<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:45:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:45:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ایران کا سڑک اور ریلوے انفرااسٹرکچر بہتر بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276999/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ایران نے سڑک و ریلوے کے بہتر انفرااسٹرکچر اور بندرگاہوں کی ترقی کے ذریعے باہمی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیرِ صنعت و تجارت سید محمد عطابک کے درمیان ملاقات میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کا 10 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف باہمی کوششوں اور عوامی روابط کے فروغ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے بعد سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ پاکستان پر ایرانی حکومت کے اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دونوں جانب کے مسلسل دورے ہمارے تجارتی اہداف کے حصول کے لیے ترقی پسند رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کا اجلاس تجارتی سرگرمیوں میں سہولت کیلئے رکاوٹوں کو دور کرنے کے عملی طریقہ کار طے کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کا موجودہ تجارتی حجم 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو حوصلہ افزا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزرا نے بارٹر ٹریڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط اور بارڈر مارکیٹس کو فعال بنانا تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزراء نے بتایا کہ وہ اجناس کی فہرست کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت نجی شعبے کو بھرپور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ کیا جا سکے۔
حالیہ مہینوں میں ایران کو پاکستانی چاول اور گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست میں پاکستان اور ایران نے اپنے اقتصادی شراکت داری کو نمایاں طور پر مضبوط کرنے کا عزم کیا اور دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور ثقافتی تعاون کے حوالے سے 12 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ایران نے سڑک و ریلوے کے بہتر انفرااسٹرکچر اور بندرگاہوں کی ترقی کے ذریعے باہمی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیرِ صنعت و تجارت سید محمد عطابک کے درمیان ملاقات میں ہوا۔</p>
<p>ایرانی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کا 10 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف باہمی کوششوں اور عوامی روابط کے فروغ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے بعد سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ پاکستان پر ایرانی حکومت کے اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دونوں جانب کے مسلسل دورے ہمارے تجارتی اہداف کے حصول کے لیے ترقی پسند رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مشترکہ اقتصادی کمیشن (جے ای سی) کا اجلاس تجارتی سرگرمیوں میں سہولت کیلئے رکاوٹوں کو دور کرنے کے عملی طریقہ کار طے کرے گا۔</p>
<p>جام کمال نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کا موجودہ تجارتی حجم 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو حوصلہ افزا ہے۔</p>
<p>دونوں وزرا نے بارٹر ٹریڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط اور بارڈر مارکیٹس کو فعال بنانا تجارتی تعاون کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>دونوں وزراء نے بتایا کہ وہ اجناس کی فہرست کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>جام کمال نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت نجی شعبے کو بھرپور سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ کیا جا سکے۔
حالیہ مہینوں میں ایران کو پاکستانی چاول اور گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p>اگست میں پاکستان اور ایران نے اپنے اقتصادی شراکت داری کو نمایاں طور پر مضبوط کرنے کا عزم کیا اور دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا۔</p>
<p>دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور ثقافتی تعاون کے حوالے سے 12 معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276999</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 11:07:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/15110240eaaff34.webp" type="image/webp" medium="image" height="810" width="1080">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/15110240eaaff34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
