<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور اسرائیل کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک دوسرے پر کڑی تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276937/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور اسرائیل کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شدید مباحثہ ہوا، جس میں اسلام آباد نے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے تل ابیب کے حالیہ حملے کو غیر قانونی، بلا وجہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مذمت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مباحثہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ہوا، جسے “مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال” کے ایجنڈا کے تحت بلایا گیا تھا۔ اجلاس کی درخواست الجزائر، پاکستان اور صومالیہ نے کی تھی جبکہ فرانس اور برطانیہ نے حمایت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اسرائیل کے حملے کو بے شرمی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ایک مسلسل سلسلہ ہے جو خطے کے امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر احمد نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں نے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا اور شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالا، جس سے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اسے سفارتکاری کے لیے براہِ راست چیلنج قرار دیا، کیونکہ یہ قطر کو ایسے وقت میں نشانہ بنا رہا تھا جب غزہ میں امن مذاکرات بریک تھرو کی جانب بڑھ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اہم ثالث اور مذاکرات میں شامل افراد کے علاقے پر حملہ کرنا امن کی کوششوں کو ناکام بنانے اور شہریوں کے کرب کو طول دینے کی جان بوجھ کر کی جانے والی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر احمد نے پاکستان کی قطر کے ساتھ یکجہتی کو دہرایا اور وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دوحہ دورے کو قطر کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اسلام آباد کی حمایت کے عزم کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسرائیل کے حملے کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، خصوصاً آرٹیکل 2(4) کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کے خطرے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کی غزہ، شام، لبنان، ایران اور یمن میں سرحد پار فوجی کارروائیوں کے طویل ریکارڈ کے مطابق ہے اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل بے حرمتی اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی کی ایک اور مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر احمد نے سلامتی کونسل کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں دوحہ میں حملوں کی متفقہ مذمت، شہری جانوں کے ضیاع پر افسوس، کشیدگی کم کرنے کی اہمیت اور قطر کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت شامل تھی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے ثالثی عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اغوا شدگان کی رہائی اور غزہ میں تنازع کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں امریکہ کے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے والے حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ دہشت گرد کو غیر ملکی زمین پر نشانہ بنانے پر سوال نہیں اٹھایا گیا بلکہ یہ پوچھا گیا کہ دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے لیے بھی کوئی تحفظ نہیں ہوسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے فوری طور پر حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے سفیر احمد نے اس موازنہ کو ناقابلِ قبول اور مضحکہ خیز قرار دیا اور اسرائیل پر اپنے غیر قانونی اقدامات اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کا الزام عائد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر احمد نے کہا کہ اسرائیل ایک قابض اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، جو عالمی برادری، انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو خطرے میں ڈالتا ہے اور خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ جارح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ القاعدہ بڑی حد تک پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی وجہ سے ختم ہو گیا اور پاکستان اس مشترکہ مشن کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں اسرائیلی سفیر نے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ممالک پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ 11 ستمبر اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی حقیقتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جب اسرائیل پر تنقید کرے تو اپنے ملک کے لیے لگائے جانے والے معیار اور اسرائیل کے لیے لگائے جانے والے معیار پر غور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور اسرائیل کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شدید مباحثہ ہوا، جس میں اسلام آباد نے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے تل ابیب کے حالیہ حملے کو غیر قانونی، بلا وجہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مذمت کی۔</strong></p>
<p>یہ مباحثہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ہوا، جسے “مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال” کے ایجنڈا کے تحت بلایا گیا تھا۔ اجلاس کی درخواست الجزائر، پاکستان اور صومالیہ نے کی تھی جبکہ فرانس اور برطانیہ نے حمایت فراہم کی۔</p>
<p>پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اسرائیل کے حملے کو بے شرمی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی بتایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں، بلکہ اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ایک مسلسل سلسلہ ہے جو خطے کے امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔</p>
<p>سفیر احمد نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں نے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا اور شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالا، جس سے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اسے سفارتکاری کے لیے براہِ راست چیلنج قرار دیا، کیونکہ یہ قطر کو ایسے وقت میں نشانہ بنا رہا تھا جب غزہ میں امن مذاکرات بریک تھرو کی جانب بڑھ رہے تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اہم ثالث اور مذاکرات میں شامل افراد کے علاقے پر حملہ کرنا امن کی کوششوں کو ناکام بنانے اور شہریوں کے کرب کو طول دینے کی جان بوجھ کر کی جانے والی کوشش ہے۔</p>
<p>سفیر احمد نے پاکستان کی قطر کے ساتھ یکجہتی کو دہرایا اور وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دوحہ دورے کو قطر کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اسلام آباد کی حمایت کے عزم کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p>انہوں نے اسرائیل کے حملے کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، خصوصاً آرٹیکل 2(4) کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کے خطرے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حملہ اسرائیل کی غزہ، شام، لبنان، ایران اور یمن میں سرحد پار فوجی کارروائیوں کے طویل ریکارڈ کے مطابق ہے اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل بے حرمتی اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی کی ایک اور مثال ہے۔</p>
<p>سفیر احمد نے سلامتی کونسل کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں دوحہ میں حملوں کی متفقہ مذمت، شہری جانوں کے ضیاع پر افسوس، کشیدگی کم کرنے کی اہمیت اور قطر کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت شامل تھی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے ثالثی عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اغوا شدگان کی رہائی اور غزہ میں تنازع کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p>اسرائیل کے سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں امریکہ کے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے والے حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ دہشت گرد کو غیر ملکی زمین پر نشانہ بنانے پر سوال نہیں اٹھایا گیا بلکہ یہ پوچھا گیا کہ دہشت گرد کو پناہ کیوں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے لیے بھی کوئی تحفظ نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>پاکستان نے فوری طور پر حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے سفیر احمد نے اس موازنہ کو ناقابلِ قبول اور مضحکہ خیز قرار دیا اور اسرائیل پر اپنے غیر قانونی اقدامات اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کا الزام عائد کیا۔</p>
<p>سفیر احمد نے کہا کہ اسرائیل ایک قابض اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی بار بار خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے، جو عالمی برادری، انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو خطرے میں ڈالتا ہے اور خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ جارح ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ القاعدہ بڑی حد تک پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی وجہ سے ختم ہو گیا اور پاکستان اس مشترکہ مشن کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>بعد ازاں اسرائیلی سفیر نے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ممالک پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ 11 ستمبر اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی حقیقتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جب اسرائیل پر تنقید کرے تو اپنے ملک کے لیے لگائے جانے والے معیار اور اسرائیل کے لیے لگائے جانے والے معیار پر غور کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276937</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Sep 2025 12:06:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مانیٹرنگ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/13120616f163fec.webp" type="image/webp" medium="image" height="533" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/13120616f163fec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
