<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 12:58:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 12:58:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے جولائی کے ایف سی اے کے تحت بجلی صارفین کو 24.5 ارب روپے کے ریلیف کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276814/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیپرا نے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت جولائی 2025 کے لئے بجلی صارفین کو ساڑھے 24 ارب روپے سے زائد کے ریلیف کی منظوری دے دی ہے۔ اس ریلیف کے تحت فی یونٹ 1.7856 روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی جو کہ ملک بھر کے صارفین بشمول کے۔الیکٹرک پر لاگو ہوگی، تاہم لائف لائن صارفین، پروٹیکٹڈ صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ صارفین اس سہولت سے مستثنیٰ رہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے 28 اگست کو سی پی پی اے-جی کی جانب سے جمع کرائے گئے پیداواری اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ منگل کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی کے لئے قومی اوسط ایف سی اے 8.0903 روپے فی یونٹ رہی، جو ریفرنس لاگت 9.8758 روپے فی یونٹ سے کم تھی، یوں صارفین کو منفی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں ریلیف ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز اور کے۔الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ایڈجسٹمنٹ کو ستمبر 2025 کے بلوں میں شامل کریں اور الگ سے نمایاں کریں۔ اگر کسی صارف کا بل نوٹیفکیشن سے پہلے جاری ہوچکا ہے تو یہ ایڈجسٹمنٹ آئندہ ماہ کے بل میں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کے رکن ٹیکنیکل رفیق احمد شیخ نے اپنے نوٹ میں توانائی کے شعبے میں گورننس کی ناکامیوں کو بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر مؤثر نظام کا بنیادی سبب قرار دیا۔ انہوں نے گڈو یونٹ 16 کی مسلسل بندش اور نیلم جہلم منصوبے کی طویل شٹ ڈاؤن کو نمایاں مثالیں قرار دیا۔ صرف گڈو پلانٹ کی بندش نے جولائی 2025 میں 96 کروڑ 80 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا، جبکہ مجموعی نقصان جولائی 2022 سے اب تک 121 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ نیلم جہلم منصوبہ تاحال غیر فعال ہے حالانکہ صارفین سے 75 ارب روپے سے زائد سرچارج کی مد میں وصول ہوچکے ہیں۔ اسی طرح لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن اور اسکاڈا تھری جیسے منصوبوں میں تاخیر، ایچ وی ڈی سی لائن کا صرف 39 فیصد استعمال اور نارتھ۔ساؤتھ کوریڈور میں رکاوٹیں جولائی میں 9 کروڑ 10 لاکھ روپے کے اضافی نقصانات کا باعث بنیں۔ جزوی لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز بھی رواں مالی سال میں 41 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ یہ مسائل انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں اور فوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ جوابدہی کے بغیر پائیدار بہتری ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیپرا نے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت جولائی 2025 کے لئے بجلی صارفین کو ساڑھے 24 ارب روپے سے زائد کے ریلیف کی منظوری دے دی ہے۔ اس ریلیف کے تحت فی یونٹ 1.7856 روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی جو کہ ملک بھر کے صارفین بشمول کے۔الیکٹرک پر لاگو ہوگی، تاہم لائف لائن صارفین، پروٹیکٹڈ صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ صارفین اس سہولت سے مستثنیٰ رہیں گے۔</strong></p>
<p>نیپرا نے 28 اگست کو سی پی پی اے-جی کی جانب سے جمع کرائے گئے پیداواری اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ منگل کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی کے لئے قومی اوسط ایف سی اے 8.0903 روپے فی یونٹ رہی، جو ریفرنس لاگت 9.8758 روپے فی یونٹ سے کم تھی، یوں صارفین کو منفی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں ریلیف ملا۔</p>
<p>ڈسکوز اور کے۔الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ایڈجسٹمنٹ کو ستمبر 2025 کے بلوں میں شامل کریں اور الگ سے نمایاں کریں۔ اگر کسی صارف کا بل نوٹیفکیشن سے پہلے جاری ہوچکا ہے تو یہ ایڈجسٹمنٹ آئندہ ماہ کے بل میں دی جائے گی۔</p>
<p>نیپرا کے رکن ٹیکنیکل رفیق احمد شیخ نے اپنے نوٹ میں توانائی کے شعبے میں گورننس کی ناکامیوں کو بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر مؤثر نظام کا بنیادی سبب قرار دیا۔ انہوں نے گڈو یونٹ 16 کی مسلسل بندش اور نیلم جہلم منصوبے کی طویل شٹ ڈاؤن کو نمایاں مثالیں قرار دیا۔ صرف گڈو پلانٹ کی بندش نے جولائی 2025 میں 96 کروڑ 80 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا، جبکہ مجموعی نقصان جولائی 2022 سے اب تک 121 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ نیلم جہلم منصوبہ تاحال غیر فعال ہے حالانکہ صارفین سے 75 ارب روپے سے زائد سرچارج کی مد میں وصول ہوچکے ہیں۔ اسی طرح لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن اور اسکاڈا تھری جیسے منصوبوں میں تاخیر، ایچ وی ڈی سی لائن کا صرف 39 فیصد استعمال اور نارتھ۔ساؤتھ کوریڈور میں رکاوٹیں جولائی میں 9 کروڑ 10 لاکھ روپے کے اضافی نقصانات کا باعث بنیں۔ جزوی لوڈ ایڈجسٹمنٹ چارجز بھی رواں مالی سال میں 41 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ یہ مسائل انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں اور فوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ جوابدہی کے بغیر پائیدار بہتری ممکن نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276814</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Sep 2025 10:21:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/10101932d0818b5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/10101932d0818b5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
