<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277009/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ توقعات کے عین مطابق پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا بیان جلد جاری کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ اجلاس جو 30 جولائی 2025 کو ہوا، میں کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ توانائی کی قیمتوں، خاص طور پر گیس ٹیرف میں اضافے کے باعث مہنگائی کا منظرنامہ متاثر ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے کیونکہ ماہرین اقتصادیات نے پیش گوئی کی تھی کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گی، کیونکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود برقرار رکھے گی کیونکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے کے مطابق 72 فیصد مارکیٹ شرکاء  کو توقع  ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے جو فصلوں کو نقصان اور سپلائی چین کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، پالیسی ریٹ میں تبدیلی نہیں ہوگی، کیونکہ اس سے آنے والے مہینوں میں مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ اسٹیٹ بینک ستمبر 2025 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگرچہ موجودہ ہیڈلائن مہنگائی اور بیرونی مالی استحکام ریٹ میں کمی کیلئے گنجائش فراہم کرتے ہیں تاہم حالیہ سیلاب کے اثرات جو مہنگائی کے دباؤ، مالی خدشات اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، محتاط رویے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل نے خبردار کیا کہ درآمدات کے بڑھنے کے ساتھ بیرونی دباؤ دوبارہ سامنے آسکتا ہے، خاص طور پر زراعت اور کپاس میں تاکہ سیلاب کے باعث ملکی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد کئی اہم اقتصادی پیش رفتیں ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر 0.5 فیصد بڑھ گئی ہے جب کہ پٹرول کی قیمتوں میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد تقریباً 10 فیصد گرچکی ہیں اور موجودہ وقت میں تقریباً 63 ڈالر  فی بیرل کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں اگست 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر ہیڈلائن مہنگائی کی شرح 3 فیصد رہی جو جولائی 2025 کے مقابلے میں کم ہے جب یہ 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ جولائی 2025 میں 254 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا جب کہ جون 2025 میں 328 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا اور یہ جولائی 2024 میں 350 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر 34 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 5 ستمبر 2025 تک 14.34 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ملک کےمجموعی زرمبادلہ ذخائر 19.68 ارب ڈالر رہے جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس نیٹ زرمبادلہ ذخائر 5.34 ارب ڈالر تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ توقعات کے عین مطابق پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا بیان جلد جاری کیا جائے گا۔</p>
<p>گزشتہ اجلاس جو 30 جولائی 2025 کو ہوا، میں کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ توانائی کی قیمتوں، خاص طور پر گیس ٹیرف میں اضافے کے باعث مہنگائی کا منظرنامہ متاثر ہوا تھا۔</p>
<p>شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے کیونکہ ماہرین اقتصادیات نے پیش گوئی کی تھی کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گی، کیونکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔</p>
<p>ماہرین اقتصادیات کو توقع ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود برقرار رکھے گی کیونکہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے کے مطابق 72 فیصد مارکیٹ شرکاء  کو توقع  ہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے جو فصلوں کو نقصان اور سپلائی چین کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، پالیسی ریٹ میں تبدیلی نہیں ہوگی، کیونکہ اس سے آنے والے مہینوں میں مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ اسٹیٹ بینک ستمبر 2025 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھے گا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگرچہ موجودہ ہیڈلائن مہنگائی اور بیرونی مالی استحکام ریٹ میں کمی کیلئے گنجائش فراہم کرتے ہیں تاہم حالیہ سیلاب کے اثرات جو مہنگائی کے دباؤ، مالی خدشات اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، محتاط رویے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔</p>
<p>اے ایچ ایل نے خبردار کیا کہ درآمدات کے بڑھنے کے ساتھ بیرونی دباؤ دوبارہ سامنے آسکتا ہے، خاص طور پر زراعت اور کپاس میں تاکہ سیلاب کے باعث ملکی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی جاسکے۔</p>
<p>گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد کئی اہم اقتصادی پیش رفتیں ہوئی ہیں۔</p>
<p>روپے کی قدر 0.5 فیصد بڑھ گئی ہے جب کہ پٹرول کی قیمتوں میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد تقریباً 10 فیصد گرچکی ہیں اور موجودہ وقت میں تقریباً 63 ڈالر  فی بیرل کے قریب ہے۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں اگست 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر ہیڈلائن مہنگائی کی شرح 3 فیصد رہی جو جولائی 2025 کے مقابلے میں کم ہے جب یہ 4.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>مزید برآں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ جولائی 2025 میں 254 ملین ڈالر کے خسارے میں رہا جب کہ جون 2025 میں 328 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا اور یہ جولائی 2024 میں 350 ملین ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں ہفتہ وار بنیاد پر 34 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 5 ستمبر 2025 تک 14.34 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔</p>
<p>مجموعی طور پر ملک کےمجموعی زرمبادلہ ذخائر 19.68 ارب ڈالر رہے جبکہ تجارتی بینکوں کے پاس نیٹ زرمبادلہ ذخائر 5.34 ارب ڈالر تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277009</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 14:51:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/151329460188e4c.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/151329460188e4c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
