<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جذبات عروج پر، پاکستان اور بھارت مئی کی جھڑپوں کے بعد دوبارہ آمنے سامنے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ ہمیشہ ہی بڑی توجہ کا مرکز بنتا ہے، لیکن اس بار اتوار کو ایشیا کپ میں ہونے والا مقابلہ غیر معمولی جذباتی رنگ لیے ہوئے ہے۔ جوہری صلاحیت کے حامل ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان رواں سال مئی میں چار روزہ فوجی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن کی گونج اب تک باقی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جھڑپوں سے بھی قبل، دوطرفہ کرکٹ روابط پہلے ہی معطل تھے اور اب دونوں ٹیمیں صرف کثیر الملکی ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تعلقات میں مزید کشیدگی آ چکی ہے اور کئی سابق بھارتی کھلاڑیوں نے بی سی سی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے۔ یہ میچ دونوں ٹیموں کے درمیان کشیدگی کے بعد پہلا  مقابلہ ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بائیکاٹ کا خطرہ اب ٹل چکا ہے، مگر میدان میں ٹکراؤ کی فضا قائم ہے۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو اور پاکستانی ٹیم کے قائد سلمان آغا دونوں ہی گروپ اے  کے اس ہائی وولٹیج مقابلے میں جارحانہ کھیل کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت جو اس وقت ٹی ٹوئنٹی عالمی چیمپیئن ہے، ایشیا کپ کا اعزاز برقرار رکھنے کا مضبوط دعوے دار ہے اور جیوپولیٹیکل عوامل کو اپنی مہم پر اثرانداز نہیں ہونے دینا چاہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی بیٹنگ کوچ ستانشو کوٹک نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”جب بی سی سی آئی نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے سے ہم آہنگ ہے، تو ہم یہاں کھیلنے کے لیے آ گئے۔ جب ہم کھیلنے کے لیے یہاں موجود ہیں تو کھلاڑیوں کی تمام توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے۔ میری ذاتی رائے میں ان کے ذہن میں کرکٹ کے سوا کچھ اور نہیں، اور ہمارا فوکس بھی یہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کوچ مائیک ہیسن بھی اپنی ٹیم کو فوکس میں رکھنے کے خواہاں ہیں، اگرچہ وہ اس مقابلے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ ”کسی ایسے ایونٹ کا حصہ بننا، جو جذبات سے بھرپور ہو، یقیناً ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ میری نظر میں اصل بات یہ ہے کہ ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری پر توجہ مرکوز رکھے اور ہمارا معمول کا یہی طریقہ کار ہو گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم جانتے ہیں کہ بھارت کو اپنی صلاحیت پر بھرپور اعتماد ہے، اور بجا طور پر ہے۔ لیکن ہماری ساری توجہ بطور ٹیم روزانہ کی بنیاد پر بہتری کی جانب ہے، اور ہم کسی قسم کی قبل از وقت خود اعتمادی کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹھ ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں بھارت اب تک سب سے مضبوط اسکواڈ کے طور پر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب اس کی ٹیم میں فاسٹ بولنگ کے ستون جسپریت بمراہ اور ٹاپ آرڈر بیٹر شبمن گل کی شمولیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو بھارت نے متحدہ عرب امارات کو صرف 13.1 اوورز میں 57 رنز پر ڈھیر کر کے نو وکٹ سے باآسانی شکست دی، اور محض 27 گیندوں میں ہدف حاصل کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے بھی عمان کے خلاف ایک آسان فتح کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا، تاہم بیٹنگ لائن میں تسلسل کی کمی بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت اپنے سابق کپتانوں بابر اعظم اور محمد رضوان کے بغیر میدان میں اتر رہا ہے، تاہم ایشیا کپ سے قبل متحدہ عرب امارات میں افغانستان کے ہمراہ کھیلی گئی تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنا ٹیم کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کپتان سلمان آغا نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
”ہم گزشتہ دو تین ماہ سے اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں، اور ہمیں بس اسی تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”اگر ہم اپنے منصوبوں پر مسلسل عمل درآمد کر پائیں، تو ہم کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ ہمیشہ ہی بڑی توجہ کا مرکز بنتا ہے، لیکن اس بار اتوار کو ایشیا کپ میں ہونے والا مقابلہ غیر معمولی جذباتی رنگ لیے ہوئے ہے۔ جوہری صلاحیت کے حامل ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان رواں سال مئی میں چار روزہ فوجی جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن کی گونج اب تک باقی ہے۔</strong></p>
<p>ان جھڑپوں سے بھی قبل، دوطرفہ کرکٹ روابط پہلے ہی معطل تھے اور اب دونوں ٹیمیں صرف کثیر الملکی ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔</p>
<p>سیاسی تعلقات میں مزید کشیدگی آ چکی ہے اور کئی سابق بھارتی کھلاڑیوں نے بی سی سی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے۔ یہ میچ دونوں ٹیموں کے درمیان کشیدگی کے بعد پہلا  مقابلہ ہو گا۔</p>
<p>اگرچہ بائیکاٹ کا خطرہ اب ٹل چکا ہے، مگر میدان میں ٹکراؤ کی فضا قائم ہے۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو اور پاکستانی ٹیم کے قائد سلمان آغا دونوں ہی گروپ اے  کے اس ہائی وولٹیج مقابلے میں جارحانہ کھیل کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔</p>
<p>بھارت جو اس وقت ٹی ٹوئنٹی عالمی چیمپیئن ہے، ایشیا کپ کا اعزاز برقرار رکھنے کا مضبوط دعوے دار ہے اور جیوپولیٹیکل عوامل کو اپنی مہم پر اثرانداز نہیں ہونے دینا چاہتا۔</p>
<p>بھارتی بیٹنگ کوچ ستانشو کوٹک نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”جب بی سی سی آئی نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے سے ہم آہنگ ہے، تو ہم یہاں کھیلنے کے لیے آ گئے۔ جب ہم کھیلنے کے لیے یہاں موجود ہیں تو کھلاڑیوں کی تمام توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے۔ میری ذاتی رائے میں ان کے ذہن میں کرکٹ کے سوا کچھ اور نہیں، اور ہمارا فوکس بھی یہی ہے۔“</p>
<p>پاکستانی کوچ مائیک ہیسن بھی اپنی ٹیم کو فوکس میں رکھنے کے خواہاں ہیں، اگرچہ وہ اس مقابلے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔</p>
<p>نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ ”کسی ایسے ایونٹ کا حصہ بننا، جو جذبات سے بھرپور ہو، یقیناً ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ میری نظر میں اصل بات یہ ہے کہ ہر کھلاڑی اپنی ذمہ داری پر توجہ مرکوز رکھے اور ہمارا معمول کا یہی طریقہ کار ہو گا۔“</p>
<p>”ہم جانتے ہیں کہ بھارت کو اپنی صلاحیت پر بھرپور اعتماد ہے، اور بجا طور پر ہے۔ لیکن ہماری ساری توجہ بطور ٹیم روزانہ کی بنیاد پر بہتری کی جانب ہے، اور ہم کسی قسم کی قبل از وقت خود اعتمادی کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔“</p>
<p>آٹھ ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ میں بھارت اب تک سب سے مضبوط اسکواڈ کے طور پر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب اس کی ٹیم میں فاسٹ بولنگ کے ستون جسپریت بمراہ اور ٹاپ آرڈر بیٹر شبمن گل کی شمولیت ہوئی۔</p>
<p>جمعرات کو بھارت نے متحدہ عرب امارات کو صرف 13.1 اوورز میں 57 رنز پر ڈھیر کر کے نو وکٹ سے باآسانی شکست دی، اور محض 27 گیندوں میں ہدف حاصل کر لیا۔</p>
<p>پاکستان نے بھی عمان کے خلاف ایک آسان فتح کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا، تاہم بیٹنگ لائن میں تسلسل کی کمی بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس وقت اپنے سابق کپتانوں بابر اعظم اور محمد رضوان کے بغیر میدان میں اتر رہا ہے، تاہم ایشیا کپ سے قبل متحدہ عرب امارات میں افغانستان کے ہمراہ کھیلی گئی تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنا ٹیم کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>پاکستانی کپتان سلمان آغا نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
”ہم گزشتہ دو تین ماہ سے اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں، اور ہمیں بس اسی تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔“</p>
<p>”اگر ہم اپنے منصوبوں پر مسلسل عمل درآمد کر پائیں، تو ہم کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276951</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Sep 2025 18:37:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/13182145baa6ea1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/13182145baa6ea1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
