<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھوٹے کسانوں اور مائیکروفنانس شعبے کیلئے کلائمیٹ رسک فنڈ ون کا آغاز کر دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277028/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے ورلڈ بینک کے تعاون سے ریزیلیئنس اینڈ ایڈاپٹیشن مین اسٹریمینگ (آر اے ایم) منصوبے کے تحت کلائمیٹ رسک فنڈ ون (سی آر ایف-I) کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک کی سب سے زیادہ متاثرہ زرعی برادریوں اور مائیکروفنانس اداروں کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے جھٹکوں، بالخصوص سیلاب، سے محفوظ بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال مارچ میں ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے آر اے ایم منصوبے کے تحت 102 ملین امریکی ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد مائیکرو کریڈٹ تک رسائی میں اضافہ کرنا اور مائیکروفنانس سیکٹر اور اس کے قرض داروں کی لچک کو بڑھانا ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے جھٹکوں کا مقابلہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ دوچار ہیں، اور گزشتہ برسوں میں بار بار ماحولیاتی آفات کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2022 کے سیلاب اس خطرے کی واضح مثال ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبہ، خاص طور پر چھوٹے، خود کفیل اور بے زمین کسان، جو عموماً مائیکروفنانس اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے مائیکروفنانس بینکوں اور اداروں میں قرضوں کی عدم ادائیگی اور لیکویڈیٹی کے مسائل کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں اس شعبے کی ترقی متاثر ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں وفاقی حکومت نے مائیکروفنانس فراہم کنندگان (ایم ایف پیز) اور ان کے زرعی صارفین کی لچک کو بڑھانے کے لیے کلائمیٹ رسک فنڈ ون (سی آر ایف-I) قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فنڈ کا بنیادی مقصد کلائمیٹ ریزیلینٹ فارمنگ کو فروغ دینا اور سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کسانوں کو لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کرنا ہے۔ اس فنڈ کا انتظام اسٹیٹ بینک کرے گا جو وفاقی حکومت کے قائم کردہ ٹرسٹ کے تحت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی آر ایف ون اہل مائیکروفنانس فراہم کنندگان کو دو سہولتوں کے تحت فنانسنگ دے گا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 . انوویٹو ایگریکلچر لیکویڈیٹی (آئی اے ایل) سہولت – اس کے تحت ایم ایف پیز کو زرعی ٹیکنالوجی سے منسلک قرضے متعارف کرانے کے لیے فنانسنگ فراہم کی جائے گی تاکہ کسان موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلیں اور تکنیکیں اپنا سکیں اور اپنی پیداوار بڑھا سکیں۔
2. کنٹیجنٹ لیکویڈیٹی سہولت (سی ایل ایف) – یہ سہولت سیلاب کے بعد ایم ایف پیز کو فراہم کی جائے گی تاکہ وہ متاثرہ قرض داروں کو مزید قرضے دے سکیں یا موجودہ قرضوں کو ری اسٹرکچر کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے متاثرہ کسان اپنی آمدنی کے ذرائع کو بحال کر سکیں گے، قرضوں کی ادائیگی جاری رکھ سکیں گے اور مائیکروفنانس ادارے اپنی آپریشنل سرگرمیوں کو برقرار رکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے سی آر ایف ون کے لیے تفصیلی قواعد اور ماحولیاتی و سماجی مینجمنٹ سسٹمز  کی پالیسی و طریقہ کار بھی جاری کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروفنانس فراہم کنندگان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ 30 ستمبر 2025 تک اپنی درخواستیں اور ضروری دستاویزات جمع کروا کر سی آر ایف ون میں حصہ لینے کے لیے رجوع کریں۔ یہ درخواستیں سی آر ایف ون سیکریٹریٹ، پروگرام مینجمنٹ ڈویژن اور ایگریکلچرل کریڈٹ و فنانشل انکلیوژن ڈپارٹمنٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو جمع کرائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے ورلڈ بینک کے تعاون سے ریزیلیئنس اینڈ ایڈاپٹیشن مین اسٹریمینگ (آر اے ایم) منصوبے کے تحت کلائمیٹ رسک فنڈ ون (سی آر ایف-I) کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک کی سب سے زیادہ متاثرہ زرعی برادریوں اور مائیکروفنانس اداروں کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے جھٹکوں، بالخصوص سیلاب، سے محفوظ بنانا ہے۔</strong></p>
<p>اس سال مارچ میں ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے آر اے ایم منصوبے کے تحت 102 ملین امریکی ڈالر کی فنانسنگ کی منظوری دی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد مائیکرو کریڈٹ تک رسائی میں اضافہ کرنا اور مائیکروفنانس سیکٹر اور اس کے قرض داروں کی لچک کو بڑھانا ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے جھٹکوں کا مقابلہ کر سکیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ دوچار ہیں، اور گزشتہ برسوں میں بار بار ماحولیاتی آفات کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2022 کے سیلاب اس خطرے کی واضح مثال ہیں۔</p>
<p>زرعی شعبہ، خاص طور پر چھوٹے، خود کفیل اور بے زمین کسان، جو عموماً مائیکروفنانس اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے مائیکروفنانس بینکوں اور اداروں میں قرضوں کی عدم ادائیگی اور لیکویڈیٹی کے مسائل کے خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں اس شعبے کی ترقی متاثر ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں وفاقی حکومت نے مائیکروفنانس فراہم کنندگان (ایم ایف پیز) اور ان کے زرعی صارفین کی لچک کو بڑھانے کے لیے کلائمیٹ رسک فنڈ ون (سی آر ایف-I) قائم کیا ہے۔</p>
<p>اس فنڈ کا بنیادی مقصد کلائمیٹ ریزیلینٹ فارمنگ کو فروغ دینا اور سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کسانوں کو لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کرنا ہے۔ اس فنڈ کا انتظام اسٹیٹ بینک کرے گا جو وفاقی حکومت کے قائم کردہ ٹرسٹ کے تحت ہوگا۔</p>
<p>سی آر ایف ون اہل مائیکروفنانس فراہم کنندگان کو دو سہولتوں کے تحت فنانسنگ دے گا:</p>
<p>1 . انوویٹو ایگریکلچر لیکویڈیٹی (آئی اے ایل) سہولت – اس کے تحت ایم ایف پیز کو زرعی ٹیکنالوجی سے منسلک قرضے متعارف کرانے کے لیے فنانسنگ فراہم کی جائے گی تاکہ کسان موسمیاتی لحاظ سے موزوں فصلیں اور تکنیکیں اپنا سکیں اور اپنی پیداوار بڑھا سکیں۔
2. کنٹیجنٹ لیکویڈیٹی سہولت (سی ایل ایف) – یہ سہولت سیلاب کے بعد ایم ایف پیز کو فراہم کی جائے گی تاکہ وہ متاثرہ قرض داروں کو مزید قرضے دے سکیں یا موجودہ قرضوں کو ری اسٹرکچر کر سکیں۔</p>
<p>اس اقدام سے متاثرہ کسان اپنی آمدنی کے ذرائع کو بحال کر سکیں گے، قرضوں کی ادائیگی جاری رکھ سکیں گے اور مائیکروفنانس ادارے اپنی آپریشنل سرگرمیوں کو برقرار رکھ سکیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے سی آر ایف ون کے لیے تفصیلی قواعد اور ماحولیاتی و سماجی مینجمنٹ سسٹمز  کی پالیسی و طریقہ کار بھی جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p>مائیکروفنانس فراہم کنندگان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ 30 ستمبر 2025 تک اپنی درخواستیں اور ضروری دستاویزات جمع کروا کر سی آر ایف ون میں حصہ لینے کے لیے رجوع کریں۔ یہ درخواستیں سی آر ایف ون سیکریٹریٹ، پروگرام مینجمنٹ ڈویژن اور ایگریکلچرل کریڈٹ و فنانشل انکلیوژن ڈپارٹمنٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو جمع کرائی جائیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277028</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Sep 2025 09:25:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1609234501f5d19.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1609234501f5d19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
