<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا جلد وزیراعظم مودی سے بات چیت کا عندیہ، دونوں ممالک میں ممکنہ تجارتی معاہدے کی امیدیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276834/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ان کی انتظامیہ بھارت کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جلد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں گے۔ ان کے اس بیان کو کئی ہفتوں کی سفارتی کشیدگی کے بعد ممکنہ تجارتی معاہدے کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پرامید لہجے میں کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں مودی سے گفتگو کے منتظر ہیں اور پُراعتماد ہیں کہ دونوں عظیم ممالک کے لیے ایک کامیاب نتیجے پر پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ دوسری جانب، مودی نے بھی بدھ کو سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں، اور دونوں ملکوں کی ٹیمیں جلد از جلد مذاکرات مکمل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بیانات کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں 0.5 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی حتمی معاہدے کی توقع قبل از وقت ہوگی کیونکہ ماضی میں ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف دگنے کر دیے تھے جس سے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ مزید برآں، ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے حالیہ ہفتوں میں بھارت کو روسی تیل خریدنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، بھارتی وزیراعظم مودی نے حال ہی میں سات سال بعد چین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ قریبی رابطے میں بھی دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اشارے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں نئے موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن فی الحال مزید عملی اقدامات کا انتظار کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر میں دونوں ملکوں کے تجارتی حکام بالمشافہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اگست میں امریکی وفد کا طے شدہ دورہ رکاوٹوں کے باعث منسوخ ہو گیا تھا۔ 2024 میں امریکا اور بھارت کی دوطرفہ اشیائی تجارت 129 ارب ڈالر رہی، جس میں امریکا کو 45.8 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ان کی انتظامیہ بھارت کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ جلد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں گے۔ ان کے اس بیان کو کئی ہفتوں کی سفارتی کشیدگی کے بعد ممکنہ تجارتی معاہدے کی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے پرامید لہجے میں کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں مودی سے گفتگو کے منتظر ہیں اور پُراعتماد ہیں کہ دونوں عظیم ممالک کے لیے ایک کامیاب نتیجے پر پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ دوسری جانب، مودی نے بھی بدھ کو سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں، اور دونوں ملکوں کی ٹیمیں جلد از جلد مذاکرات مکمل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>ان بیانات کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں 0.5 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی حتمی معاہدے کی توقع قبل از وقت ہوگی کیونکہ ماضی میں ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف دگنے کر دیے تھے جس سے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ مزید برآں، ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے حالیہ ہفتوں میں بھارت کو روسی تیل خریدنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>ادھر، بھارتی وزیراعظم مودی نے حال ہی میں سات سال بعد چین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ قریبی رابطے میں بھی دکھائی دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اشارے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں نئے موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن فی الحال مزید عملی اقدامات کا انتظار کرنا ہوگا۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر میں دونوں ملکوں کے تجارتی حکام بالمشافہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اگست میں امریکی وفد کا طے شدہ دورہ رکاوٹوں کے باعث منسوخ ہو گیا تھا۔ 2024 میں امریکا اور بھارت کی دوطرفہ اشیائی تجارت 129 ارب ڈالر رہی، جس میں امریکا کو 45.8 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276834</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Sep 2025 13:54:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/101352169765f4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/101352169765f4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
