<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی ترقیاتی بینک کے کیریک ٹرنچ-III منصوبہ، سینیٹ کمیٹی نے بولیاں کالعدم قرار دے دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276963/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے ایشیائی ترقیاتی بینک  کے کیریک (CAREC) ٹرنچ-III منصوبے (راجن پور-ڈیرہ غازی خان-ڈیرہ اسماعیل خان) میں شامل تینوں کمپنیوں ایم/ایس این ایکس سی سی ، ایم/ایس ڈائنامک کنسٹرکٹرز اور ایم/ایس رستم ایسوسی ایٹس کی بولیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ مقامی شراکت دار اوسط سالانہ ٹرن اوور کے لازمی معیار پر پورا نہیں اترے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جس میں این ایچ اے، اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) اور پیپرا حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ آڈیٹرز کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات غیر تصدیق شدہ، مشکوک اور ممکنہ طور پر جعلی تھے، جبکہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ہدایت دی کہ ای اے ڈی اور متعلقہ ادارہ (این ایچ اے) فوری طور پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو آگاہ کریں کہ یہ بولیاں تکنیکی طور پر ناقابل قبول ہیں اور این ایچ اے حکام و کنٹریکٹرز کی بدنیتی کے باعث ہی ان میں ہیرا پھیری کی گئی۔ مزید برآں، تینوں کمپنیوں کو جعلی دستاویزات جمع کرانے پر بلیک لسٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ خط کی نقول وزیراعظم اور کمیٹی کو بھی بھجوائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے آڈیٹر اے بی ایم اینڈ کمپنی (چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس) کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی ہدایت دی، جنہوں نے بغیر معاون دستاویزات کے رپورٹ تیار کی۔ اسی طرح ثالث ظفر حسین صدیقی کے خلاف بھی مبینہ ہیرا پھیری پر کارروائی کی سفارش کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ منصوبے کی بولی کا جائزہ آڈیٹر کی رپورٹس پر مبنی تھا، جبکہ شراکت دار کمپنی این ایکس سی سی ماضی میں کئی منصوبوں میں نااہل قرار دی جا چکی ہے، جن میں 2021 کا کیریک ٹرنچ-II (شکارپور-راجن پور) اور 2022 کا یارک-ژوب منصوبہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں، 2023 میں این ایچ اے ایگزیکٹو کمیٹی نے لودھراں-ملتان منصوبہ بھی غیر کارکردگی کے باعث ختم کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ این ایچ اے نے ثالث کے طور پر ایسے شخص کا تقرر کیا جو ماضی میں شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ منسلک رہا ہے۔ پیپرا حکام نے وضاحت دی کہ غیر ملکی مالی معاون منصوبوں میں اگر پیپرا قواعد اور ڈونر ایجنسی کے قواعد میں تضاد ہو تو ڈونر ایجنسی کے قواعد کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ای اے ڈی اور این ایچ اے کو ہدایت دی کہ وہ سیکشن I (چکدرہ-تیمرگرہ) منصوبے اور چترال اپروچ روڈ کی بحالی سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔ مزید یہ کہ شانڈور-گلگت منصوبے میں شریک کمپنیوں سے تقریباً 1.7 ارب روپے کی ٹیکس رعایت کی وصولی بھی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے ایشیائی ترقیاتی بینک  کے کیریک (CAREC) ٹرنچ-III منصوبے (راجن پور-ڈیرہ غازی خان-ڈیرہ اسماعیل خان) میں شامل تینوں کمپنیوں ایم/ایس این ایکس سی سی ، ایم/ایس ڈائنامک کنسٹرکٹرز اور ایم/ایس رستم ایسوسی ایٹس کی بولیوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ مقامی شراکت دار اوسط سالانہ ٹرن اوور کے لازمی معیار پر پورا نہیں اترے۔</strong></p>
<p>اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جس میں این ایچ اے، اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) اور پیپرا حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ آڈیٹرز کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات غیر تصدیق شدہ، مشکوک اور ممکنہ طور پر جعلی تھے، جبکہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی۔</p>
<p>کمیٹی نے ہدایت دی کہ ای اے ڈی اور متعلقہ ادارہ (این ایچ اے) فوری طور پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو آگاہ کریں کہ یہ بولیاں تکنیکی طور پر ناقابل قبول ہیں اور این ایچ اے حکام و کنٹریکٹرز کی بدنیتی کے باعث ہی ان میں ہیرا پھیری کی گئی۔ مزید برآں، تینوں کمپنیوں کو جعلی دستاویزات جمع کرانے پر بلیک لسٹ کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ خط کی نقول وزیراعظم اور کمیٹی کو بھی بھجوائی جائیں گی۔</p>
<p>کمیٹی نے آڈیٹر اے بی ایم اینڈ کمپنی (چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس) کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی ہدایت دی، جنہوں نے بغیر معاون دستاویزات کے رپورٹ تیار کی۔ اسی طرح ثالث ظفر حسین صدیقی کے خلاف بھی مبینہ ہیرا پھیری پر کارروائی کی سفارش کی گئی۔</p>
<p>چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ منصوبے کی بولی کا جائزہ آڈیٹر کی رپورٹس پر مبنی تھا، جبکہ شراکت دار کمپنی این ایکس سی سی ماضی میں کئی منصوبوں میں نااہل قرار دی جا چکی ہے، جن میں 2021 کا کیریک ٹرنچ-II (شکارپور-راجن پور) اور 2022 کا یارک-ژوب منصوبہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں، 2023 میں این ایچ اے ایگزیکٹو کمیٹی نے لودھراں-ملتان منصوبہ بھی غیر کارکردگی کے باعث ختم کر دیا تھا۔</p>
<p>مزید برآں، کمیٹی نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ این ایچ اے نے ثالث کے طور پر ایسے شخص کا تقرر کیا جو ماضی میں شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ منسلک رہا ہے۔ پیپرا حکام نے وضاحت دی کہ غیر ملکی مالی معاون منصوبوں میں اگر پیپرا قواعد اور ڈونر ایجنسی کے قواعد میں تضاد ہو تو ڈونر ایجنسی کے قواعد کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ای اے ڈی اور این ایچ اے کو ہدایت دی کہ وہ سیکشن I (چکدرہ-تیمرگرہ) منصوبے اور چترال اپروچ روڈ کی بحالی سے متعلق جامع رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کریں۔ مزید یہ کہ شانڈور-گلگت منصوبے میں شریک کمپنیوں سے تقریباً 1.7 ارب روپے کی ٹیکس رعایت کی وصولی بھی کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276963</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Sep 2025 10:22:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/14102123e362df9.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="900">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/14102123e362df9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
