<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:21:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:21:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیوٹی پر ریلیف اور رعایتیں، ایف بی آر کو مالی سال 24 میں 161 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276957/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 2023-24 کے دوران پولٹری، ٹیکسٹائل سیکٹرز اور متفرق درآمدی اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ اور رعایتوں کے باعث 161 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑا، جو کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت دی گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی جاری کردہ ٹیکس ایکسپنڈیچر رپورٹ 2025 کے مطابق دالیں، آلو وغیرہ جیسی ضروری خوردنی اشیا، تیل اور تیل کی مصنوعات، برآمدی شعبوں کے ان پٹس وغیرہ کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ/کم شرحوں کے باعث 2023-24 میں 124 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔ پاک-چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے تحت چین سے درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی کی عمومی چھوٹ کا ریونیو اثر اس عرصے میں 47 ارب روپے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکردہ 10 کیٹیگریز میں کسٹمز ڈیوٹی کا مجموعی خرچ 566 ارب روپے رہا، جو 2023-24 کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کے مجموعی خرچ کا 87.73 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023-24 کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کا کُل خرچ 652.39 ارب روپے تخمینہ کیا گیا ہے۔ یہ کسٹمز ڈیوٹی رعایتیں بنیادی طور پر کم شرحوں، صفر شرحوں اور مخصوص شعبوں یا اشیاء کو دی گئی چھوٹ کی صورت میں فراہم کی گئیں۔ یہ رعایتیں وسیع طور پر مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہیں جن میں پلانٹ مشینری، آلات، کیمیکلز، پرزہ جات اور قابلِ تجدید توانائی کے آلات وغیرہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق، 2023-24 میں کسٹمز ڈیوٹی کا خرچ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.62 فیصد ہے اور کُل ٹیکس اخراجات میں اس کا حصہ 26.80 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 2023-24 کے دوران پولٹری، ٹیکسٹائل سیکٹرز اور متفرق درآمدی اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ اور رعایتوں کے باعث 161 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑا، جو کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت دی گئیں۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کی جاری کردہ ٹیکس ایکسپنڈیچر رپورٹ 2025 کے مطابق دالیں، آلو وغیرہ جیسی ضروری خوردنی اشیا، تیل اور تیل کی مصنوعات، برآمدی شعبوں کے ان پٹس وغیرہ کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ/کم شرحوں کے باعث 2023-24 میں 124 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا۔ پاک-چین فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے تحت چین سے درآمدات پر کسٹمز ڈیوٹی کی عمومی چھوٹ کا ریونیو اثر اس عرصے میں 47 ارب روپے رہا۔</p>
<p>سرکردہ 10 کیٹیگریز میں کسٹمز ڈیوٹی کا مجموعی خرچ 566 ارب روپے رہا، جو 2023-24 کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کے مجموعی خرچ کا 87.73 فیصد ہے۔</p>
<p>2023-24 کے لیے کسٹمز ڈیوٹی کا کُل خرچ 652.39 ارب روپے تخمینہ کیا گیا ہے۔ یہ کسٹمز ڈیوٹی رعایتیں بنیادی طور پر کم شرحوں، صفر شرحوں اور مخصوص شعبوں یا اشیاء کو دی گئی چھوٹ کی صورت میں فراہم کی گئیں۔ یہ رعایتیں وسیع طور پر مختلف کیٹیگریز میں تقسیم ہیں جن میں پلانٹ مشینری، آلات، کیمیکلز، پرزہ جات اور قابلِ تجدید توانائی کے آلات وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق، 2023-24 میں کسٹمز ڈیوٹی کا خرچ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.62 فیصد ہے اور کُل ٹیکس اخراجات میں اس کا حصہ 26.80 فیصد ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276957</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Sep 2025 09:21:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/14092026181491f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/14092026181491f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
