<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی تھنک ٹینک نے شرحِ سود کم کرنے کی سفارش کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276992/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکانامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نامی معاشی تھنک ٹینک نے تجویز دی ہے کہ پالیسی شرحِ سود کو فوری طور پر موجودہ 11 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کیا جائے تاکہ سیلاب کے بعد زرعی اور صنعتی شعبوں کی بحالی میں مدد مل سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے اور اب معیشت کے استحکام کے لیے صنعتی ترقی کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صنعتوں کو مسابقتی فنانسنگ لاگت کے ساتھ چلانا چاہتی ہے یا موجودہ ناقابلِ برداشت قرض لاگت کے ساتھ ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکانامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے مطابق شرحِ سود میں کمی سے حکومت کو سالانہ 3 کھرب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جسے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ قرض کی لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعت زرعی شعبے کے نقصانات کی جزوی طور پر تلافی کر سکے گی۔ البتہ خبردار کیا گیا کہ شرح سود بلند رکھنے سے صنعتی ترقی کا گلا گھٹ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک نے مزید تجویز دی کہ دوسرے مرحلے میں شرح سود کو 9 فیصد سے مزید کم کرکے 6 فیصد کیا جائے، اور متنبہ کیا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے چاول کی فصل کا 60 فیصد، کپاس کا 35 فیصد اور گنے کا 30 فیصد متاثر ہوا ہے جبکہ تقریباً 40 فیصد لیبر فورس بھی متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.2 فیصد تک سست ہونے کا امکان ہے جبکہ تجارتی خسارہ مزید 1.9 ارب ڈالر بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای پی بی ڈی نے زور دیا کہ سیلاب کے بعد پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنا معیشت کے لیےناقابلِ برداشت ہوگا، جس سے مالی دباؤ بڑھے گا اور صنعتی ترقی رُک جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکانامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نامی معاشی تھنک ٹینک نے تجویز دی ہے کہ پالیسی شرحِ سود کو فوری طور پر موجودہ 11 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کیا جائے تاکہ سیلاب کے بعد زرعی اور صنعتی شعبوں کی بحالی میں مدد مل سکے۔</strong></p>
<p>تھنک ٹینک نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے اور اب معیشت کے استحکام کے لیے صنعتی ترقی کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صنعتوں کو مسابقتی فنانسنگ لاگت کے ساتھ چلانا چاہتی ہے یا موجودہ ناقابلِ برداشت قرض لاگت کے ساتھ ۔</p>
<p>اکانامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے مطابق شرحِ سود میں کمی سے حکومت کو سالانہ 3 کھرب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جسے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ قرض کی لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعت زرعی شعبے کے نقصانات کی جزوی طور پر تلافی کر سکے گی۔ البتہ خبردار کیا گیا کہ شرح سود بلند رکھنے سے صنعتی ترقی کا گلا گھٹ رہا ہے۔</p>
<p>تھنک ٹینک نے مزید تجویز دی کہ دوسرے مرحلے میں شرح سود کو 9 فیصد سے مزید کم کرکے 6 فیصد کیا جائے، اور متنبہ کیا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے چاول کی فصل کا 60 فیصد، کپاس کا 35 فیصد اور گنے کا 30 فیصد متاثر ہوا ہے جبکہ تقریباً 40 فیصد لیبر فورس بھی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.2 فیصد تک سست ہونے کا امکان ہے جبکہ تجارتی خسارہ مزید 1.9 ارب ڈالر بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>ای پی بی ڈی نے زور دیا کہ سیلاب کے بعد پالیسی ریٹ کو 11 فیصد پر برقرار رکھنا معیشت کے لیےناقابلِ برداشت ہوگا، جس سے مالی دباؤ بڑھے گا اور صنعتی ترقی رُک جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276992</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 10:04:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1510025433a4253.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1510025433a4253.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
