<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:25:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:25:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ایران کی 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کی جانب پیش قدمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277049/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران نے اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ موقع تہران میں پاکستان–ایران بزنس فورم 2025 کا تھا، جس میں وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے خطاب کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے بزنس فورم کے دوران کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ خوشحالی کا نیا باب کھل رہا ہے۔ یہ فورم پاکستان–ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کے 22ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا اور دونوں ممالک کی قیادت کے اقتصادی عزم کا عملی ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے ایرانی اور پاکستانی کاروباری رہنماؤں، حکام اور سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے تہران میں اس فورم کے انعقاد کو دوستی کو عملی اقتصادی نتائج میں بدلنے کا مضبوط اشارہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایرانی حکومت اور ایرانی ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے بہترین انتظامات پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقتصادی شراکت داری اتنی ہی گہری اور دیرپا ہونی چاہیے جتنے صدیوں سے جاری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے جاری اور منصوبہ بند اقدامات کی تفصیل بیان کی، جن میں بینکاری سہولت، لاجسٹکس، شپنگ، ایوی ایشن، فری زونز، اعلیٰ معیار کی پیداوار، زراعت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق 17 نئے پروٹوکولز پر مذاکرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے روزگار بڑھانے کے لیے  سرحدی مارکیٹس اور خصوصی اقتصادی زونز کے فعال ہونے پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے شرکاء کو پاکستان کے نئے5 سالہ اقتصادی تبدیلی منصوبے اڑان پاکستان کے تحت سرمایہ کاروں تک بہتر رسائی کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جو توانائی، معدنیات، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت اور رابطہ کاری کو اعلیٰ ترین اسٹریٹجک ترجیح دی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارا صنعتی شعبہ ترقی کررہا ہے، خدمات اور آئی ٹی کا شعبہ بڑھ رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی جانب راغب ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے ایرانی کمپنیوں کو نومبر 2025 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے زرعی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی اور اسے مینوفیکچرنگ ہبز دریافت کرنے ہم منصبوں سے ملاقات کرنے اور نئے بازار تلاش کرنے کا ایک موقع قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تصدیق کی کہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 23 ویں اجلاس کا انعقاد بہت جلد پاکستان میں کیا جائے گا تاکہ تہران میں طے شدہ تمام معاہدوں پر قریبی نگرانی اور عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے اپنے خطاب میں حالیہ سیلابوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر پاکستانی عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں قابلِ ذکر اضافے کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ سال یہ 3.1 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر نے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں قیادتوں کے وژن کے تحت دونوں ممالک مستحکم انداز میں 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سپلائی چینز اور مسابقت کو مضبوط بنانے کیلئے ایک دوسرے کے موازنہ فوائد سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر نے فارماسیوٹیکلز، انجینئرڈ گڈز، سیرامکس اور دیگر قیمتی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں ایران کی گہری دلچسپی کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرزانہ صادق نے زور دیا کہ ایران پاکستان-ایران بزنس فورم کو دونوں ممالک کے لیے تعاون کو تیز کرنے اور عملی نتائج حاصل کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران نے اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر کے ہدف تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ موقع تہران میں پاکستان–ایران بزنس فورم 2025 کا تھا، جس میں وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے خطاب کیا۔</strong></p>
<p>جام کمال خان نے بزنس فورم کے دوران کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ خوشحالی کا نیا باب کھل رہا ہے۔ یہ فورم پاکستان–ایران مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کے 22ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا اور دونوں ممالک کی قیادت کے اقتصادی عزم کا عملی ثبوت ہے۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے ایرانی اور پاکستانی کاروباری رہنماؤں، حکام اور سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے تہران میں اس فورم کے انعقاد کو دوستی کو عملی اقتصادی نتائج میں بدلنے کا مضبوط اشارہ قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے ایرانی حکومت اور ایرانی ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے بہترین انتظامات پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقتصادی شراکت داری اتنی ہی گہری اور دیرپا ہونی چاہیے جتنے صدیوں سے جاری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روابط ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے جاری اور منصوبہ بند اقدامات کی تفصیل بیان کی، جن میں بینکاری سہولت، لاجسٹکس، شپنگ، ایوی ایشن، فری زونز، اعلیٰ معیار کی پیداوار، زراعت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق 17 نئے پروٹوکولز پر مذاکرات شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے روزگار بڑھانے کے لیے  سرحدی مارکیٹس اور خصوصی اقتصادی زونز کے فعال ہونے پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>جام کمال نے شرکاء کو پاکستان کے نئے5 سالہ اقتصادی تبدیلی منصوبے اڑان پاکستان کے تحت سرمایہ کاروں تک بہتر رسائی کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جو توانائی، معدنیات، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت اور رابطہ کاری کو اعلیٰ ترین اسٹریٹجک ترجیح دی ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمارا صنعتی شعبہ ترقی کررہا ہے، خدمات اور آئی ٹی کا شعبہ بڑھ رہا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان کی جانب راغب ہورہی ہے۔</p>
<p>وزیر تجارت نے ایرانی کمپنیوں کو نومبر 2025 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے زرعی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی اور اسے مینوفیکچرنگ ہبز دریافت کرنے ہم منصبوں سے ملاقات کرنے اور نئے بازار تلاش کرنے کا ایک موقع قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے تصدیق کی کہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے 23 ویں اجلاس کا انعقاد بہت جلد پاکستان میں کیا جائے گا تاکہ تہران میں طے شدہ تمام معاہدوں پر قریبی نگرانی اور عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے اپنے خطاب میں حالیہ سیلابوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر پاکستانی عوام کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں قابلِ ذکر اضافے کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ سال یہ 3.1 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی۔</p>
<p>ایرانی وزیر نے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں قیادتوں کے وژن کے تحت دونوں ممالک مستحکم انداز میں 10 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے سپلائی چینز اور مسابقت کو مضبوط بنانے کیلئے ایک دوسرے کے موازنہ فوائد سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔</p>
<p>ایرانی وزیر نے فارماسیوٹیکلز، انجینئرڈ گڈز، سیرامکس اور دیگر قیمتی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں میں ایران کی گہری دلچسپی کو اجاگر کیا۔</p>
<p>فرزانہ صادق نے زور دیا کہ ایران پاکستان-ایران بزنس فورم کو دونوں ممالک کے لیے تعاون کو تیز کرنے اور عملی نتائج حاصل کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277049</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 12:17:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/161215187ee8ba7.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/161215187ee8ba7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
