<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلاتِ زر کا بہاؤ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جولائی تا اگست 2025  ترسیلاتِ زر 6.35 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 5.94 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں مہینوں کو ملا کر دیکھا جائے تو موجودہ سال پچھلے سال کے مقابلے میں ترسیلات میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم، اگست 2025 کی ترسیلات جولائی 2025 میں 3,214.5 ملین امریکی ڈالر کے انفلوز سے 76.6 ملین امریکی ڈالر کم ہیں، یعنی 2.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، کیونکہ مالی سال 2024-25 میں یہ 38.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال 2023-24 میں کل 30,250.8 ملین امریکی ڈالر تھیں، یعنی 27 فیصد اضافہ۔ یہ ترسیلات ملک کے لیے مطلوبہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہیں اور مالی سال 2025 میں 32.3 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہماری بعض برآمدات کے لیے خام مال کی درآمد ضروری ہے، جس نے منفی تجارتی توازن میں حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی) نے بلا شبہ ترسیلاتِ زر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس اسکیم کی مالی معاونت کی لاگت 2024 میں 72.95 بلین روپے سے بڑھ کر 2025 میں 124.14 بلین روپے ہو گئی، یعنی 70 فیصد اضافہ۔ اس میں پی آر آئی نیٹ ورک میں مالیاتی اداروں کی تعداد کو 2009 میں 25 سے بڑھا کر 2024 میں 50 سے زائد تک پہنچانا شامل ہے، جس میں روایتی بینک، اسلامی بینک، مائیکروفنانس بینک اور ایکسچینج کمپنیز شامل ہیں، اور الیکٹرانک منی اداروں کو بینکوں کے ذریعے ترسیلات وصول کرنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظوری کے تحت موجودہ سال کے بجٹ میں ان مراعات کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ سبسڈی کے اخراجات کے لیے 30 ارب روپے کا اضافی گرانٹ فراہم کیا جائے، جو کہ فیصلے کو واپس کرنے کے مترادف اور قابلِ ستائش اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹس کے مطابق پی آر آئی کی نظرِثانی ابھی زیرِ غور ہے، جس کا مقصد اسکیم کو مستحکم بنانا ہے تاکہ ادائیگیوں میں اضافہ ترسیلاتِ زر کی بڑھوتری سے زیادہ نہ ہو۔ حقیقی معنوں میں، پچھلے سال کے مقابلے میں اس اسکیم کی لاگت میں 51.9 بلین روپے (180 ملین امریکی ڈالر سے کم) اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ 8.05 بلین امریکی ڈالر رہا، یعنی پی آر آئی کے فوائد اور اس کی لاگت کا موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ زر ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ ڈالتی ہیں، کیونکہ یہ وصول کنندہ گھروں میں صارفیت کو بڑھاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ واضح نہیں کہ آیا یہ رقم پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوتی ہے، البتہ شواہد موجود ہیں کہ یہ رئیل اسٹیٹ کی خریداری اور تعمیرات کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں ترسیلات کا جی ڈی پی میں حصہ 7.85 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، 2025 میں برآمدات ترسیلات سے کم رہیں، تاہم برآمدات پر توجہ برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں، پاکستان آج 22 فیصد بے روزگاری کا سامنا کر رہا ہےبلکہ ترسیلات کی طرح یہ ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے حکومت کو برآمد کنندگان کو سبسڈی دینے سے روک دیا ہے، اور دلیل دی ہے کہ ”تجارتی شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا ہے، اور مراعات آخرکار مقابلے کو کمزور کرتی ہیں اور وسائل کو مسلسل غیر مؤثر شعبوں میں پھنسادیتی ہیں، جن میں ہمیشہ ’ابتدائی‘ صنعتیں شامل ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پابندی سے ہماری ترسیلاتِ زر پر انحصار مزید بڑھ جائے گا تاکہ ادائیگیوں کے توازن کو پائیدار بنایا جا سکے، اور اگر ترسیلات کم ہوں، خاص طور پر حالیہ سیلاب کی تباہ کاری کے بعد، تو غیر ملکی قرضوں پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت آنے والے دوسرے جائزہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو اور پی آر آئی اور برآمدات کے لیے سبسڈی کو اس وقت تک برقرار رکھے جب تک اقتصادی ترقی میں بہتری نہ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جولائی تا اگست 2025  ترسیلاتِ زر 6.35 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 5.94 ارب ڈالر تھیں۔</strong></p>
<p>ان دونوں مہینوں کو ملا کر دیکھا جائے تو موجودہ سال پچھلے سال کے مقابلے میں ترسیلات میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم، اگست 2025 کی ترسیلات جولائی 2025 میں 3,214.5 ملین امریکی ڈالر کے انفلوز سے 76.6 ملین امریکی ڈالر کم ہیں، یعنی 2.3 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>ماضی کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، کیونکہ مالی سال 2024-25 میں یہ 38.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال 2023-24 میں کل 30,250.8 ملین امریکی ڈالر تھیں، یعنی 27 فیصد اضافہ۔ یہ ترسیلات ملک کے لیے مطلوبہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہیں اور مالی سال 2025 میں 32.3 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہماری بعض برآمدات کے لیے خام مال کی درآمد ضروری ہے، جس نے منفی تجارتی توازن میں حصہ ڈالا۔</p>
<p>پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (پی آر آئی) نے بلا شبہ ترسیلاتِ زر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس اسکیم کی مالی معاونت کی لاگت 2024 میں 72.95 بلین روپے سے بڑھ کر 2025 میں 124.14 بلین روپے ہو گئی، یعنی 70 فیصد اضافہ۔ اس میں پی آر آئی نیٹ ورک میں مالیاتی اداروں کی تعداد کو 2009 میں 25 سے بڑھا کر 2024 میں 50 سے زائد تک پہنچانا شامل ہے، جس میں روایتی بینک، اسلامی بینک، مائیکروفنانس بینک اور ایکسچینج کمپنیز شامل ہیں، اور الیکٹرانک منی اداروں کو بینکوں کے ذریعے ترسیلات وصول کرنے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظوری کے تحت موجودہ سال کے بجٹ میں ان مراعات کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ سبسڈی کے اخراجات کے لیے 30 ارب روپے کا اضافی گرانٹ فراہم کیا جائے، جو کہ فیصلے کو واپس کرنے کے مترادف اور قابلِ ستائش اقدام ہے۔</p>
<p>تاہم رپورٹس کے مطابق پی آر آئی کی نظرِثانی ابھی زیرِ غور ہے، جس کا مقصد اسکیم کو مستحکم بنانا ہے تاکہ ادائیگیوں میں اضافہ ترسیلاتِ زر کی بڑھوتری سے زیادہ نہ ہو۔ حقیقی معنوں میں، پچھلے سال کے مقابلے میں اس اسکیم کی لاگت میں 51.9 بلین روپے (180 ملین امریکی ڈالر سے کم) اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ 8.05 بلین امریکی ڈالر رہا، یعنی پی آر آئی کے فوائد اور اس کی لاگت کا موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>ترسیلاتِ زر ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ ڈالتی ہیں، کیونکہ یہ وصول کنندہ گھروں میں صارفیت کو بڑھاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ واضح نہیں کہ آیا یہ رقم پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوتی ہے، البتہ شواہد موجود ہیں کہ یہ رئیل اسٹیٹ کی خریداری اور تعمیرات کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں ترسیلات کا جی ڈی پی میں حصہ 7.85 فیصد ہے۔</p>
<p>جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، 2025 میں برآمدات ترسیلات سے کم رہیں، تاہم برآمدات پر توجہ برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں، پاکستان آج 22 فیصد بے روزگاری کا سامنا کر رہا ہےبلکہ ترسیلات کی طرح یہ ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے حکومت کو برآمد کنندگان کو سبسڈی دینے سے روک دیا ہے، اور دلیل دی ہے کہ ”تجارتی شعبہ ترقی کا محرک بننے میں ناکام رہا ہے، اور مراعات آخرکار مقابلے کو کمزور کرتی ہیں اور وسائل کو مسلسل غیر مؤثر شعبوں میں پھنسادیتی ہیں، جن میں ہمیشہ ’ابتدائی‘ صنعتیں شامل ہیں۔“</p>
<p>اس پابندی سے ہماری ترسیلاتِ زر پر انحصار مزید بڑھ جائے گا تاکہ ادائیگیوں کے توازن کو پائیدار بنایا جا سکے، اور اگر ترسیلات کم ہوں، خاص طور پر حالیہ سیلاب کی تباہ کاری کے بعد، تو غیر ملکی قرضوں پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔</p>
<p>آخر میں امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت آنے والے دوسرے جائزہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو اور پی آر آئی اور برآمدات کے لیے سبسڈی کو اس وقت تک برقرار رکھے جب تک اقتصادی ترقی میں بہتری نہ آئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276945</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Sep 2025 14:40:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/13142745c1b1f28.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/13142745c1b1f28.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
