<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپال میں فوج اور نوجوان مظاہرین کے درمیان مذاکرات، عبوری وزیراعظم کے نام پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276868/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپال کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کے روز نوجوان مظاہرین سے مذاکرات دوبارہ شروع کرے گی تاکہ  ملک کے لیے ایک نئے عبوری رہنما کا فیصلہ کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی ترجمان راجا رام بسنت کے مطابق ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے اور عمل کو آہستہ آہستہ معمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں بدترین مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کٹھمنڈو کی سڑکوں پر فوجی گشت جاری ہے جبکہ دارالحکومت اور گرد و نواح میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ نیپال کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو چکی ہے جبکہ 1,033 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی پروازیں تاہم معمول کے مطابق جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے جن زی احتجاج کے نام سے مشہور ہوئے ہیں کیونکہ زیادہ تر شرکا نوجوان تھے جو حکومت کی کرپشن کے خلاف ناکامی اور روزگار کے مواقع کی کمی پر برہم تھے۔ مظاہرین نے سابق چیف جسٹس سشیلہ کارکی کو عبوری وزیراعظم کے طور پر تجویز کیا ہے، جنہوں نے درخواست قبول کرنے کی تصدیق بھارتی نشریاتی ادارے کو دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کے دوران سرکاری عمارتوں سمیت سپریم کورٹ، وزراء کی رہائش گاہیں اور سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کا گھر بھی نذرِ آتش ہوا۔ سیاحتی شہر پوکھرا کے کئی ہوٹل اور کٹھمنڈو میں ہلٹن ہوٹل کو بھی آگ لگا دی گئی۔ صورتِ حال وزیراعظم کے استعفے کے بعد کچھ حد تک قابو میں آئی ہے، تاہم فوج کا کہنا ہے کہ مکمل امن و امان کی بحالی کے لیے مزید وقت درکار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپال کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کے روز نوجوان مظاہرین سے مذاکرات دوبارہ شروع کرے گی تاکہ  ملک کے لیے ایک نئے عبوری رہنما کا فیصلہ کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>فوجی ترجمان راجا رام بسنت کے مطابق ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے اور عمل کو آہستہ آہستہ معمول پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں بدترین مظاہروں کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہو گئے۔</p>
<p>کٹھمنڈو کی سڑکوں پر فوجی گشت جاری ہے جبکہ دارالحکومت اور گرد و نواح میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ نیپال کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو چکی ہے جبکہ 1,033 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی پروازیں تاہم معمول کے مطابق جاری ہیں۔</p>
<p>یہ مظاہرے جن زی احتجاج کے نام سے مشہور ہوئے ہیں کیونکہ زیادہ تر شرکا نوجوان تھے جو حکومت کی کرپشن کے خلاف ناکامی اور روزگار کے مواقع کی کمی پر برہم تھے۔ مظاہرین نے سابق چیف جسٹس سشیلہ کارکی کو عبوری وزیراعظم کے طور پر تجویز کیا ہے، جنہوں نے درخواست قبول کرنے کی تصدیق بھارتی نشریاتی ادارے کو دی۔</p>
<p>مظاہروں کے دوران سرکاری عمارتوں سمیت سپریم کورٹ، وزراء کی رہائش گاہیں اور سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کا گھر بھی نذرِ آتش ہوا۔ سیاحتی شہر پوکھرا کے کئی ہوٹل اور کٹھمنڈو میں ہلٹن ہوٹل کو بھی آگ لگا دی گئی۔ صورتِ حال وزیراعظم کے استعفے کے بعد کچھ حد تک قابو میں آئی ہے، تاہم فوج کا کہنا ہے کہ مکمل امن و امان کی بحالی کے لیے مزید وقت درکار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276868</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 11:28:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/1111262798df369.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/1111262798df369.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
