<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ طاس معاہدے کا غرقِ آب ہونا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276924/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تاریخ میں پہلی بار بھارت پر ماحولیاتی تبدیلی کو ہتھیار بنانے کا الزام لگا ہے، نہ بموں سے، نہ میزائلوں سے، بلکہ خاموشی، معلومات کے چھپاؤ، اور دریاؤں کے بہاؤ میں چالاک مداخلت کے ذریعے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2025 کے تباہ کن سیلاب میں جب پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا تھا، بھارت نے مبینہ طور پر چناب، راوی اور ستلج کے متعلق اہم ہائیڈرولوجیکل معلومات روک لیں، جس سے نیچے کے علاقوں میں تباہی مزید بڑھ گئی۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک، یہ موسمیاتی تبدیلی کو ایک ’’خطرہ بڑھانے والے ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا شعوری عمل تھا، ایک ایسا ہتھیار جو عدم تحفظ کو ہوا دیتا ہے، بداعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انسانی مصائب میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف انسانی المیہ نہیں تھا، بلکہ سندھ طاس معاہدے کا بکھر جانا بھی تھا، وہ معاہدہ جسے عشروں سے بین الاقوامی آبی انتظام کا ایک نایاب کامیاب ماڈل سمجھا جاتا رہا۔ 2025 کا سانحہ صرف بستیوں اور شہروں کے ڈوبنے کا نہیں، بلکہ اعتماد، قانون، اور دو ایٹمی حریفوں کے درمیان باقی بچی آخری نازک ڈور کے ٹوٹنے کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس بیسن کے چھ دریاؤں کی تقسیم عمل میں آئی۔ بھارت کو مشرقی دریاؤں، راوی، بیاس اور ستلج، کے حقوق ملے جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں، سندھ، جہلم اور چناب، کا حق دیا گیا۔ معاہدے کی شق VI میں خاص طور پر دریاؤں کے بہاؤ، آبی ذخائر کی کارروائی، اور نہری اخراج کے متعلق موسمی و آبی معلومات کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ شفافیت ہی اس معاہدے کی ریڑھ کی ہڈی تھی، جو شک کو کم اور احتساب کو ممکن بناتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1988 کے بدترین سیلاب کے بعد، دونوں ممالک نے ڈیٹا شیئرنگ کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ 1989 میں، برسات کے مہینوں (10 جولائی تا 1 اکتوبر) میں تقریباً ہر گھنٹہ میں معلومات کے تبادلے کا نظام قائم ہوا، جس میں تین اہم بھارتی ڈیم شامل تھے: رنجیت ساگر ڈیم (راوی)، بھاکڑا ڈیم (ستلج) اور پونگ ڈیم (بیاس)۔ سابق انڈس واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ کی کاوشوں سے یہ کمزور مگر قیمتی پل کئی برسوں تک جانیں بچاتا رہا۔ مگر 2025 میں جب شفافیت کی جگہ خاموشی نے لے لی، یہ پل ٹوٹ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب پاکستان نے معاہدے سے تحفظ کی امید باندھی، تو ہمالیہ کے دامن میں ایک بڑی بھول پہلے ہی جنم لے چکی تھی۔ لداخ، بھارتی مقبوضہ کشمیر، اور ہماچل پردیش میں بھارت نے مسلح افواج کی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر تعمیر کیا۔ گلیشیئرز کو چھیڑا گیا، مخروطی جنگلات کا صفایا کیا گیا اور دریائی نظام کو بگاڑا گیا۔ زمین کے ان غیر فطری استعمال کے طریقوں نے بالائی انڈس بیسن میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو شدید کر دیا، موسمی پانی کے بہاؤ کو غیر متوازن کیا اور زیریں علاقوں میں سیلاب کے خطرات کو بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسوسناک طور پر پاکستان کے ادارے اور نام نہاد ماحولیاتی کارکن اس تبدیلی کا سامنا نہ کر سکے۔ الٹا، بہت سے افراد بھارت کے اس بیانیے کی تکرار کرنے لگے کہ سندھ طاس معاہدے کو اب موسمیاتی تبدیلی کے نام پر ’’دوبارہ طے‘‘ کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیانیہ صرف بھارت کا نہیں تھا۔ معاہدے کو کمزور کرنے کی مہم پاکستان کے اندر سے شروع ہوئی۔ 2013 میں ایک ریٹائرڈ سفارت کار، جو ایک این جی او کے سربراہ تھے، اور ایک جعلی ماہر، عالمی سطح پر معاہدے کی نظرثانی کے لیے لابنگ کرنے لگے۔ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں تقریریں، چمکتے رسالوں میں مضامین اور فصیح انگریزی میں تقاریر، سب کچھ اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اس چمک دمک کے پیچھے، تنقید نگاروں کے مطابق، اصل چہرے ’’معاشی جاسوسی‘‘ کے کردار تھے، جن کے پاس نہ سائنسی علم تھا، نہ انجینئرنگ کی تربیت، پھر بھی وہ خود کو ’’ماحولیاتی ماہر‘‘ ظاہر کر رہے تھے۔ ان کی زبان میں بھارت کے ممکنہ مطالبات کی جھلک پہلے سے موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 جنوری 2022 کو بھارت کی وزارتِ آبی وسائل نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ معاہدے کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں دوبارہ طے کیا جانا چاہیے۔ جنوری 2023 میں بھارت نے باقاعدہ طور پر پاکستان کو نظرثانی کے نوٹس بھیج دیے۔ جب پاکستان نے کوئی جواب نہ دیا، تو بھارت نے اس خاموشی کو اپنے اقدامات کا جواز بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 اپریل 2025 کو بھارت نے اعلان کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ’’عارضی طور پر معطل‘‘ ہے۔ اس اقدام کے تین جواز پیش کیے گئے: بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملہ، 2023 کے نوٹسز پر پاکستان کا مبینہ عدم جواب اور موسمیاتی چیلنجز کا فوری حل۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر قانون بالکل واضح تھا: معاہدے کی شق XII کے مطابق کوئی بھی ترمیم یا خاتمہ دونوں فریقین کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ 1969 کا ویانا کنونشن برائے معاہدات بھی یہی اصول دہراتا ہے، کہ دو طرفہ معاہدات کو یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2025 میں مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے تحت بین الاقوامی ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔ عالمی ٹریبونل نے معاہدے کو نافذ العمل قرار دیتے ہوئے اصول ’پیکٹا سنت سروانڈا‘، یعنی ‘معاہدوں کی پاسداری لازم ہے’  کا حوالہ دیا ہے۔“ اسی دوران، پاکستان کی منصوبہ بندی کمیشن کے وزیر نے الزام لگایا کہ بھارت نے چناب، راوی اور ستلج پر ڈیموں کے بہاؤ کو جان بوجھ کر سیلابی صورتِ حال پیدا کرنے کے لیے چھیڑا۔ ان الزامات کی تصدیق بھاکڑا بیاس مینجمنٹ بورڈ (بی بی ایم بی) اور پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کے ریکارڈ سے ہو سکتی تھی۔ مگر یہاں تک کہ اگر کوئی چھیڑ چھاڑ نہ بھی ہوئی ہو، تب بھی خاموشی بذاتِ خود ایک جرم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے پاس دنیا کے جدید ترین آبی نگرانی کے نظام موجود ہیں، آئی ایس آر او سیٹلائٹ، اسپیس ایپلیکیشن سینٹر اور پیچیدہ ماڈلنگ سسٹمز، جو حقیقی وقت میں گلیشیئرز، برفباری اور دریائی بہاؤ کی نگرانی کرتے ہیں۔ مگر 2025 کے سیلاب میں یہ تمام اہم معلومات پاکستان سے چھپا لی گئیں۔ اگر یہ ڈیٹا بروقت فراہم کیا جاتا، تو بے شمار جانیں بچائی جا سکتی تھیں، اور اربوں کا مالی نقصان روکا جا سکتا تھا۔ مگر سچ چھپا لیا گیا، اور ایک قوم خاموشی میں ڈوب گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دھوکہ تب اور گہرا محسوس ہوتا ہے جب ہم اسے ماحولیاتی مالیات (کلائمیٹ فنانس) کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ 2005 میں بھارت نے لداخ میں چٹک اور نیمو بازگو پن بجلی منصوبوں پر کام شروع کیا، جن پر پاکستان نے اعتراض کیا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی کنونشن کی شق 37(b) کے تحت بھارت کو کاربن کریڈٹس کے حصول سے پہلے پاکستان کی منظوری لینا لازم تھی۔ مگر 2008 میں کلین ڈویلپمنٹ مکینزم (سی ڈی ایم) نے ان منصوبوں کی منظوری دے دی، کیونکہ بھارت نے 2006 میں درخواست دے دی تھی اور پاکستان کے نمائندے کی ملی بھگت سے منظوری کا راستہ ہموار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ کوئی ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (ای آئی اے) پاکستان نے منظور کی، نہ کوئی سرحد پار ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (ٹی ای آئی آر) سامنے لائی گئی۔ اس کے باوجود سی ڈی ایم  بورڈ نے منظوری دے دی اور بھارت نے کاربن کریڈٹس حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;2025 کے سیلاب کے غم میں سمیٹے ہوئے لمحوں میں اسکائی تھیائی فلسفی اناکارسس کے الفاظ ایک پیش گوئی جیسے لگتے ہیں: ”قوانین مکڑی کے جالوں کی مانند ہوتے ہیں، چھوٹی مکھیوں کو پھانس لیتے ہیں، مگر بڑی انہیں چیر کر نکل جاتی ہیں۔“ پاکستان کے لیے، اب دریا بھی وہی کہانی سرگوشی کرتے ہیں: کمزور ڈوب جاتے ہیں، طاقتور بچ نکلتے ہیں اور خود انصاف بہہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تاریخ میں پہلی بار بھارت پر ماحولیاتی تبدیلی کو ہتھیار بنانے کا الزام لگا ہے، نہ بموں سے، نہ میزائلوں سے، بلکہ خاموشی، معلومات کے چھپاؤ، اور دریاؤں کے بہاؤ میں چالاک مداخلت کے ذریعے۔</strong></p>
<p>2025 کے تباہ کن سیلاب میں جب پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا تھا، بھارت نے مبینہ طور پر چناب، راوی اور ستلج کے متعلق اہم ہائیڈرولوجیکل معلومات روک لیں، جس سے نیچے کے علاقوں میں تباہی مزید بڑھ گئی۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک، یہ موسمیاتی تبدیلی کو ایک ’’خطرہ بڑھانے والے ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کرنے کا شعوری عمل تھا، ایک ایسا ہتھیار جو عدم تحفظ کو ہوا دیتا ہے، بداعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انسانی مصائب میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔</p>
<p>یہ صرف انسانی المیہ نہیں تھا، بلکہ سندھ طاس معاہدے کا بکھر جانا بھی تھا، وہ معاہدہ جسے عشروں سے بین الاقوامی آبی انتظام کا ایک نایاب کامیاب ماڈل سمجھا جاتا رہا۔ 2025 کا سانحہ صرف بستیوں اور شہروں کے ڈوبنے کا نہیں، بلکہ اعتماد، قانون، اور دو ایٹمی حریفوں کے درمیان باقی بچی آخری نازک ڈور کے ٹوٹنے کا تھا۔</p>
<p>1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس بیسن کے چھ دریاؤں کی تقسیم عمل میں آئی۔ بھارت کو مشرقی دریاؤں، راوی، بیاس اور ستلج، کے حقوق ملے جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں، سندھ، جہلم اور چناب، کا حق دیا گیا۔ معاہدے کی شق VI میں خاص طور پر دریاؤں کے بہاؤ، آبی ذخائر کی کارروائی، اور نہری اخراج کے متعلق موسمی و آبی معلومات کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ شفافیت ہی اس معاہدے کی ریڑھ کی ہڈی تھی، جو شک کو کم اور احتساب کو ممکن بناتی تھی۔</p>
<p>1988 کے بدترین سیلاب کے بعد، دونوں ممالک نے ڈیٹا شیئرنگ کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ 1989 میں، برسات کے مہینوں (10 جولائی تا 1 اکتوبر) میں تقریباً ہر گھنٹہ میں معلومات کے تبادلے کا نظام قائم ہوا، جس میں تین اہم بھارتی ڈیم شامل تھے: رنجیت ساگر ڈیم (راوی)، بھاکڑا ڈیم (ستلج) اور پونگ ڈیم (بیاس)۔ سابق انڈس واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ کی کاوشوں سے یہ کمزور مگر قیمتی پل کئی برسوں تک جانیں بچاتا رہا۔ مگر 2025 میں جب شفافیت کی جگہ خاموشی نے لے لی، یہ پل ٹوٹ گیا۔</p>
<p>جب پاکستان نے معاہدے سے تحفظ کی امید باندھی، تو ہمالیہ کے دامن میں ایک بڑی بھول پہلے ہی جنم لے چکی تھی۔ لداخ، بھارتی مقبوضہ کشمیر، اور ہماچل پردیش میں بھارت نے مسلح افواج کی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر تعمیر کیا۔ گلیشیئرز کو چھیڑا گیا، مخروطی جنگلات کا صفایا کیا گیا اور دریائی نظام کو بگاڑا گیا۔ زمین کے ان غیر فطری استعمال کے طریقوں نے بالائی انڈس بیسن میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو شدید کر دیا، موسمی پانی کے بہاؤ کو غیر متوازن کیا اور زیریں علاقوں میں سیلاب کے خطرات کو بڑھایا۔</p>
<p>افسوسناک طور پر پاکستان کے ادارے اور نام نہاد ماحولیاتی کارکن اس تبدیلی کا سامنا نہ کر سکے۔ الٹا، بہت سے افراد بھارت کے اس بیانیے کی تکرار کرنے لگے کہ سندھ طاس معاہدے کو اب موسمیاتی تبدیلی کے نام پر ’’دوبارہ طے‘‘ کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>یہ بیانیہ صرف بھارت کا نہیں تھا۔ معاہدے کو کمزور کرنے کی مہم پاکستان کے اندر سے شروع ہوئی۔ 2013 میں ایک ریٹائرڈ سفارت کار، جو ایک این جی او کے سربراہ تھے، اور ایک جعلی ماہر، عالمی سطح پر معاہدے کی نظرثانی کے لیے لابنگ کرنے لگے۔ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں تقریریں، چمکتے رسالوں میں مضامین اور فصیح انگریزی میں تقاریر، سب کچھ اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔</p>
<p>لیکن اس چمک دمک کے پیچھے، تنقید نگاروں کے مطابق، اصل چہرے ’’معاشی جاسوسی‘‘ کے کردار تھے، جن کے پاس نہ سائنسی علم تھا، نہ انجینئرنگ کی تربیت، پھر بھی وہ خود کو ’’ماحولیاتی ماہر‘‘ ظاہر کر رہے تھے۔ ان کی زبان میں بھارت کے ممکنہ مطالبات کی جھلک پہلے سے موجود تھی۔</p>
<p>4 جنوری 2022 کو بھارت کی وزارتِ آبی وسائل نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ معاہدے کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں دوبارہ طے کیا جانا چاہیے۔ جنوری 2023 میں بھارت نے باقاعدہ طور پر پاکستان کو نظرثانی کے نوٹس بھیج دیے۔ جب پاکستان نے کوئی جواب نہ دیا، تو بھارت نے اس خاموشی کو اپنے اقدامات کا جواز بنایا۔</p>
<p>23 اپریل 2025 کو بھارت نے اعلان کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ’’عارضی طور پر معطل‘‘ ہے۔ اس اقدام کے تین جواز پیش کیے گئے: بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملہ، 2023 کے نوٹسز پر پاکستان کا مبینہ عدم جواب اور موسمیاتی چیلنجز کا فوری حل۔</p>
<p>مگر قانون بالکل واضح تھا: معاہدے کی شق XII کے مطابق کوئی بھی ترمیم یا خاتمہ دونوں فریقین کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ 1969 کا ویانا کنونشن برائے معاہدات بھی یہی اصول دہراتا ہے، کہ دو طرفہ معاہدات کو یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>اگست 2025 میں مستقل ثالثی عدالت (پی سی اے) کے تحت بین الاقوامی ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔ عالمی ٹریبونل نے معاہدے کو نافذ العمل قرار دیتے ہوئے اصول ’پیکٹا سنت سروانڈا‘، یعنی ‘معاہدوں کی پاسداری لازم ہے’  کا حوالہ دیا ہے۔“ اسی دوران، پاکستان کی منصوبہ بندی کمیشن کے وزیر نے الزام لگایا کہ بھارت نے چناب، راوی اور ستلج پر ڈیموں کے بہاؤ کو جان بوجھ کر سیلابی صورتِ حال پیدا کرنے کے لیے چھیڑا۔ ان الزامات کی تصدیق بھاکڑا بیاس مینجمنٹ بورڈ (بی بی ایم بی) اور پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کے ریکارڈ سے ہو سکتی تھی۔ مگر یہاں تک کہ اگر کوئی چھیڑ چھاڑ نہ بھی ہوئی ہو، تب بھی خاموشی بذاتِ خود ایک جرم تھی۔</p>
<p>بھارت کے پاس دنیا کے جدید ترین آبی نگرانی کے نظام موجود ہیں، آئی ایس آر او سیٹلائٹ، اسپیس ایپلیکیشن سینٹر اور پیچیدہ ماڈلنگ سسٹمز، جو حقیقی وقت میں گلیشیئرز، برفباری اور دریائی بہاؤ کی نگرانی کرتے ہیں۔ مگر 2025 کے سیلاب میں یہ تمام اہم معلومات پاکستان سے چھپا لی گئیں۔ اگر یہ ڈیٹا بروقت فراہم کیا جاتا، تو بے شمار جانیں بچائی جا سکتی تھیں، اور اربوں کا مالی نقصان روکا جا سکتا تھا۔ مگر سچ چھپا لیا گیا، اور ایک قوم خاموشی میں ڈوب گئی۔</p>
<p>یہ دھوکہ تب اور گہرا محسوس ہوتا ہے جب ہم اسے ماحولیاتی مالیات (کلائمیٹ فنانس) کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ 2005 میں بھارت نے لداخ میں چٹک اور نیمو بازگو پن بجلی منصوبوں پر کام شروع کیا، جن پر پاکستان نے اعتراض کیا۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی کنونشن کی شق 37(b) کے تحت بھارت کو کاربن کریڈٹس کے حصول سے پہلے پاکستان کی منظوری لینا لازم تھی۔ مگر 2008 میں کلین ڈویلپمنٹ مکینزم (سی ڈی ایم) نے ان منصوبوں کی منظوری دے دی، کیونکہ بھارت نے 2006 میں درخواست دے دی تھی اور پاکستان کے نمائندے کی ملی بھگت سے منظوری کا راستہ ہموار ہوا۔</p>
<p>نہ کوئی ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (ای آئی اے) پاکستان نے منظور کی، نہ کوئی سرحد پار ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (ٹی ای آئی آر) سامنے لائی گئی۔ اس کے باوجود سی ڈی ایم  بورڈ نے منظوری دے دی اور بھارت نے کاربن کریڈٹس حاصل کیے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>2025 کے سیلاب کے غم میں سمیٹے ہوئے لمحوں میں اسکائی تھیائی فلسفی اناکارسس کے الفاظ ایک پیش گوئی جیسے لگتے ہیں: ”قوانین مکڑی کے جالوں کی مانند ہوتے ہیں، چھوٹی مکھیوں کو پھانس لیتے ہیں، مگر بڑی انہیں چیر کر نکل جاتی ہیں۔“ پاکستان کے لیے، اب دریا بھی وہی کہانی سرگوشی کرتے ہیں: کمزور ڈوب جاتے ہیں، طاقتور بچ نکلتے ہیں اور خود انصاف بہہ جاتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276924</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Sep 2025 17:21:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹراکرام الحقانجینئر ارشد ایچ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1216560755193e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1216560755193e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
