<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:48:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی قرضے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے حالیہ نیلامی کے ذریعے 515.2 ارب روپے اکٹھے کرلیے، جن میں سے 402.7 ارب روپے براہِ راست نیلامی اور 112.5 ارب روپے غیر مسابقتی بولیوں کے ذریعے حاصل ہوئے۔ یہ رقم 400 ارب روپے کے تخمینے سے 91 ارب روپے زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹی بلز قلیل مدتی مدت کے لیے جاری کیے گئے تھے، جن میں ایک ماہ، تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک صرف ایک ماہ کے ٹی بلز کا ڈیٹا جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق موصولہ کل 1.414 کھرب روپے کی بولیوں میں سے 574.864 ارب روپے یعنی 41 فیصد حاصل کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ماہ کے ٹی بلز کی غیرمعمولی طلب اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) جلد ہی ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کرسکتی ہے۔ اس تاثر کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے وہ بیانات مزید تقویت دیتے ہیں جو انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں دیے تھے، جہاں انہوں نے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کا عندیہ دیا تھا۔ اسی بنیاد پر بجٹ 2025-26 میں ملکی قرضوں پر مارک اپ کی مختص رقم 7,906.7 ارب روپے (2024-25 کے نظرثانی شدہ تخمینے) سے کم کرکے 7,195.3 ارب روپے رکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ دستاویزات کے مطابق، مقامی بینکوں سے پورے سال کے لیے 3,436 ارب روپے قرض لینے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ حالیہ نیلامی اس ہدف کا 15 فیصد بنتی ہے۔ یہ رواں مالی سال میں ٹی بلز کی چوتھی پیشکش ہے جو اس سے قبل 23 جولائی، 6 اگست اور 20 اگست کو کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی بلز کے اہم معاشی اثرات ہیں:(i) یہ موجودہ اخراجات کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے کیونکہ یہ اخراجات ترقی میں کردار ادا نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے بجٹ میں 93 فیصد وسائل جاری اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔؛ (ii) کل بجٹ کے 19 فیصد وسائل ٹی بلز، سکوک اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) کے ذریعے حاصل کیے جانے ہیں، جن پر منافع کی شرح ریٹنگ ایجنسیوں کے تعین کردہ معیار کے مطابق طے ہوتی ہے۔(ii)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہنا غیر ضروری ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انویسٹمنٹ کیٹیگری سے خاصی کم ہے۔ قومی بچت مراکز اور دیگر ذرائع سے نان بینک قرضوں کا بجٹ 2,874 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کل بجٹ کا مزید 16 فیصد بنتا ہے۔ یوں بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ملکی قرضوں سے پورا کیا جانا ہے؛ (iii) حکومت کا ملکی قرضوں پر انحصار، دیگر عوامل کے ساتھ، نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں کمی کا بھی سبب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اگست اپ ڈیٹ کے مطابق یکم جولائی سے 15 اگست 2025 کے دوران نجی شعبے کے کریڈٹ فلو منفی 232.6 ملین روپے رہا، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے منفی 317.3 ملین روپے سے کچھ بہتر ضرور ہے مگر پھر بھی ایک ایسی حکومت کے لیے پریشان کن ہے جو نجی شعبے پر مبنی ترقی کی دعویدار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم سوال یہ ہے کہ آیا آئندہ مہینوں میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ممکن ہوگی جیسا کہ وزیر خزانہ نے جون میں کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ پیش گوئی کی تھی اُس وقت ملک بدترین سیلابی صورتحال سے دوچار نہیں تھا، جس نے وسیع زرعی زمینوں، لاکھوں افراد کے مکانات، بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں کو تباہ کر دیا۔  اس صورتحال نے کئی ماہرینِ معیشت کو مجبور کیا کہ وہ بجٹ میں مقررہ 4.2 فیصد شرح نمو کو کم کر کے ایک فیصد سے بھی نیچے کر دیں۔ اس کے نتیجے میں ایم پی سی کی ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید کمی کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی جو بالآخر مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراطِ زر کو ڈسکاؤنٹ ریٹ سے جوڑنا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط ہے اور یہ واضح ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے لیے فنڈ کی منظوری ضروری ہے، اس لیے ایم پی سی کی اسے ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب یہ بات بتدریج واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی اُس وقت تک مؤخر کرنا پڑے گی جب تک حکومت سیلاب کے باعث محدود ہونے والی مالی گنجائش پر قابو نہیں پا لیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے حالات میں رواں کیلنڈر سال کے اختتام تک ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ممکن نہیں لگتی جس کے نتیجے میں مستقبل میں بینک قرضوں پر زیادہ شرح سود لاگو ہو سکتی ہے اور بجٹ خسارے پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے حالیہ نیلامی کے ذریعے 515.2 ارب روپے اکٹھے کرلیے، جن میں سے 402.7 ارب روپے براہِ راست نیلامی اور 112.5 ارب روپے غیر مسابقتی بولیوں کے ذریعے حاصل ہوئے۔ یہ رقم 400 ارب روپے کے تخمینے سے 91 ارب روپے زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>یہ ٹی بلز قلیل مدتی مدت کے لیے جاری کیے گئے تھے، جن میں ایک ماہ، تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال شامل ہیں۔</p>
<p>اب تک صرف ایک ماہ کے ٹی بلز کا ڈیٹا جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق موصولہ کل 1.414 کھرب روپے کی بولیوں میں سے 574.864 ارب روپے یعنی 41 فیصد حاصل کیے گئے۔</p>
<p>ایک ماہ کے ٹی بلز کی غیرمعمولی طلب اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) جلد ہی ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کرسکتی ہے۔ اس تاثر کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے وہ بیانات مزید تقویت دیتے ہیں جو انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں دیے تھے، جہاں انہوں نے ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کا عندیہ دیا تھا۔ اسی بنیاد پر بجٹ 2025-26 میں ملکی قرضوں پر مارک اپ کی مختص رقم 7,906.7 ارب روپے (2024-25 کے نظرثانی شدہ تخمینے) سے کم کرکے 7,195.3 ارب روپے رکھی گئی۔</p>
<p>بجٹ دستاویزات کے مطابق، مقامی بینکوں سے پورے سال کے لیے 3,436 ارب روپے قرض لینے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ حالیہ نیلامی اس ہدف کا 15 فیصد بنتی ہے۔ یہ رواں مالی سال میں ٹی بلز کی چوتھی پیشکش ہے جو اس سے قبل 23 جولائی، 6 اگست اور 20 اگست کو کی گئی تھی۔</p>
<p>ٹی بلز کے اہم معاشی اثرات ہیں:(i) یہ موجودہ اخراجات کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے کیونکہ یہ اخراجات ترقی میں کردار ادا نہیں کرتے۔</p>
<p>رواں مالی سال کے بجٹ میں 93 فیصد وسائل جاری اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔؛ (ii) کل بجٹ کے 19 فیصد وسائل ٹی بلز، سکوک اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) کے ذریعے حاصل کیے جانے ہیں، جن پر منافع کی شرح ریٹنگ ایجنسیوں کے تعین کردہ معیار کے مطابق طے ہوتی ہے۔(ii)</p>
<p>یہ کہنا غیر ضروری ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ اب بھی انویسٹمنٹ کیٹیگری سے خاصی کم ہے۔ قومی بچت مراکز اور دیگر ذرائع سے نان بینک قرضوں کا بجٹ 2,874 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کل بجٹ کا مزید 16 فیصد بنتا ہے۔ یوں بجٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ملکی قرضوں سے پورا کیا جانا ہے؛ (iii) حکومت کا ملکی قرضوں پر انحصار، دیگر عوامل کے ساتھ، نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں کمی کا بھی سبب ہے۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اگست اپ ڈیٹ کے مطابق یکم جولائی سے 15 اگست 2025 کے دوران نجی شعبے کے کریڈٹ فلو منفی 232.6 ملین روپے رہا، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے منفی 317.3 ملین روپے سے کچھ بہتر ضرور ہے مگر پھر بھی ایک ایسی حکومت کے لیے پریشان کن ہے جو نجی شعبے پر مبنی ترقی کی دعویدار ہے۔</p>
<p>اہم سوال یہ ہے کہ آیا آئندہ مہینوں میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ممکن ہوگی جیسا کہ وزیر خزانہ نے جون میں کہا تھا۔</p>
<p>جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ پیش گوئی کی تھی اُس وقت ملک بدترین سیلابی صورتحال سے دوچار نہیں تھا، جس نے وسیع زرعی زمینوں، لاکھوں افراد کے مکانات، بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں کو تباہ کر دیا۔  اس صورتحال نے کئی ماہرینِ معیشت کو مجبور کیا کہ وہ بجٹ میں مقررہ 4.2 فیصد شرح نمو کو کم کر کے ایک فیصد سے بھی نیچے کر دیں۔ اس کے نتیجے میں ایم پی سی کی ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید کمی کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی جو بالآخر مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>افراطِ زر کو ڈسکاؤنٹ ریٹ سے جوڑنا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط ہے اور یہ واضح ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کے لیے فنڈ کی منظوری ضروری ہے، اس لیے ایم پی سی کی اسے ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش محدود ہے۔</p>
<p>اب یہ بات بتدریج واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی اُس وقت تک مؤخر کرنا پڑے گی جب تک حکومت سیلاب کے باعث محدود ہونے والی مالی گنجائش پر قابو نہیں پا لیتی۔</p>
<p>ایسے حالات میں رواں کیلنڈر سال کے اختتام تک ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ممکن نہیں لگتی جس کے نتیجے میں مستقبل میں بینک قرضوں پر زیادہ شرح سود لاگو ہو سکتی ہے اور بجٹ خسارے پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276826</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Sep 2025 12:05:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/101203130663349.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/101203130663349.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
