<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی حکام فون ٹیپنگ، فائر وال کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی جاسوسی کر رہے ہیں،ایمنسٹی کا الزام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276798/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی حکام لاکھوں شہریوں کی فون ٹیپنگ اور انٹرنیٹ فائر وال کے ذریعے نگرانی کر رہے ہیں، جو سوشل میڈیا پر بھی سنسرشپ عائد کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بڑھتا ہوا مانیٹرنگ نیٹ ورک چینی اور مغربی ٹیکنالوجی کے امتزاج سے تشکیل دیا گیا ہے اور اسے اظہارِ رائے اور اختلافِ رائے پر وسیع کریک ڈاؤن کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں لافل انٹرسیپٹ مینجمنٹ سسٹم (ایل آئی ایم ایس) کے ذریعے بیک وقت کم از کم 40 لاکھ موبائل فون مانیٹر کر سکتی ہیں، جبکہ فائر وال WMS 2.0 انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کرتے ہوئے ایک وقت میں 20 لاکھ فعال سیشنز کو بلاک کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں سسٹم ایک ساتھ کام کرتے ہیں: ایک کے ذریعے انٹیلی جنس ایجنسیاں فون کالز اور پیغامات تک رسائی حاصل کرتی ہیں جبکہ دوسرا ملک بھر میں ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کو سست یا بند کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کے ماہر ٹیکنالوجی یورے وین برگے نے رائٹرز سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ زیرِ نگرانی فونز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ تمام چار بڑے موبائل آپریٹرز کو ایل آئی ایم ایس سے منسلک ہونے کا حکم دیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”اجتماعی نگرانی معاشرے پر ایک خوفناک اثر ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اپنے حقوق کے استعمال سے، چاہے وہ آن لائن ہوں یا آف لائن، باز رہتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس کی تحقیق 2024 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک مقدمے پر بھی مبنی ہے، جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے دائر کیا تھا، جب ان کی نجی کالز آن لائن لیک ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں وزارتِ دفاع اور خفیہ اداروں نے فون ٹیپنگ کرنے یا اس کی صلاحیت رکھنے سے بھی انکار کیا۔ تاہم سوالات کے دوران ٹیلی کام ریگولیٹر نے تسلیم کیا کہ وہ پہلے ہی فون کمپنیوں کو ”نامزد ایجنسیوں“ کے لیے ایل آئی ایم ایس انسٹال کرنے کا حکم دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے حوالے سے وزارتِ ٹیکنالوجی، وزارتِ داخلہ، وزارتِ اطلاعات اور ٹیلی کام ریگولیٹر نے روئٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اس وقت تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ویب لنکس بلاک کر رہا ہے اور یوٹیوب، فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر پابندیاں عائد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی نے لائسنسنگ معاہدوں، تجارتی اعداد و شمار، لیک شدہ تکنیکی فائلوں اور ریکارڈز کا بھی جائزہ لیا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائر وال فراہم کرنے والی کمپنی بیجنگ کی ریاستی ملکیت اداروں سے جڑی ہے۔ یہ فائر وال چین کی کمپنی Geedge Networks فراہم کر رہی ہے۔ تاہم کمپنی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریا کی ایک یونیورسٹی میں ہیومن رائٹس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر بین ویگنر نے کہا ہے کہ موبائل کالز کی نگرانی تو دنیا بھر میں عام ہے لیکن عوامی سطح پر انٹرنیٹ فلٹرنگ بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں دونوں نظاموں کا بیک وقت ہونا انسانی حقوق کے لیے تشویشناک ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اظہارِ رائے اور نجی آزادیوں پر مزید قدغن لگ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی کے مطابق یہ فائر وال امریکی کمپنی نیا گرا نیٹ ورکس کے آلات، فرانس کی کمپنی Thales DIS کے سافٹ ویئر اور چین کی ریاستی آئی ٹی کمپنی کے سرورز پر مبنی ہے۔ اس کا پرانا ورژن کینیڈا کی کمپنی Sandvine کی ٹیکنالوجی پر چلتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیایاگرا نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ امریکی برآمدی قوانین پر عمل کرتے ہیں، صارفین یا ان کے استعمال سے متعلق علم نہیں رکھتے اور صرف ٹیپنگ و ڈیٹا ایگریگیشن کے آلات بیچتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی نے کہا ہے کہ فون ٹیپنگ سسٹم جرمنی کی کمپنی Utimaco نے بنایا ہے اور یہ یو اے ای کی کمپنی (ڈیٹافیوزن) Datafusion کے زیرِ انتظام مانیٹرنگ مراکز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹافیوزن نے ایمنسٹی کو بتایا کہ ان کے مراکز صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ ایل آئی ایم ایس تیار نہیں کرتے۔ جبکہ AppLogic Networks (جو Sandvine کا جانشین ہے) نے کہا ہے کہ اس کے پاس غلط استعمال روکنے کے لیے شکایتی طریقہ کار موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں جن دیگر کمپنیوں کا نام آیا ہے، انہوں نے تبصرہ کرنے سےگریز کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی حکام لاکھوں شہریوں کی فون ٹیپنگ اور انٹرنیٹ فائر وال کے ذریعے نگرانی کر رہے ہیں، جو سوشل میڈیا پر بھی سنسرشپ عائد کرتا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بڑھتا ہوا مانیٹرنگ نیٹ ورک چینی اور مغربی ٹیکنالوجی کے امتزاج سے تشکیل دیا گیا ہے اور اسے اظہارِ رائے اور اختلافِ رائے پر وسیع کریک ڈاؤن کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں لافل انٹرسیپٹ مینجمنٹ سسٹم (ایل آئی ایم ایس) کے ذریعے بیک وقت کم از کم 40 لاکھ موبائل فون مانیٹر کر سکتی ہیں، جبکہ فائر وال WMS 2.0 انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کرتے ہوئے ایک وقت میں 20 لاکھ فعال سیشنز کو بلاک کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہ دونوں سسٹم ایک ساتھ کام کرتے ہیں: ایک کے ذریعے انٹیلی جنس ایجنسیاں فون کالز اور پیغامات تک رسائی حاصل کرتی ہیں جبکہ دوسرا ملک بھر میں ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کو سست یا بند کر دیتا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی کے ماہر ٹیکنالوجی یورے وین برگے نے رائٹرز سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ زیرِ نگرانی فونز کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ تمام چار بڑے موبائل آپریٹرز کو ایل آئی ایم ایس سے منسلک ہونے کا حکم دیا جا چکا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”اجتماعی نگرانی معاشرے پر ایک خوفناک اثر ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اپنے حقوق کے استعمال سے، چاہے وہ آن لائن ہوں یا آف لائن، باز رہتے ہیں۔“</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس کی تحقیق 2024 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک مقدمے پر بھی مبنی ہے، جو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے دائر کیا تھا، جب ان کی نجی کالز آن لائن لیک ہو گئیں۔</p>
<p>عدالت میں وزارتِ دفاع اور خفیہ اداروں نے فون ٹیپنگ کرنے یا اس کی صلاحیت رکھنے سے بھی انکار کیا۔ تاہم سوالات کے دوران ٹیلی کام ریگولیٹر نے تسلیم کیا کہ وہ پہلے ہی فون کمپنیوں کو ”نامزد ایجنسیوں“ کے لیے ایل آئی ایم ایس انسٹال کرنے کا حکم دے چکا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے حوالے سے وزارتِ ٹیکنالوجی، وزارتِ داخلہ، وزارتِ اطلاعات اور ٹیلی کام ریگولیٹر نے روئٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>ایمنسٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اس وقت تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار ویب لنکس بلاک کر رہا ہے اور یوٹیوب، فیس بک اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر پابندیاں عائد ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی نے لائسنسنگ معاہدوں، تجارتی اعداد و شمار، لیک شدہ تکنیکی فائلوں اور ریکارڈز کا بھی جائزہ لیا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائر وال فراہم کرنے والی کمپنی بیجنگ کی ریاستی ملکیت اداروں سے جڑی ہے۔ یہ فائر وال چین کی کمپنی Geedge Networks فراہم کر رہی ہے۔ تاہم کمپنی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
<p>آسٹریا کی ایک یونیورسٹی میں ہیومن رائٹس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر بین ویگنر نے کہا ہے کہ موبائل کالز کی نگرانی تو دنیا بھر میں عام ہے لیکن عوامی سطح پر انٹرنیٹ فلٹرنگ بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں دونوں نظاموں کا بیک وقت ہونا انسانی حقوق کے لیے تشویشناک ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اظہارِ رائے اور نجی آزادیوں پر مزید قدغن لگ سکتی ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی کے مطابق یہ فائر وال امریکی کمپنی نیا گرا نیٹ ورکس کے آلات، فرانس کی کمپنی Thales DIS کے سافٹ ویئر اور چین کی ریاستی آئی ٹی کمپنی کے سرورز پر مبنی ہے۔ اس کا پرانا ورژن کینیڈا کی کمپنی Sandvine کی ٹیکنالوجی پر چلتا تھا۔</p>
<p>نیایاگرا نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ امریکی برآمدی قوانین پر عمل کرتے ہیں، صارفین یا ان کے استعمال سے متعلق علم نہیں رکھتے اور صرف ٹیپنگ و ڈیٹا ایگریگیشن کے آلات بیچتے ہیں۔</p>
<p>ایمنسٹی نے کہا ہے کہ فون ٹیپنگ سسٹم جرمنی کی کمپنی Utimaco نے بنایا ہے اور یہ یو اے ای کی کمپنی (ڈیٹافیوزن) Datafusion کے زیرِ انتظام مانیٹرنگ مراکز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔</p>
<p>ڈیٹافیوزن نے ایمنسٹی کو بتایا کہ ان کے مراکز صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کیے جاتے ہیں اور وہ ایل آئی ایم ایس تیار نہیں کرتے۔ جبکہ AppLogic Networks (جو Sandvine کا جانشین ہے) نے کہا ہے کہ اس کے پاس غلط استعمال روکنے کے لیے شکایتی طریقہ کار موجود ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں جن دیگر کمپنیوں کا نام آیا ہے، انہوں نے تبصرہ کرنے سےگریز کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276798</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 18:58:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/091828296e18ef0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/091828296e18ef0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
