اصلاحات جو ہماری اقتصادی حرکیات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، ان پر تیز رفتاری سے عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں موجودہ اخراجات میں خاطر خواہ کمی، توانائی شعبے میں اصلاحات جو زیادہ قرض لینے کے بجائے زیادہ کارکردگی پر مبنی ہوں اور ٹیکس شعبے میں براہِ راست ٹیکسوں پر زیادہ انحصار شامل ہونا چاہیے، نہ کہ ان ڈائریکٹ ٹیکس جیسے سیلز ٹیکس پر، جس کا اثر غریب پر امیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاشی محاذ پر متعدد تشویشناک خبریں اقتصادی ٹیم کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے کا سبب بننی چاہئیں: جولائی–اگست میں صرف 5.3 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات کی ادائیگی جو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کیلئے بجٹ کا محض 0.5 فیصد ہے، حکومت کے کل قرض میں 2025 میں 9 ٹریلین روپے کے اضافے اور یاماہا موٹر سائیکل کمپنی کے اس فیصلے کا اعلان کہ وہ پاکستان میں اپنی اسمبلی آپریشنز بند کر دے گی۔</strong></p>
<p>اگرچہ پی ایس ڈی پی کے تحت ستمبر میں اخراجات کے اعدادوشمار ابھی جاری نہیں کیے گئے لیکن امکان کم ہے کہ حکومت قواعد کے مطابق بجٹ میں مختص پی ایس ڈی پی رقم کا 15 فیصد جاری کرنے میں کامیاب ہوپائے۔</p>
<p>جب کہ حالیہ سیلاب کی زبردست تباہ کاری ایک بڑا عمل ہے مگر انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت کا قرض گزشتہ مالی سال میں کئی گنا بڑھ گیا جو جون 2025 کے سیلاب سے پہلے ہوا جس کے نتیجے میں نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی محدود ہو گئی، اور یہ رجحان جولائی میں بھی جاری رہا، جب نجی شعبے کو منفی 317.3 ارب روپے کا کریڈٹ فراہم کیا گیا۔</p>
<p>اس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی میں منفی اثر کے طور پر نکلا اور یہ منفی رجحان یاماہا کے اسمبلی آپریشنز بند کرنے کے فیصلے سے مزید گہرا ہو جائے گا، حالانکہ رپورٹس کے مطابق یاماہا کا یہ فیصلہ کاروباری نوعیت کا تھا اور پاکستان میں اس کے بہت چھوٹے مارکیٹ شیئر کی بنیاد پر کیا گیا۔</p>
<p>قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ کئی کابینہ ارکان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پالیسیاں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی حمایت کے لیے بنائی گئی ہیں، ایک دعویٰ جو تقریباً تمام سابقہ حکومتوں نے بھی دہرایا — بینکوں سے حاصل ہونے والا زیادہ تر قرض حکومت اپنے موجودہ اخراجات کی مالی اعانت کے لیے استعمال کرتی ہے، جو موجودہ بجٹ کا تقریباً 93 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ شرح پی ایس ڈی پی  کے بجٹ میں باقی 7 فیصد پر مبنی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، موجودہ حالات میں ممکن ہی نہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نجی شعبے کی وہ بچتیں جو نیشنل سیونگز سینٹرز میں جمع ہیں، اپنے استعمال کے لیے مختص کر لیتی ہے، یوں نجی بچتیں نہ تو ناکافی بنیادی ڈھانچے  سماجی یا فزیکل   ترقی کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور نہ ہی حقیقی سرمایہ کاری کے لیے، بلکہ صرف موجودہ اخراجات پورے کرنے میں لگتی ہیں۔ اس کے لیے نہ صرف فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، خصوصاً سرکاری ملازمین کی پنشن کے ٹیکس دہندگان کے خرچ پر جاری رکھنے کے معاملے میں، بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ امیر طبقے کی قربانی سے یہ یقینی بنایا جائے کہ فنڈز حقیقی ترقی اور نمو کے لیے استعمال ہوں۔</p>
<p>افسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ مالی سال میں حکومت کے قرض میں تیزی سے اضافے کی توقع ہے، کیونکہ حکومت نے 1.225 ٹریلین روپے تجارتی بینکوں سے ادھار لینے کی منظوری دی ہے تاکہ سرکلر توانائی سیکٹر کے قرض کو ختم کیا جاسکے، اس توقع کے ساتھ کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ موجودہ 11 فیصد سے کم ہو جائے گا اور حکومت اس کم شدہ قرض کی لاگت کو عوام تک کم ٹیرف کی شکل میں منتقل کرسکے گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف اس منظرنامے سے مکمل طور پر قائل نہیں ہے اور اس نے 10 فیصد ڈیٹ سروس سرچارج کی حد کو غیر محدود کرنے کی شرط عائد کی ہے تاکہ مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنائی جاسکے۔ اس کے باوجود وزیرِاعظم نے عوامی طور پر توانائی ٹاسک فورس کے ٹیم لیڈرز کا شکریہ ادا کیا اور اشارہ دیا کہ انہیں اس خدمت کے اعتراف میں قومی ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ، اگرچہ سیلابی نقصان انتہائی شدید ہے، خاص طور پر ایسے ملک کے لیے جیسے پاکستان جہاں مالی وسائل پہلے ہی محدود ہیں، مگر ایسے بنیادی اصلاحات جو ہماری اقتصادی حرکیات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، ان پر تیز رفتاری سے عمل درآمد ضروری ہے۔ ان میں موجودہ اخراجات میں خاطر خواہ کمی، توانائی شعبے میں اصلاحات جو زیادہ قرض لینے کے بجائے زیادہ کارکردگی پر مبنی ہوں اور ٹیکس شعبے میں براہِ راست ٹیکسوں پر زیادہ انحصار شامل ہونا چاہیے، نہ کہ ان ڈائریکٹ ٹیکس جیسے سیلز ٹیکس پر، جس کا اثر غریب پر امیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277052</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 12:50:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1612444968a2f74.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1612444968a2f74.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
