<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب اور طوفانی بارشیں: پاکستان کی معاشی بحالی کو دھچکا لگنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276849/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے اپنی بینکاری شعبے کی ششماہی کارکردگی رپورٹ 2025 میں خبردار کیا ہے کہ حالیہ طوفانی بارشیں اور سیلاب ملکی معیشت کی بحالی کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ مہنگائی کی سطح نسبتاً قابو میں ہے، زرمبادلہ کی شرح مستحکم ہے، مالیاتی پالیسی محتاط ہے اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہوئی ہے، لیکن قدرتی آفات کی حالیہ لہر معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے زرعی قرض داروں کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، تاہم بینکاری شعبہ اس خطرے سے بڑی حد تک محفوظ ہے کیونکہ مجموعی قرضوں میں زرعی شعبے کا حصہ محدود ہے اور بینکوں کے پاس سرمائے کا مناسب بفر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جائزہ جنوری تا جون 2025 کی کارکردگی پر مشتمل ہے، جس میں بینکاری شعبے کی کارکردگی، مالیاتی منڈیوں کی صورتحال اور نظامی خطرات کے سروے کے نتائج شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال کی دوسری ششماہی میں بینکاری شعبے کی کارکردگی مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ مالی حالات میں نرمی، معاشی بحالی اور موسمی قرضوں کی طلب کے باعث بینکنگ ایڈوانسز میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، خطے کے مقابلے میں پاکستان میں ٹیکسٹائل پر نسبتاً کم ٹیرف ریٹ (19 فیصد) کے باعث امریکی منڈی میں برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے کریڈٹ کی طلب بھی بڑھے گی۔ دوسری جانب مالیاتی خسارے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے سرکاری مالیاتی ضروریات میں اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریٹ میں کمی کے نتیجے میں بینکوں کی شرحِ سود سے حاصل آمدنی گھٹ سکتی ہے، لیکن قرضوں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے شرحِ نمو برقرار رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قرضوں کی واپسی کی صلاحیت بہتر ہونے سے بینکوں کے کریڈٹ رسک میں اضافہ نہیں ہوگا اور ان کی آمدنی و سالوینسی کی پوزیشن مستحکم رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے کے اثاثے سال کی پہلی ششماہی میں 11 فیصد بڑھے، جن میں زیادہ حصہ حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کا رہا۔ دوسری جانب ایڈوانسز میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ایس ایم ایز کو فکسڈ انویسٹمنٹ ایڈوانسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فنڈنگ کے لحاظ سے بینکوں کے ڈپازٹس 17.7 فیصد بڑھے جس سے قرض پر انحصار کم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر فعال قرضوں (این پی ایلز) کا حجم کم ہوا، تاہم ایڈوانسز میں سکڑاؤ کے باعث این پی ایلز کا مجموعی تناسب جون 2025 میں معمولی بڑھ کر 7.4 فیصد رہا۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے پاس قرضوں کے نقصان کے لیے زیادہ پرویژن موجود ہیں، جس کی بدولت خالص این پی ایلز کا تناسب منفی 0.5 فیصد ریکارڈ ہوا، جو کم خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے کی آمدنی مستحکم رہی، جس کے نتیجے میں ریٹرن آن ایسیٹ (آر او اے) 1.3 فیصد اور ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) 21.3 فیصد رہا۔ سرمایہ کی مضبوطی کے اشاریے بھی بہتر ہوئے اور کیپیٹل ایڈی کوئسی ریشو (سی اے آر) بڑھ کر 21.4 فیصد ہوگئی جو کہ ریگولیٹری تقاضے 11.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اسٹریس ٹیسٹ نتائج بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بینک شدید معاشی دباؤ کی صورت میں بھی مستحکم رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مالیاتی منڈیوں میں پہلی ششماہی کے دوران نسبتاً زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ ایکویٹی مارکیٹ میں تجارتی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات تھے۔ نظامی خطرات کے تازہ سروے میں ماہرین نے جغرافیائی سیاسی خطرات کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ مالیاتی نظام مستحکم ہے اور ریگولیٹر کسی بھی غیر متوقع جھٹکے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے اپنی بینکاری شعبے کی ششماہی کارکردگی رپورٹ 2025 میں خبردار کیا ہے کہ حالیہ طوفانی بارشیں اور سیلاب ملکی معیشت کی بحالی کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ مہنگائی کی سطح نسبتاً قابو میں ہے، زرمبادلہ کی شرح مستحکم ہے، مالیاتی پالیسی محتاط ہے اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہوئی ہے، لیکن قدرتی آفات کی حالیہ لہر معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے زرعی قرض داروں کی ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، تاہم بینکاری شعبہ اس خطرے سے بڑی حد تک محفوظ ہے کیونکہ مجموعی قرضوں میں زرعی شعبے کا حصہ محدود ہے اور بینکوں کے پاس سرمائے کا مناسب بفر موجود ہے۔</p>
<p>یہ جائزہ جنوری تا جون 2025 کی کارکردگی پر مشتمل ہے، جس میں بینکاری شعبے کی کارکردگی، مالیاتی منڈیوں کی صورتحال اور نظامی خطرات کے سروے کے نتائج شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال کی دوسری ششماہی میں بینکاری شعبے کی کارکردگی مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ مالی حالات میں نرمی، معاشی بحالی اور موسمی قرضوں کی طلب کے باعث بینکنگ ایڈوانسز میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>مزید برآں، خطے کے مقابلے میں پاکستان میں ٹیکسٹائل پر نسبتاً کم ٹیرف ریٹ (19 فیصد) کے باعث امریکی منڈی میں برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے کریڈٹ کی طلب بھی بڑھے گی۔ دوسری جانب مالیاتی خسارے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے سرکاری مالیاتی ضروریات میں اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>پالیسی ریٹ میں کمی کے نتیجے میں بینکوں کی شرحِ سود سے حاصل آمدنی گھٹ سکتی ہے، لیکن قرضوں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے شرحِ نمو برقرار رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ قرضوں کی واپسی کی صلاحیت بہتر ہونے سے بینکوں کے کریڈٹ رسک میں اضافہ نہیں ہوگا اور ان کی آمدنی و سالوینسی کی پوزیشن مستحکم رہے گی۔</p>
<p>بینکاری شعبے کے اثاثے سال کی پہلی ششماہی میں 11 فیصد بڑھے، جن میں زیادہ حصہ حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کا رہا۔ دوسری جانب ایڈوانسز میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ایس ایم ایز کو فکسڈ انویسٹمنٹ ایڈوانسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فنڈنگ کے لحاظ سے بینکوں کے ڈپازٹس 17.7 فیصد بڑھے جس سے قرض پر انحصار کم ہوا۔</p>
<p>غیر فعال قرضوں (این پی ایلز) کا حجم کم ہوا، تاہم ایڈوانسز میں سکڑاؤ کے باعث این پی ایلز کا مجموعی تناسب جون 2025 میں معمولی بڑھ کر 7.4 فیصد رہا۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے پاس قرضوں کے نقصان کے لیے زیادہ پرویژن موجود ہیں، جس کی بدولت خالص این پی ایلز کا تناسب منفی 0.5 فیصد ریکارڈ ہوا، جو کم خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>بینکاری شعبے کی آمدنی مستحکم رہی، جس کے نتیجے میں ریٹرن آن ایسیٹ (آر او اے) 1.3 فیصد اور ریٹرن آن ایکویٹی (آر او ای) 21.3 فیصد رہا۔ سرمایہ کی مضبوطی کے اشاریے بھی بہتر ہوئے اور کیپیٹل ایڈی کوئسی ریشو (سی اے آر) بڑھ کر 21.4 فیصد ہوگئی جو کہ ریگولیٹری تقاضے 11.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اسٹریس ٹیسٹ نتائج بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بینک شدید معاشی دباؤ کی صورت میں بھی مستحکم رہیں گے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مالیاتی منڈیوں میں پہلی ششماہی کے دوران نسبتاً زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی وجہ ایکویٹی مارکیٹ میں تجارتی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات تھے۔ نظامی خطرات کے تازہ سروے میں ماہرین نے جغرافیائی سیاسی خطرات کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ مالیاتی نظام مستحکم ہے اور ریگولیٹر کسی بھی غیر متوقع جھٹکے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276849</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 08:46:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/11084430099726d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/11084430099726d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
