<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:36:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:36:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا ’میثاقِ معیشت‘</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی پالیسیوں میں تسلسل کے لیے وقتاً فوقتاً مطالبات کیے جاتے رہے ہیں، جنہیں ترقی کے حصول کے لیے ہر آنے والی معاشی ٹیم کی قیادت نے نہایت اہم قرار دیا ہے۔ گزشتہ ایک یا دو دہائیوں میں یہ مطالبہ نسبتاً غیر جدت انگیز عنوان ”میثاقِ معیشت“ کے تحت سامنے آتا رہا ہے، جو دراصل 2006 میں دستخط ہونے والے ”میثاقِ جمہوریت“ سے متاثر ہے، جس پر اُس وقت کی دو بڑی قومی جماعتوں کے رہنماؤں، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف، نے دستخط کیے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ پچیس برسوں کے بجٹوں پر نظر ڈالیں، چاہے وہ پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دور کے ہوں یا بعد میں تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشی پالیسیاں حیرت انگیز حد تک یکساں رہی ہیں: ٹیکس نظام میں موجود غیر منصفانہ، غیر مساوی اور متضاد ڈھانچے میں اصلاحات لانے کے بجائے انہی آسانی سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں سے آمدنی بڑھانے کی مستقل کوشش، اور جاری اخراجات میں مسلسل اضافہ جو اندرونی و بیرونی قرضوں سے پورا کیا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال عوام دوست بجٹ کے دعوے کے طور پر ”پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام“ (پی ایس ڈی پی) میں اضافہ ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن مالی سال کے اختتام تک اس میں کمی کر دی جاتی ہے تاکہ خسارے کو قابلِ برداشت سطح پر لایا جا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں ہو۔ تاہم اس شرط کی بھی اپنی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان اب تک اپنی 78 سالہ تاریخ میں 24 مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہو چکا ہے، جن کی اوسط مدت تقریباً تین سال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2025/09/1506462602becc2.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2008 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے قیام کے بعد سے اس کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، اگرچہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کا نام بدلنے کی کوششیں کیں (2013 سے 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) نے اسے ”انکم سپورٹ پروگرام“ کہا، جبکہ 2018 سے 2022 تک اسے ”احساس“ پروگرام کہا گیا)، لیکن یہ اضافہ غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکا۔ ورلڈ بینک کے مطابق، آج پاکستان میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک 44.7 فیصد ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معاشی ترقی اور تنزلی کے چکر ( بوم بسٹ سائیکل) کو ملکی خودمختار ماہرینِ معاشیات کئی دہائیوں سے اجاگر کرتے آ رہے ہیں، اور اسی چیز کا ذکر ستمبر 2024 میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ایک دستاویز میں بھی کیا گیا ہے، جس کا عنوان تھا: ”اسٹاف لیول معاہدہ برائے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کا مطالبہ“۔ اس میں پالیسیوں کے تسلسل میں موجود خامیوں کی جانب بالواسطہ اشارہ کیا گیا: ”وقت کے ساتھ ساتھ معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان کے ترقی و زوال کے معاشی نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیاں ایک دوسرے کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ مالی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے معیشت کو بار بار سہارا دینے کی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہ ہو سکیں، کیونکہ اندرونی طلب پاکستان کی پائیدار استعداد سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں افراطِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی، خاص طور پر مستحکم ایکسچینج ریٹ کو برقرار رکھنے کی سیاسی ترجیح کے سبب۔ ہر نیا زوال پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے جذبے کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف حکومتوں کے ادوار میں پالیسیوں میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ زیادہ تر ایک مخصوص اشرافیہ کے ذیلی شعبے کو دوسرے پر ترجیح دینے تک محدود رہیں، مثلاً برآمدکنندگان، شوگر مل مالکان، دیگر پیداواری شعبے یا امیر زمیندار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں اس بات کا نوٹس لیا کہ مالیاتی اور مانیٹری مراعات مکمل طور پر ناکام ہوئیں: ”حکومت کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بشمول زرعی اجناس، ایندھن، بجلی، اور گیس (ہر چھ ماہ بعد)، کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور نان-ٹیرف تحفظات نے میدان کو مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔ اس تمام امداد کے باوجود، کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرتی گئیں اور وسائل کو دائمی طور پر غیر موثر (اور ہمیشہ کے لیے ’نووارد‘) صنعتوں میں جکڑ دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;افسوس کی بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ  کیپچر) کو کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، سوائے ایمنسٹی اسکیموں کے، جنہیں بین الاقوامی مالیاتی ادارے سختی سے مسترد کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ اسکیمیں ایماندار ٹیکس دہندگان کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں؛ اسی طرح مقامی ماہرینِ معاشیات بھی ان پر تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اسکیمیں اشرافیہ کی جانب سے جمع کی گئی کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی اسکیموں کا استعمال 2023 تک جاری رہا، جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے زور دیا کہ مزید ایمنسٹی اسکیمیں نہ دی جائیں، بصورتِ دیگر پہلے سے منظور شدہ قرض پروگرام روک دیا جائے گا۔ ذیل میں پیش کی گئی معلومات آئی سی ایم اے (انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس) کی جولائی-اگست 2018 کی اشاعت سے لی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل 2018 میں غیر ملکی اثاثوں کی ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں 80 ارب روپے کی اضافی وصولی ہوئی، بعد میں عمران خان کی حکومت نے بھی اس اسکیم کو توسیع دی، جس کے تحت غیر ظاہر شدہ اثاثوں پر صرف 4 فیصد ادائیگی کی شرط رکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے سرمایہ کاروں، بالخصوص بلڈرز اور ڈیولپرز، کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو مزید چھ ماہ (یعنی 30 جون 2022 تک) بڑھا دیا، اور انہیں مقررہ ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی، جو کیلنڈر سال کے اختتام تک دستیاب تھا۔ بعد ازاں، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے وضاحت کی کہ یہی وہ اسکیم تھی جس کے ذریعے ان کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح گوگی نے ان کے دورِ حکومت میں دولت بنائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی ایم اے نے ایمنسٹی اسکیموں کا موازنہ بھارت، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، بیلجیم، جرمنی، انڈونیشیا، اسپین، اور اٹلی سے کیا ہے، مگر یہ موازنہ درست نہیں کیونکہ ان تمام ممالک کو تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے موزوں (انوسٹمنٹ گریڈ) درجہ حاصل ہے (زیادہ تر اپر میڈیم یا ہائی گریڈ)، جبکہ پاکستان کو کبھی بھی انوسٹمنٹ گریڈ ریٹنگ حاصل نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی خسارے میں کمی کا ہدف مقرر کیا ہے: 2024-25 میں خسارہ 7444 ارب روپے سے کم کر کے 2025-26 میں 6501 ارب روپے کرنے کا ہدف ہے (یعنی 943 ارب روپے کی کمی)۔ اسی طرح، صوبائی سرپلس 1464 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 1009 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہے، اور یوں مجموعی مالی خسارہ 6435 ارب روپے سے گھٹا کر 5037 ارب روپے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ تمام اہداف اس بات پر منحصر ہیں کہ آمدنی ویسی ہی حاصل ہو جیسا بجٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے، بغیر کسی پالیسی تبدیلی کے، جبکہ اب بھی 75 سے 80 فیصد انحصار بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ٹیکسوں پر ہے، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے یہ ہدف بھی شرحِ سود میں کمی کے ذریعے جاری اخراجات میں کمی پر رکھا ہے، جبکہ ماضی کی طرح دیگر تمام مدات میں اخراجات کو بڑھایا گیا ہے۔ لیکن موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر شرح سود میں نمایاں کمی اور اخراجات میں کمی بعید از قیاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ سادہ الفاظ میں، سب کچھ ویسے ہی جاری ہے، ٹیکس کے نظام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، اور بجٹ میں دی گئی رقوم بھی ویسی ہی ہیں جیسے پہلے ہوتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معاشی پالیسیوں میں تسلسل کے لیے وقتاً فوقتاً مطالبات کیے جاتے رہے ہیں، جنہیں ترقی کے حصول کے لیے ہر آنے والی معاشی ٹیم کی قیادت نے نہایت اہم قرار دیا ہے۔ گزشتہ ایک یا دو دہائیوں میں یہ مطالبہ نسبتاً غیر جدت انگیز عنوان ”میثاقِ معیشت“ کے تحت سامنے آتا رہا ہے، جو دراصل 2006 میں دستخط ہونے والے ”میثاقِ جمہوریت“ سے متاثر ہے، جس پر اُس وقت کی دو بڑی قومی جماعتوں کے رہنماؤں، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف، نے دستخط کیے تھے۔</strong></p>
<p>گزشتہ پچیس برسوں کے بجٹوں پر نظر ڈالیں، چاہے وہ پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دور کے ہوں یا بعد میں تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشی پالیسیاں حیرت انگیز حد تک یکساں رہی ہیں: ٹیکس نظام میں موجود غیر منصفانہ، غیر مساوی اور متضاد ڈھانچے میں اصلاحات لانے کے بجائے انہی آسانی سے وصول کیے جانے والے ٹیکسوں سے آمدنی بڑھانے کی مستقل کوشش، اور جاری اخراجات میں مسلسل اضافہ جو اندرونی و بیرونی قرضوں سے پورا کیا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ہر سال عوام دوست بجٹ کے دعوے کے طور پر ”پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام“ (پی ایس ڈی پی) میں اضافہ ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن مالی سال کے اختتام تک اس میں کمی کر دی جاتی ہے تاکہ خسارے کو قابلِ برداشت سطح پر لایا جا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں ہو۔ تاہم اس شرط کی بھی اپنی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان اب تک اپنی 78 سالہ تاریخ میں 24 مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہو چکا ہے، جن کی اوسط مدت تقریباً تین سال رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2025/09/1506462602becc2.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>2008 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے قیام کے بعد سے اس کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، اگرچہ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کا نام بدلنے کی کوششیں کیں (2013 سے 2018 کے دوران مسلم لیگ (ن) نے اسے ”انکم سپورٹ پروگرام“ کہا، جبکہ 2018 سے 2022 تک اسے ”احساس“ پروگرام کہا گیا)، لیکن یہ اضافہ غربت کی بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکا۔ ورلڈ بینک کے مطابق، آج پاکستان میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک 44.7 فیصد ہو چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی معاشی ترقی اور تنزلی کے چکر ( بوم بسٹ سائیکل) کو ملکی خودمختار ماہرینِ معاشیات کئی دہائیوں سے اجاگر کرتے آ رہے ہیں، اور اسی چیز کا ذکر ستمبر 2024 میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی ایک دستاویز میں بھی کیا گیا ہے، جس کا عنوان تھا: ”اسٹاف لیول معاہدہ برائے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کا مطالبہ“۔ اس میں پالیسیوں کے تسلسل میں موجود خامیوں کی جانب بالواسطہ اشارہ کیا گیا: ”وقت کے ساتھ ساتھ معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان کے ترقی و زوال کے معاشی نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیاں ایک دوسرے کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ مالی اور مانیٹری محرکات کے ذریعے معیشت کو بار بار سہارا دینے کی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہ ہو سکیں، کیونکہ اندرونی طلب پاکستان کی پائیدار استعداد سے تجاوز کر گئی، جس کے نتیجے میں افراطِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی، خاص طور پر مستحکم ایکسچینج ریٹ کو برقرار رکھنے کی سیاسی ترجیح کے سبب۔ ہر نیا زوال پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے جذبے کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔“</p>
<p>مختلف حکومتوں کے ادوار میں پالیسیوں میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ زیادہ تر ایک مخصوص اشرافیہ کے ذیلی شعبے کو دوسرے پر ترجیح دینے تک محدود رہیں، مثلاً برآمدکنندگان، شوگر مل مالکان، دیگر پیداواری شعبے یا امیر زمیندار۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے اپنی اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں اس بات کا نوٹس لیا کہ مالیاتی اور مانیٹری مراعات مکمل طور پر ناکام ہوئیں: ”حکومت کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بشمول زرعی اجناس، ایندھن، بجلی، اور گیس (ہر چھ ماہ بعد)، کے ساتھ ساتھ بلند ٹیرف اور نان-ٹیرف تحفظات نے میدان کو مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا۔ اس تمام امداد کے باوجود، کاروباری شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا، اور یہ مراعات بالآخر مسابقت کو کمزور کرتی گئیں اور وسائل کو دائمی طور پر غیر موثر (اور ہمیشہ کے لیے ’نووارد‘) صنعتوں میں جکڑ دیا۔“</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>افسوس کی بات یہ ہے کہ مجموعی طور پر اشرافیہ کی گرفت (ایلیٹ  کیپچر) کو کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، سوائے ایمنسٹی اسکیموں کے، جنہیں بین الاقوامی مالیاتی ادارے سختی سے مسترد کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ اسکیمیں ایماندار ٹیکس دہندگان کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں؛ اسی طرح مقامی ماہرینِ معاشیات بھی ان پر تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ اسکیمیں اشرافیہ کی جانب سے جمع کی گئی کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>ایمنسٹی اسکیموں کا استعمال 2023 تک جاری رہا، جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے زور دیا کہ مزید ایمنسٹی اسکیمیں نہ دی جائیں، بصورتِ دیگر پہلے سے منظور شدہ قرض پروگرام روک دیا جائے گا۔ ذیل میں پیش کی گئی معلومات آئی سی ایم اے (انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس) کی جولائی-اگست 2018 کی اشاعت سے لی گئی ہیں۔</p>
<p>اپریل 2018 میں غیر ملکی اثاثوں کی ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں 80 ارب روپے کی اضافی وصولی ہوئی، بعد میں عمران خان کی حکومت نے بھی اس اسکیم کو توسیع دی، جس کے تحت غیر ظاہر شدہ اثاثوں پر صرف 4 فیصد ادائیگی کی شرط رکھی گئی تھی۔</p>
<p>حکومت نے سرمایہ کاروں، بالخصوص بلڈرز اور ڈیولپرز، کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو مزید چھ ماہ (یعنی 30 جون 2022 تک) بڑھا دیا، اور انہیں مقررہ ٹیکس نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی، جو کیلنڈر سال کے اختتام تک دستیاب تھا۔ بعد ازاں، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے وضاحت کی کہ یہی وہ اسکیم تھی جس کے ذریعے ان کی اہلیہ کی قریبی دوست فرح گوگی نے ان کے دورِ حکومت میں دولت بنائی۔</p>
<p>آئی سی ایم اے نے ایمنسٹی اسکیموں کا موازنہ بھارت، امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، بیلجیم، جرمنی، انڈونیشیا، اسپین، اور اٹلی سے کیا ہے، مگر یہ موازنہ درست نہیں کیونکہ ان تمام ممالک کو تینوں بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے موزوں (انوسٹمنٹ گریڈ) درجہ حاصل ہے (زیادہ تر اپر میڈیم یا ہائی گریڈ)، جبکہ پاکستان کو کبھی بھی انوسٹمنٹ گریڈ ریٹنگ حاصل نہیں ہوئی۔</p>
<p>حکومت نے مالی خسارے میں کمی کا ہدف مقرر کیا ہے: 2024-25 میں خسارہ 7444 ارب روپے سے کم کر کے 2025-26 میں 6501 ارب روپے کرنے کا ہدف ہے (یعنی 943 ارب روپے کی کمی)۔ اسی طرح، صوبائی سرپلس 1464 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 1009 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہے، اور یوں مجموعی مالی خسارہ 6435 ارب روپے سے گھٹا کر 5037 ارب روپے کیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم یہ تمام اہداف اس بات پر منحصر ہیں کہ آمدنی ویسی ہی حاصل ہو جیسا بجٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے، بغیر کسی پالیسی تبدیلی کے، جبکہ اب بھی 75 سے 80 فیصد انحصار بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ٹیکسوں پر ہے، جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے یہ ہدف بھی شرحِ سود میں کمی کے ذریعے جاری اخراجات میں کمی پر رکھا ہے، جبکہ ماضی کی طرح دیگر تمام مدات میں اخراجات کو بڑھایا گیا ہے۔ لیکن موجودہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر شرح سود میں نمایاں کمی اور اخراجات میں کمی بعید از قیاس ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ سادہ الفاظ میں، سب کچھ ویسے ہی جاری ہے، ٹیکس کے نظام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، اور بجٹ میں دی گئی رقوم بھی ویسی ہی ہیں جیسے پہلے ہوتی رہی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277017</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 16:26:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/151554131f0bb76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/151554131f0bb76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
