<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زرعی آمدن سے حاصل ہونے والا ٹیکس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276775/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے آج ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے چاروں صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی کے انتہائی کم تخمینے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس کی ممکنہ صلاحیت 450 سے 500 ارب روپے ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی آمدن پر ٹیکس کا نفاذ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی شرط تھی جس کے تحت چاروں صوبوں سے کہا گیا تھا کہ وہ جنوری 2025 تک اس قانون سازی کو مکمل کریں اور جولائی 2025 سے اس کا نفاذ شروع ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازی تو مکمل ہوگئی لیکن سیاسی مفادات کی وجہ سے تمام صوبوں نے جون 2025 میں پارلیمان سے منظور شدہ بجٹ میں اس ٹیکس سے ممکنہ ریونیو کو کم ظاہر کیا جو حکومت کے ریونیو ذرائع پر ممتاز طبقے کے تسلط کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2024 کے آئی ایم ایف دستاویزات میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں نے قومی مالیاتی معاہدے میں شمولیت پر اتفاق کیا، جس کے تحت وفاقی اخراجات کی مخصوص ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جائیں گی اور صوبوں کی اپنی ٹیکس وصولی کی کوششوں کو بھی بڑھایا جائے گا، جس میں زرعی آمدنی ٹیکس (FY25)، خدمات پر سیلز ٹیکس (FY26) اور جائیداد پر ٹیکس (FY26) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2025 کی نظرثانی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ چاروں صوبوں نے زرعی آمدنی ٹیکس کے نظام میں ترمیم کی ہیں تاکہ چھوٹے کسانوں کے لیے وفاقی ذاتی آمدنی ٹیکس اور کمرشل زراعت کے لیے کارپوریٹ انکم ٹیکس کے نظام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ٹیکس نظام کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے ہونے والی آمدنی پر ہوگا جس کے تحت مالی سال 2025 کے دوسرے نصف حصے کا ٹیکس ستمبر 2025 میں وصول کیا جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق براہِ راست ٹیکس اور صوبائی غیر ٹیکس و ٹیکس آمدنی (سالانہ بنیاد پر بالترتیب 29 فیصد اور 32 فیصد اضافے کے ساتھ) متوقع سے زیادہ مضبوط رہی، لیکن یہ اعداد و شمار پچھلے مالی سال کے لیے ہیں، نہ کہ مالی سال 2026 کے لیے، جو یکم جولائی سے شروع ہوا اور جس میں زرعی آمدنی ٹیکس نافذ ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر کے آخر کی آخری تاریخ ابھی تین ہفتے دور ہے، اگرچہ آئی ایم ایف کی ٹیم متوقع طور پر ستمبر کے وسط میں جاری قرضے کا دوسرا جائزہ شروع کرے گی اور یہ معاملہ زیرِ بحث آسکتا ہے۔ امکان ہے کہ صوبے زرعی آمدنی ٹیکس کے لیے انتہائی کم بجٹ کی وجہ کے طور پر جاری سیلابوں سے فصلوں کے شدید نقصان کا حوالہ دیں، حالانکہ بجٹ سیلابوں کے آغاز سے چند ہفتے قبل ہی اعلان کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین بالواسطہ طور پر زرعی آمدنی پر ٹیکس کو صوبائی موضوع قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ وفاقی فہرست سے خارج ہے، جس سے پارلیمان کو یہ اختیار نہیں ملتا کہ وہ تنخواہ دار طبقے کی طرح زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں حکومتیں آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے پر انحصار کرتی تھیں، لیکن حالیہ مہینوں میں متنازعہ ترمیمات آسانی سے منظور کروا لی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے حکومت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ آئین میں ایسی ترمیم پاس کرے جو وفاقی بورڈ آف ریونیو کو زرعی آمدنی ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دے تاکہ یہ ٹیکس بعد میں قابلِ تقسیم فنڈ کا حصہ بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ  صوبوں کو مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ زرعی آمدنی ٹیکس کے لیے مناسب ہدف مقرر کریں یا آئینی ترمیم کے ذریعے ایف بی آر کو یہ ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا جائے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم فنڈ کا حصہ بن کر صوبوں میں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے فارمولے کے مطابق تقسیم کیا جاسکے، یا ایف بی آر کو ہر صوبے کی جانب سے ٹیکس جمع کرنے کی اجازت دی جائے جس کے بدلے ایک معمولی فیس وصول کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے آج ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے چاروں صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرعی آمدنی پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی کے انتہائی کم تخمینے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت نے 10 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس کی ممکنہ صلاحیت 450 سے 500 ارب روپے ہے۔</strong></p>
<p>زرعی آمدن پر ٹیکس کا نفاذ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی شرط تھی جس کے تحت چاروں صوبوں سے کہا گیا تھا کہ وہ جنوری 2025 تک اس قانون سازی کو مکمل کریں اور جولائی 2025 سے اس کا نفاذ شروع ہو۔</p>
<p>قانون سازی تو مکمل ہوگئی لیکن سیاسی مفادات کی وجہ سے تمام صوبوں نے جون 2025 میں پارلیمان سے منظور شدہ بجٹ میں اس ٹیکس سے ممکنہ ریونیو کو کم ظاہر کیا جو حکومت کے ریونیو ذرائع پر ممتاز طبقے کے تسلط کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اکتوبر 2024 کے آئی ایم ایف دستاویزات میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں نے قومی مالیاتی معاہدے میں شمولیت پر اتفاق کیا، جس کے تحت وفاقی اخراجات کی مخصوص ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جائیں گی اور صوبوں کی اپنی ٹیکس وصولی کی کوششوں کو بھی بڑھایا جائے گا، جس میں زرعی آمدنی ٹیکس (FY25)، خدمات پر سیلز ٹیکس (FY26) اور جائیداد پر ٹیکس (FY26) شامل ہیں۔</p>
<p>مئی 2025 کی نظرثانی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ چاروں صوبوں نے زرعی آمدنی ٹیکس کے نظام میں ترمیم کی ہیں تاکہ چھوٹے کسانوں کے لیے وفاقی ذاتی آمدنی ٹیکس اور کمرشل زراعت کے لیے کارپوریٹ انکم ٹیکس کے نظام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔</p>
<p>نئے ٹیکس نظام کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے ہونے والی آمدنی پر ہوگا جس کے تحت مالی سال 2025 کے دوسرے نصف حصے کا ٹیکس ستمبر 2025 میں وصول کیا جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق براہِ راست ٹیکس اور صوبائی غیر ٹیکس و ٹیکس آمدنی (سالانہ بنیاد پر بالترتیب 29 فیصد اور 32 فیصد اضافے کے ساتھ) متوقع سے زیادہ مضبوط رہی، لیکن یہ اعداد و شمار پچھلے مالی سال کے لیے ہیں، نہ کہ مالی سال 2026 کے لیے، جو یکم جولائی سے شروع ہوا اور جس میں زرعی آمدنی ٹیکس نافذ ہونا تھا۔</p>
<p>ستمبر کے آخر کی آخری تاریخ ابھی تین ہفتے دور ہے، اگرچہ آئی ایم ایف کی ٹیم متوقع طور پر ستمبر کے وسط میں جاری قرضے کا دوسرا جائزہ شروع کرے گی اور یہ معاملہ زیرِ بحث آسکتا ہے۔ امکان ہے کہ صوبے زرعی آمدنی ٹیکس کے لیے انتہائی کم بجٹ کی وجہ کے طور پر جاری سیلابوں سے فصلوں کے شدید نقصان کا حوالہ دیں، حالانکہ بجٹ سیلابوں کے آغاز سے چند ہفتے قبل ہی اعلان کیے گئے تھے۔</p>
<p>آئین بالواسطہ طور پر زرعی آمدنی پر ٹیکس کو صوبائی موضوع قرار دیتا ہے، کیونکہ یہ وفاقی فہرست سے خارج ہے، جس سے پارلیمان کو یہ اختیار نہیں ملتا کہ وہ تنخواہ دار طبقے کی طرح زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرے۔</p>
<p>ماضی میں حکومتیں آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت نہ ہونے پر انحصار کرتی تھیں، لیکن حالیہ مہینوں میں متنازعہ ترمیمات آسانی سے منظور کروا لی گئی ہیں۔</p>
<p>اس لیے حکومت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ آئین میں ایسی ترمیم پاس کرے جو وفاقی بورڈ آف ریونیو کو زرعی آمدنی ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دے تاکہ یہ ٹیکس بعد میں قابلِ تقسیم فنڈ کا حصہ بنایا جاسکے۔</p>
<p>اس کے ساتھ  صوبوں کو مجبور کیا جانا چاہیے کہ وہ زرعی آمدنی ٹیکس کے لیے مناسب ہدف مقرر کریں یا آئینی ترمیم کے ذریعے ایف بی آر کو یہ ٹیکس جمع کرنے کا اختیار دیا جائے، تاکہ یہ قابلِ تقسیم فنڈ کا حصہ بن کر صوبوں میں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے فارمولے کے مطابق تقسیم کیا جاسکے، یا ایف بی آر کو ہر صوبے کی جانب سے ٹیکس جمع کرنے کی اجازت دی جائے جس کے بدلے ایک معمولی فیس وصول کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276775</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 11:54:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/09115342bc1239b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/09115342bc1239b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
