<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ناقابلِ فہم ہے، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277033/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں ناقابلِ فہم قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کاروباری ماحول اور مجموعی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ موجودہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 6 سے 7 فیصد کی حد تک لایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر شرح سود کم کی جاتی تو حکومت کے قرضوں کے بوجھ میں تقریباً 3,500 ارب روپے کی نمایاں کمی آسکتی تھی، جو مالیاتی دباؤ کو کم کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3 فیصد تک گر چکی ہے، لیکن پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بلند شرح سود پیداواری لاگت بڑھاتی ہے جو بالآخر مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق اگر شرح سود سنگل ڈجٹ میں لائی جائے تو پیداواری لاگت میں کمی ہوگی، اشیا اور خدمات سستی ہوں گی اور مہنگائی میں مزید کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قبل ازیں یقین دہانی کرائی تھی کہ پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے گی، لیکن اسٹیٹس کو کا فیصلہ کاروباری برادری کے لیے مایوس کن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمومن خان نے خبردار کیا کہ شرح سود کو برقرار رکھنا کاروباری ماحول کو شدید نقصان پہنچائے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ایک سازگار مالیاتی پالیسی کے تحت سنگل ڈجٹ شرح سود صنعتی پیداوار بڑھانے، روزگار پیدا کرنے اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ فوری طور پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور معیشت کی ضروریات کے مطابق اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں ناقابلِ فہم قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کاروباری ماحول اور مجموعی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا۔</strong></p>
<p>عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ موجودہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کو 6 سے 7 فیصد کی حد تک لایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کی راہ ہموار ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر شرح سود کم کی جاتی تو حکومت کے قرضوں کے بوجھ میں تقریباً 3,500 ارب روپے کی نمایاں کمی آسکتی تھی، جو مالیاتی دباؤ کو کم کرتی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 3 فیصد تک گر چکی ہے، لیکن پاکستان میں شرح سود خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جو سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بلند شرح سود پیداواری لاگت بڑھاتی ہے جو بالآخر مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق اگر شرح سود سنگل ڈجٹ میں لائی جائے تو پیداواری لاگت میں کمی ہوگی، اشیا اور خدمات سستی ہوں گی اور مہنگائی میں مزید کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قبل ازیں یقین دہانی کرائی تھی کہ پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے گی، لیکن اسٹیٹس کو کا فیصلہ کاروباری برادری کے لیے مایوس کن ہے۔</p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمومن خان نے خبردار کیا کہ شرح سود کو برقرار رکھنا کاروباری ماحول کو شدید نقصان پہنچائے گا، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور ایک سازگار مالیاتی پالیسی کے تحت سنگل ڈجٹ شرح سود صنعتی پیداوار بڑھانے، روزگار پیدا کرنے اور قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ فوری طور پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور معیشت کی ضروریات کے مطابق اقدامات کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277033</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 10:01:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/161000204129eda.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/161000204129eda.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
