<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی بی ایس نے پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار 6.4 ارب ڈالر سے زائد رپورٹ کیے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276893/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی تجارتی اعداد و شمار کو مالی سال 2024-25 میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی غلط طریقہ کار کی وجہ سے 6.4 ارب امریکی ڈالر زائد رپورٹ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 25 میں کپاس کی درآمد کے اعداد و شمار میں 1 سے 1.5 ارب ڈالر کا فرق پایا گیا: اپٹما  کے مطابق کپاس کی درآمد 2.2 ارب ڈالر (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) تھی، جبکہ پرال( پی آر اے ایل) کے مطابق یہ 2.65 ارب ڈالر تھی، لیکن پی بی ایس نے جون 2025 کی تجارتی رپورٹ میں  مالی سال 25 کے لیے صرف 1.27 ارب ڈالر کی کپاس کی درآمد ظاہر کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران پی بی ایس نے مندرجہ ذیل تصدیق کی:
(i) درآمد کی ٹرانزیکشن وار معلومات ویبوک سسٹم میں درآمد کنندہ کی جانب سے جمع کرائی گئی الیکٹرانک گوڈز ڈیکلیریشنز کے ذریعے ریکارڈ کی جاتی ہیں؛
(ii) اس کے بنیاد پر پرال باقاعدگی سے ڈیٹا فائلیں تیار کرتا ہے اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کو ان کی ضروریات کے مطابق فراہم کرتا ہے؛
(iii) ڈیٹا میں ایک کالم “گڈز ڈیکلریشن ٹائپ” کا ہوتا ہے جو اس گروپ/پالیسی/اسکیم کی نشاندہی کرتا ہے جس کے تحت سامان درآمد کیا گیا، جیسے کہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم یا ہوم کنزمپشن وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے نئی اسکیموں کے نفاذ کے ساتھ گڈز ڈیکلریشن  ٹائپ کی کیٹیگریز میں بھی اضافہ کیا گیا۔ ابتدائی طور پر 8 کیٹیگریز تھیں جو وقت کے ساتھ بڑھ کر تقریباً 16 ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرال کی وہ کوئری جس کے ذریعے ڈیٹا فلٹر کر کے دیگر وزارتوں اور پی بی ایس کو بھیجا جاتا تھا، 2017 سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے 2017 کے بعد نئی اسکیموں، بشمول ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت کی گئی تمام درآمدات فلٹر ہو کر ڈیٹا فائلز سے خارج ہو گئیں۔ نتیجتاً،پی بی ایس نے 2017 کے بعد تمام شعبوں میں درآمدات کی کم رپورٹنگ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ فرق ہر شعبے میں موجود ہے، لیکن گزشتہ سال میں یہ نمایاں طور پر بڑھ گیا کیونکہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمدات میں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، پی بی ایس کی جون 2025 کی رپورٹ (جس میں پورے مالی سال 25 کے اعداد شامل ہیں) نے:
کپاس کی درآمدات کو 1.4 ارب ڈالر کم رپورٹ کیا،
ٹیکسٹائل گروپ کی درآمدات، جس میں زیادہ تر یارن ای ایف ایس کے تحت درآمد ہوا، کو 3.1 ارب ڈالر کم دکھایا،
اور مجموعی درآمدات کو 6.4 ارب ڈالر کم رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا براہ راست نتیجہ یہ ہوا کہ پی بی ایس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ملکی تجارتی توازن 6.4 ارب ڈالر زائد رپورٹ ہوا۔ لہٰذا، حکومت پاکستان کی جانب سے پی بی ایس کے شائع شدہ تجارتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے پالیسی فیصلے، جن میں حالیہ ٹیرف ریگولرائزیشن بھی شامل ہو سکتی ہے، غلط ڈیٹا پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی تجارتی اعداد و شمار کو مالی سال 2024-25 میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی غلط طریقہ کار کی وجہ سے 6.4 ارب امریکی ڈالر زائد رپورٹ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 25 میں کپاس کی درآمد کے اعداد و شمار میں 1 سے 1.5 ارب ڈالر کا فرق پایا گیا: اپٹما  کے مطابق کپاس کی درآمد 2.2 ارب ڈالر (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) تھی، جبکہ پرال( پی آر اے ایل) کے مطابق یہ 2.65 ارب ڈالر تھی، لیکن پی بی ایس نے جون 2025 کی تجارتی رپورٹ میں  مالی سال 25 کے لیے صرف 1.27 ارب ڈالر کی کپاس کی درآمد ظاہر کی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران پی بی ایس نے مندرجہ ذیل تصدیق کی:
(i) درآمد کی ٹرانزیکشن وار معلومات ویبوک سسٹم میں درآمد کنندہ کی جانب سے جمع کرائی گئی الیکٹرانک گوڈز ڈیکلیریشنز کے ذریعے ریکارڈ کی جاتی ہیں؛
(ii) اس کے بنیاد پر پرال باقاعدگی سے ڈیٹا فائلیں تیار کرتا ہے اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کو ان کی ضروریات کے مطابق فراہم کرتا ہے؛
(iii) ڈیٹا میں ایک کالم “گڈز ڈیکلریشن ٹائپ” کا ہوتا ہے جو اس گروپ/پالیسی/اسکیم کی نشاندہی کرتا ہے جس کے تحت سامان درآمد کیا گیا، جیسے کہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم یا ہوم کنزمپشن وغیرہ۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے نئی اسکیموں کے نفاذ کے ساتھ گڈز ڈیکلریشن  ٹائپ کی کیٹیگریز میں بھی اضافہ کیا گیا۔ ابتدائی طور پر 8 کیٹیگریز تھیں جو وقت کے ساتھ بڑھ کر تقریباً 16 ہو گئیں۔</p>
<p>پرال کی وہ کوئری جس کے ذریعے ڈیٹا فلٹر کر کے دیگر وزارتوں اور پی بی ایس کو بھیجا جاتا تھا، 2017 سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے 2017 کے بعد نئی اسکیموں، بشمول ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت کی گئی تمام درآمدات فلٹر ہو کر ڈیٹا فائلز سے خارج ہو گئیں۔ نتیجتاً،پی بی ایس نے 2017 کے بعد تمام شعبوں میں درآمدات کی کم رپورٹنگ کی۔</p>
<p>اگرچہ یہ فرق ہر شعبے میں موجود ہے، لیکن گزشتہ سال میں یہ نمایاں طور پر بڑھ گیا کیونکہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے تحت درآمدات میں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً، پی بی ایس کی جون 2025 کی رپورٹ (جس میں پورے مالی سال 25 کے اعداد شامل ہیں) نے:
کپاس کی درآمدات کو 1.4 ارب ڈالر کم رپورٹ کیا،
ٹیکسٹائل گروپ کی درآمدات، جس میں زیادہ تر یارن ای ایف ایس کے تحت درآمد ہوا، کو 3.1 ارب ڈالر کم دکھایا،
اور مجموعی درآمدات کو 6.4 ارب ڈالر کم رپورٹ کیا۔</p>
<p>اس کا براہ راست نتیجہ یہ ہوا کہ پی بی ایس کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ملکی تجارتی توازن 6.4 ارب ڈالر زائد رپورٹ ہوا۔ لہٰذا، حکومت پاکستان کی جانب سے پی بی ایس کے شائع شدہ تجارتی اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے پالیسی فیصلے، جن میں حالیہ ٹیرف ریگولرائزیشن بھی شامل ہو سکتی ہے، غلط ڈیٹا پر مبنی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276893</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Sep 2025 09:09:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1209075875899aa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1209075875899aa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
