<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 04:50:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیئرمین ایف بی آر کا بدعنوان کسٹمز افسران کے خلاف اعلانِ جنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277036/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے پیر کے روز کرپٹ کسٹمز افسران کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسٹمز کلیرنس ریفارمز میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پوسٹ کلیرنس آڈٹ (پی سی اے) کے وہ افسران جنہوں نے فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ (ایف سی اے) کے خلاف مبہم رپورٹ تیار کر کے میڈیا کو لیک کی، ان کے خلاف بھی انتہا درجے کے اقدامات کیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں اسلام آباد اور کراچی کے کسٹمز افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پی سی اے کی رپورٹ میں فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کے بعد 100 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔ یہ رپورٹ دو ایسے افسران نے تیار کی جو ترقی سے محروم ہو گئے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو رپورٹ کی تیاری، اس کے میڈیا میں افشا ہونے اور ذمہ داری کا تعین کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نے کہا کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کے نفاذ کے بعد محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ عناصر اس نظام کو ختم کرانا چاہتے ہیں کیونکہ اب وہ اپنی مرضی کے مطابق مال کلیئر نہیں کرا سکتے۔ ممبر کسٹمز آپریشن سید شکیل شاہ نے بتایا کہ پی سی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ 1006 جی ڈیز (گڈز ڈیکلریشنز) میں 10.5 ارب روپے مالیت کی اشیائے خوردنی بغیر لازمی این او سی کلیئر ہوئیں، حالانکہ اصل پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان سنگل ونڈو میں متعلقہ ادارے خود اپنی شرائط اپلوڈ کرتے ہیں اور سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر کنسائمنٹ بلاک ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استعمال شدہ گاڑیوں کی انڈر انوائسنگ اور لینڈ کروزر کو صرف 17 ہزار روپے میں کلیئر کرنے کے الزامات بھی مسترد کر دیے گئے۔ حکام کے مطابق اصل مالیت کے مطابق 4 کروڑ 20 لاکھ روپے ڈیوٹی اور ٹیکس وصول کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گفٹ اور ریذیڈنس اسکیم دہائیوں سے رائج ہے اور اس میں کوئی فارن ایکسچینج آؤٹ فلو یا منی لانڈرنگ کا خطرہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی اے کی جانب سے 53 ارب روپے نقصان کا تخمینہ بھی غلط قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ہر ویلیو ایشن فرق کو غلط بیانی سمجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اصل میں 58 ملین روپے کی ممکنہ کمی سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر حکام نے کہا کہ رپورٹ کو متعلقہ کلیکٹریٹس کے ساتھ تفصیلی جائزے کے لیے شیئر کیا گیا ہے اور جہاں کمی ثابت ہوئی وہاں وصولی کی جائے گی۔ رپورٹ کو میڈیا میں قبل از وقت لیک کرنے سے ایف سی اے کے خلاف منفی تاثر پیدا کیا گیا، جس پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے پیر کے روز کرپٹ کسٹمز افسران کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسٹمز کلیرنس ریفارمز میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پوسٹ کلیرنس آڈٹ (پی سی اے) کے وہ افسران جنہوں نے فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ (ایف سی اے) کے خلاف مبہم رپورٹ تیار کر کے میڈیا کو لیک کی، ان کے خلاف بھی انتہا درجے کے اقدامات کیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں اسلام آباد اور کراچی کے کسٹمز افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پی سی اے کی رپورٹ میں فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کے بعد 100 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔ یہ رپورٹ دو ایسے افسران نے تیار کی جو ترقی سے محروم ہو گئے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو رپورٹ کی تیاری، اس کے میڈیا میں افشا ہونے اور ذمہ داری کا تعین کرے گی۔</p>
<p>چیئرمین نے کہا کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کے نفاذ کے بعد محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ عناصر اس نظام کو ختم کرانا چاہتے ہیں کیونکہ اب وہ اپنی مرضی کے مطابق مال کلیئر نہیں کرا سکتے۔ ممبر کسٹمز آپریشن سید شکیل شاہ نے بتایا کہ پی سی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ 1006 جی ڈیز (گڈز ڈیکلریشنز) میں 10.5 ارب روپے مالیت کی اشیائے خوردنی بغیر لازمی این او سی کلیئر ہوئیں، حالانکہ اصل پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان سنگل ونڈو میں متعلقہ ادارے خود اپنی شرائط اپلوڈ کرتے ہیں اور سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر کنسائمنٹ بلاک ہو جاتی ہے۔</p>
<p>استعمال شدہ گاڑیوں کی انڈر انوائسنگ اور لینڈ کروزر کو صرف 17 ہزار روپے میں کلیئر کرنے کے الزامات بھی مسترد کر دیے گئے۔ حکام کے مطابق اصل مالیت کے مطابق 4 کروڑ 20 لاکھ روپے ڈیوٹی اور ٹیکس وصول کیا گیا۔ مزید کہا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے گفٹ اور ریذیڈنس اسکیم دہائیوں سے رائج ہے اور اس میں کوئی فارن ایکسچینج آؤٹ فلو یا منی لانڈرنگ کا خطرہ نہیں۔</p>
<p>پی سی اے کی جانب سے 53 ارب روپے نقصان کا تخمینہ بھی غلط قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ہر ویلیو ایشن فرق کو غلط بیانی سمجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اصل میں 58 ملین روپے کی ممکنہ کمی سامنے آئی۔</p>
<p>ایف بی آر حکام نے کہا کہ رپورٹ کو متعلقہ کلیکٹریٹس کے ساتھ تفصیلی جائزے کے لیے شیئر کیا گیا ہے اور جہاں کمی ثابت ہوئی وہاں وصولی کی جائے گی۔ رپورٹ کو میڈیا میں قبل از وقت لیک کرنے سے ایف سی اے کے خلاف منفی تاثر پیدا کیا گیا، جس پر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277036</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 10:35:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/161034581204579.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/161034581204579.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
