<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپال میں پارلیمان جلانے اور بدامنی کے بعد کرفیو نافذ، فوج کا سڑکوں پر گشت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276872/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپال میں بدامنی کی لہر نے شدت اختیار کرلی ہے جہاں بدھ کے روز فوجی دستے دارالحکومت کھٹمنڈو کی سڑکوں پر گشت کرتے رہے تاکہ پارلیمنٹ ہائوس کو نذرِ آتش کرنے اور وزیرِاعظم کو مستعفی کرنے پر مجبور کرنے والے مظاہروں کے بعد امن بحال کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بکتر بند گاڑیاں اور فوجی گشت کے دوران لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے کرفیو کے احکامات جاری کرتے رہے جبکہ جلائی گئی گاڑیوں اور عمارتوں کے ملبے کے بیچ سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپالی آرمی کے سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے اپیل کی کہ مظاہرین احتجاج ختم کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کا آغاز پیر کو سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف ہوا تھا، جس میں نوجوانوں کی قیادت میں جنریشن زی تحریک نے مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن ان مظاہروں نے جلد ہی پورے ملک میں شدت اختیار کرلی اور حکومت مخالف غصے نے تباہی کی شکل اختیار کرلی۔ کم از کم 19 افراد پولیس کی سخت کارروائی میں ہلاک ہوئے جس کے بعد مشتعل افراد نے سرکاری دفاتر، سپریم کورٹ، وزرا کے گھروں اور دیگر عمارتوں کو آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ توڑ پھوڑ، لوٹ مار، آتشزدگی یا افراد و املاک پر حملے ناقابلِ معافی جرائم تصور کیے جائیں گے۔ کھٹمنڈو کا ہوائی اڈہ بھی شام تک آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق پارلیمان کی جلی ہوئی دیوار پر مظاہرین نے حکومت کو  الوداع کہا اور دستخط میں جن زی درج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ہجوم نے سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کی رہائش گاہ کو بھی نذرِ آتش کردیا۔ 73 سالہ کے پی شرما اولی نے بعد ازاں استعفیٰ دے دیا تاکہ سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کا موجودہ مقام معلوم نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپال میں بدامنی کی لہر نے شدت اختیار کرلی ہے جہاں بدھ کے روز فوجی دستے دارالحکومت کھٹمنڈو کی سڑکوں پر گشت کرتے رہے تاکہ پارلیمنٹ ہائوس کو نذرِ آتش کرنے اور وزیرِاعظم کو مستعفی کرنے پر مجبور کرنے والے مظاہروں کے بعد امن بحال کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>بکتر بند گاڑیاں اور فوجی گشت کے دوران لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے کرفیو کے احکامات جاری کرتے رہے جبکہ جلائی گئی گاڑیوں اور عمارتوں کے ملبے کے بیچ سڑکیں سنسان دکھائی دیں۔</p>
<p>نیپالی آرمی کے سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے اپیل کی کہ مظاہرین احتجاج ختم کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔</p>
<p>مظاہروں کا آغاز پیر کو سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف ہوا تھا، جس میں نوجوانوں کی قیادت میں جنریشن زی تحریک نے مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن ان مظاہروں نے جلد ہی پورے ملک میں شدت اختیار کرلی اور حکومت مخالف غصے نے تباہی کی شکل اختیار کرلی۔ کم از کم 19 افراد پولیس کی سخت کارروائی میں ہلاک ہوئے جس کے بعد مشتعل افراد نے سرکاری دفاتر، سپریم کورٹ، وزرا کے گھروں اور دیگر عمارتوں کو آگ لگا دی۔</p>
<p>فوج نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ توڑ پھوڑ، لوٹ مار، آتشزدگی یا افراد و املاک پر حملے ناقابلِ معافی جرائم تصور کیے جائیں گے۔ کھٹمنڈو کا ہوائی اڈہ بھی شام تک آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کا امکان ہے۔</p>
<p>عینی شاہدین کے مطابق پارلیمان کی جلی ہوئی دیوار پر مظاہرین نے حکومت کو  الوداع کہا اور دستخط میں جن زی درج کیا۔</p>
<p>منگل کو ہجوم نے سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کی رہائش گاہ کو بھی نذرِ آتش کردیا۔ 73 سالہ کے پی شرما اولی نے بعد ازاں استعفیٰ دے دیا تاکہ سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کا موجودہ مقام معلوم نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276872</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 12:16:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/111214320e61ea3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/111214320e61ea3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
