<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کو مغربی آسٹریلیا کے ایٹمی آبدوز شپ یارڈ تک رسائی دینگے، وزیر دفاع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276971/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک اہم معاہدے کے تحت واشنگٹن کو مغربی آسٹریلیا میں قائم کی جانے والی نئی دفاعی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جنہیں آوکُس معاہدے کے تحت ایٹمی آبدوزوں کی فراہمی اور مرمت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے مطابق آسٹریلیا ہینڈرسن شپ یارڈ (پرتھ کے قریب) کی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 12 ارب آسٹریلوی ڈالر (8 ارب امریکی ڈالر) خرچ کرے گا۔ 20 سالہ منصوبے کے تحت اسے  آوکُس آبدوز بیڑے کے مرکزی مرمت مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ یہ سہولت  آوکُس معاہدے کا حصہ ہے اور مستقبل میں امریکا بھی اپنی ایٹمی آبدوزوں کے لیے یہاں ڈرائی ڈاک استعمال کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ آسٹریلیا کی مستقبل کی آبدوزوں کو برقرار رکھنے اور مرمت کے لیے ہے لیکن اس کا فائدہ اتحادیوں کو بھی پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بائیں بازو کی لیبر حکومت پہلے ہی اس منصوبے پر 127 ملین آسٹریلوی ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ شپ یارڈ میں آرمی کے لیے نئی لینڈنگ کرافٹ اور بحریہ کے لیے جنرل پرپز فریگیٹس بھی تیار کی جائیں گی، جس سے 10 ہزار مقامی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آوکُس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو ورجینیا کلاس ایٹمی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا مل کر نئی  آوکُس کلاس آبدوزیں تیار کریں گے۔ اس سے قبل امریکی اور برطانوی جہاز باری باری آسٹریلیا آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم انتھونی البانیز کے مطابق یہ انتظام اتحادیوں کے لیے بھی بڑا فائدہ ہوگا۔ آسٹریلیا اور برطانیہ نے جولائی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اگلے 50 سال تک  آوکُس تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک اہم معاہدے کے تحت واشنگٹن کو مغربی آسٹریلیا میں قائم کی جانے والی نئی دفاعی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جنہیں آوکُس معاہدے کے تحت ایٹمی آبدوزوں کی فراہمی اور مرمت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔</strong></p>
<p>حکومت کے مطابق آسٹریلیا ہینڈرسن شپ یارڈ (پرتھ کے قریب) کی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 12 ارب آسٹریلوی ڈالر (8 ارب امریکی ڈالر) خرچ کرے گا۔ 20 سالہ منصوبے کے تحت اسے  آوکُس آبدوز بیڑے کے مرکزی مرمت مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔</p>
<p>وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے کہا کہ یہ سہولت  آوکُس معاہدے کا حصہ ہے اور مستقبل میں امریکا بھی اپنی ایٹمی آبدوزوں کے لیے یہاں ڈرائی ڈاک استعمال کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ آسٹریلیا کی مستقبل کی آبدوزوں کو برقرار رکھنے اور مرمت کے لیے ہے لیکن اس کا فائدہ اتحادیوں کو بھی پہنچے گا۔</p>
<p>مرکزی بائیں بازو کی لیبر حکومت پہلے ہی اس منصوبے پر 127 ملین آسٹریلوی ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ شپ یارڈ میں آرمی کے لیے نئی لینڈنگ کرافٹ اور بحریہ کے لیے جنرل پرپز فریگیٹس بھی تیار کی جائیں گی، جس سے 10 ہزار مقامی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>آوکُس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو ورجینیا کلاس ایٹمی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ برطانیہ اور آسٹریلیا مل کر نئی  آوکُس کلاس آبدوزیں تیار کریں گے۔ اس سے قبل امریکی اور برطانوی جہاز باری باری آسٹریلیا آئیں گے۔</p>
<p>وزیر اعظم انتھونی البانیز کے مطابق یہ انتظام اتحادیوں کے لیے بھی بڑا فائدہ ہوگا۔ آسٹریلیا اور برطانیہ نے جولائی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اگلے 50 سال تک  آوکُس تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276971</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Sep 2025 11:45:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/141144295f874df.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/141144295f874df.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
