<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:48:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے سیلابی اخراجات اور بجٹ لچک کا جائزہ لیا جائے گا، آئی ایم ایف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276955/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہفتہ کے روز پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا آئندہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت جائزہ مشن اس بات کا تجزیہ کرے گا کہ آیا پاکستان کی مالی پالیسی اور ہنگامی اخراجات کی گنجائش اس بحران سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں آئی ایم ایف کے مستقل نمائندے ماہیر بینچی نے ایک بیان میں کہا کہ ”یہ مشن مالی سال 2025-26 کے بجٹ، اس کے اخراجاتی مختص اور ہنگامی اخراجات کی شقوں کا جائزہ لے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ سیلاب کے باعث درکار اخراجات کے لیے کافی حد تک لچکدار ہیں یا نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق حالیہ شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں کے باعث اب تک 972 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیلاب پنجاب بھر میں فصلوں، مویشیوں اور گھروں کو تباہ کر چکے ہیں اور اب سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے غذائی مہنگائی اور مزید معاشی بدحالی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایک تازہ جائزہ (پول) کے مطابق، پاکستان کے مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کی جانب سے پیر کے روز کلیدی پالیسی شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ پالیسی ساز ایک جانب فصلوں کے نقصانات سے ممکنہ مہنگائی کے خطرات اور دوسری جانب معیشت کی سست روی کے درمیان توازن تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ماہرِ معیشت کے اندازے کے مطابق زرعی شعبے کو پہنچنے والا نقصان رواں مالی سال کی اقتصادی شرحِ نمو میں 0.2 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتا ہے، جب کہ تعمیرِ نو کی وجہ سے پیدا ہونے والی طلب اس کمی کا صرف جزوی ازالہ ہی کر سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال مئی میں آئی ایم ایف کے بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.4 ارب ڈالر کا نیا قرض منظور کیا، جس کا مقصد ملک کو ماحولیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے مقابلے میں معاشی لچک فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اعلیٰ آئی ایم ایف عہدیدار کے مطابق یہ فنڈز اسی صورت میں جاری کیے جائیں گے جب پاکستان ای ایف ایف (ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی) کے تحت جائزہ مراحل کامیابی سے مکمل کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ اور خطرے سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہفتہ کے روز پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا آئندہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت جائزہ مشن اس بات کا تجزیہ کرے گا کہ آیا پاکستان کی مالی پالیسی اور ہنگامی اخراجات کی گنجائش اس بحران سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔</strong></p>
<p>پاکستان میں آئی ایم ایف کے مستقل نمائندے ماہیر بینچی نے ایک بیان میں کہا کہ ”یہ مشن مالی سال 2025-26 کے بجٹ، اس کے اخراجاتی مختص اور ہنگامی اخراجات کی شقوں کا جائزہ لے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ سیلاب کے باعث درکار اخراجات کے لیے کافی حد تک لچکدار ہیں یا نہیں۔“</p>
<p>پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق حالیہ شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں کے باعث اب تک 972 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔</p>
<p>یہ سیلاب پنجاب بھر میں فصلوں، مویشیوں اور گھروں کو تباہ کر چکے ہیں اور اب سندھ کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے غذائی مہنگائی اور مزید معاشی بدحالی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایک تازہ جائزہ (پول) کے مطابق، پاکستان کے مرکزی بینک (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کی جانب سے پیر کے روز کلیدی پالیسی شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ پالیسی ساز ایک جانب فصلوں کے نقصانات سے ممکنہ مہنگائی کے خطرات اور دوسری جانب معیشت کی سست روی کے درمیان توازن تلاش کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایک ماہرِ معیشت کے اندازے کے مطابق زرعی شعبے کو پہنچنے والا نقصان رواں مالی سال کی اقتصادی شرحِ نمو میں 0.2 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتا ہے، جب کہ تعمیرِ نو کی وجہ سے پیدا ہونے والی طلب اس کمی کا صرف جزوی ازالہ ہی کر سکے گی۔</p>
<p>رواں سال مئی میں آئی ایم ایف کے بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.4 ارب ڈالر کا نیا قرض منظور کیا، جس کا مقصد ملک کو ماحولیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے مقابلے میں معاشی لچک فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>ایک اعلیٰ آئی ایم ایف عہدیدار کے مطابق یہ فنڈز اسی صورت میں جاری کیے جائیں گے جب پاکستان ای ایف ایف (ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی) کے تحت جائزہ مراحل کامیابی سے مکمل کرے گا۔</p>
<p>واضح رہے کہ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ اور خطرے سے دوچار ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276955</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Sep 2025 22:58:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1322574571004bf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="720">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1322574571004bf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
