<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:40:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:40:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس کے یوکرین پر حملے کے دوران پولینڈ نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون مار گرائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276823/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس کے مغربی یوکرین پر بڑے پیمانے پر بدھ کے روز حملے کے دوران متعدد ڈرون پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہوئے جنہیں پولینڈ کی افواج نے مار گرایا۔ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے اس اقدام کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکومت کے ترجمان کے مطابق صبح آٹھ بجے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولینڈ کی فوجی کمان نے تصدیق کی کہ روسی حملے کے دوران ڈرون بار بار فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ریڈار پر دس سے زائد مشکوک پروجیکٹائل کو ٹریک کیا گیا جن میں سے خطرناک سمجھے جانے والے اہداف کو نیوٹرلائز کر دیا گیا۔ حکام نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی اور پوڈلاسکیے، مازوویئکے اور لوبلن کے علاقوں کو زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وارسا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ چوپین کئی گھنٹوں تک بند رہا جس کے باعث پروازوں میں تاخیر اور تعطل کا سامنا ہوا۔ ادھر یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ولادیمیر پیوٹن جنگ کو مزید وسعت دے رہے ہیں اور مغرب کو آزما رہے ہیں۔ ان کے مطابق کمزور ردعمل روس کو مزید حوصلہ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور یورپ میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ روس بار بار نیٹو کی فضائی حدود کو چیلنج کر رہا ہے جبکہ ریپبلکن رکن کانگریس جو ولسن نے اس اقدام کو جنگی عمل قرار دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کے اعلیٰ پابندیوں کے اہلکار واشنگٹن میں موجود ہیں تاکہ امریکا کے ساتھ مل کر روس پر مشترکہ دباؤ کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور بیلاروس کی مشترکہ فوجی مشقوں کے تناظر میں بیلاروس کے ساتھ اپنی سرحد جمعرات کو بند کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس کے مغربی یوکرین پر بڑے پیمانے پر بدھ کے روز حملے کے دوران متعدد ڈرون پولینڈ کی فضائی حدود میں داخل ہوئے جنہیں پولینڈ کی افواج نے مار گرایا۔ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے اس اقدام کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکومت کے ترجمان کے مطابق صبح آٹھ بجے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پولینڈ کی فوجی کمان نے تصدیق کی کہ روسی حملے کے دوران ڈرون بار بار فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ریڈار پر دس سے زائد مشکوک پروجیکٹائل کو ٹریک کیا گیا جن میں سے خطرناک سمجھے جانے والے اہداف کو نیوٹرلائز کر دیا گیا۔ حکام نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی اور پوڈلاسکیے، مازوویئکے اور لوبلن کے علاقوں کو زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا۔</p>
<p>وارسا کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ چوپین کئی گھنٹوں تک بند رہا جس کے باعث پروازوں میں تاخیر اور تعطل کا سامنا ہوا۔ ادھر یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ولادیمیر پیوٹن جنگ کو مزید وسعت دے رہے ہیں اور مغرب کو آزما رہے ہیں۔ ان کے مطابق کمزور ردعمل روس کو مزید حوصلہ دے گا۔</p>
<p>امریکا اور یورپ میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ روس بار بار نیٹو کی فضائی حدود کو چیلنج کر رہا ہے جبکہ ریپبلکن رکن کانگریس جو ولسن نے اس اقدام کو جنگی عمل قرار دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>یورپی یونین کے اعلیٰ پابندیوں کے اہلکار واشنگٹن میں موجود ہیں تاکہ امریکا کے ساتھ مل کر روس پر مشترکہ دباؤ کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ پولینڈ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور بیلاروس کی مشترکہ فوجی مشقوں کے تناظر میں بیلاروس کے ساتھ اپنی سرحد جمعرات کو بند کر دی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276823</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Sep 2025 11:38:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/10113630f29dbd2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/10113630f29dbd2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
