<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شرح سود خطے میں سب سے زیادہ ، سنگل ڈیجٹ پر لائی جائے، یونائیٹڈ بزنس گروپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276784/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے اپیل کی ہے کہ وہ 15 ستمبر کو ہونے والے آئندہ مانیٹری پالیسی کے اعلان میں پالیسی شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرے تاکہ معیشت کی بحالی اور صنعتوں کی ترقی کو سہارا ملے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی جی کے مرکزی ترجمان گلزار فیروز کے مطابق زبیر طفیل نے 11 فیصد کی بلند شرح سود پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے نجی شعبے کے قرضے لینے اور سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری گزشتہ مانیٹری پالیسی کے فیصلے سے مایوس ہوئی جس میں ایس بی پی نے اقتصادی اشاروں کے باوجود شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر طفیل نے خبردار کیا کہ اگر شرح سود میں خاطر خواہ کمی نہ کی گئی تو ملک کی اقتصادی بحالی سست رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی شرح سود خطے میں سب سے زیادہ ہے، جو چین، بھارت، ویتنام، تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات اور صنعتیں عالمی مارکیٹ میں کم مسابقتی ہورہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بلند شرح سود ایس ایم ایز پر شدید اثر ڈال رہی ہے جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جب کہ برآمد کنندگان اور مقامی کاروبار مالیاتی لاگت کی ناقابل برداشت صورتحال کی وجہ سے دباؤ میں ہیں، جس سے ان کی ترقی اور عالمی مسابقت محدود ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبیر طفیل نے زور دیا کہ موجودہ میکرو اکنامک ماحول، خاص طور پر ریکارڈ کم مہنگائی کی شرح، شرح سود میں نمایاں کمی کے لیے کافی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی اقتصادی نمو کو فروغ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے اپیل کی ہے کہ وہ 15 ستمبر کو ہونے والے آئندہ مانیٹری پالیسی کے اعلان میں پالیسی شرح سود کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرے تاکہ معیشت کی بحالی اور صنعتوں کی ترقی کو سہارا ملے۔</strong></p>
<p>یو بی جی کے مرکزی ترجمان گلزار فیروز کے مطابق زبیر طفیل نے 11 فیصد کی بلند شرح سود پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے نجی شعبے کے قرضے لینے اور سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری گزشتہ مانیٹری پالیسی کے فیصلے سے مایوس ہوئی جس میں ایس بی پی نے اقتصادی اشاروں کے باوجود شرح سود کو بلند سطح پر برقرار رکھا۔</p>
<p>زبیر طفیل نے خبردار کیا کہ اگر شرح سود میں خاطر خواہ کمی نہ کی گئی تو ملک کی اقتصادی بحالی سست رہے گی۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی شرح سود خطے میں سب سے زیادہ ہے، جو چین، بھارت، ویتنام، تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش سے کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی برآمدات اور صنعتیں عالمی مارکیٹ میں کم مسابقتی ہورہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بلند شرح سود ایس ایم ایز پر شدید اثر ڈال رہی ہے جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں جب کہ برآمد کنندگان اور مقامی کاروبار مالیاتی لاگت کی ناقابل برداشت صورتحال کی وجہ سے دباؤ میں ہیں، جس سے ان کی ترقی اور عالمی مسابقت محدود ہورہی ہے۔</p>
<p>زبیر طفیل نے زور دیا کہ موجودہ میکرو اکنامک ماحول، خاص طور پر ریکارڈ کم مہنگائی کی شرح، شرح سود میں نمایاں کمی کے لیے کافی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی اقتصادی نمو کو فروغ دے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276784</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 12:55:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/091253344735169.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/091253344735169.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
