<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک اور ڈالر کے بغیر تجارت نیا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیں گے، پی بی آئی ایف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی 25ویں سربراہی کانفرنس عالمی و علاقائی معاملات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ اجلاس کے اہم نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشی طور پر ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کا قیام اور غیر ڈالر تجارتی ادائیگیوں پر زور اس بات کا غماز ہے کہ رکن ممالک مغربی اثر و رسوخ سے آزاد ایک خودمختار مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے پرعزم ہیں۔ سیاسی سطح پر تیانجن اعلامیہ نے خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات کے ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین کے مطابق پاکستان اور چین کے لیے یہ کانفرنس ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنی، جہاں تجارت و صنعتی تعاون کو فروغ دینے اور سی پیک کے اگلے مرحلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران دفاع اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے نئے سیکیورٹی مراکز کے قیام پر اتفاق کیا گیا، جو پاکستان کی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس تعلقات میں بہتری کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت اور سرحدی مسائل پر نئے مکالمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے تعاون کی راہ اختیار کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو پورے خطے کے سیاسی و معاشی ماحول کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک متوازن اور لچکدار سفارتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اسٹریٹجک حیثیت کو خطے میں رابطوں کے فروغ کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کثیر الجہتی اور مضبوط تعلقات بھی قائم رکھنے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ یہ کوئی صفر جمع کھیل نہیں، بلکہ پاکستان کے قومی مفادات اسی میں ہیں کہ وہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او اب محض سیکیورٹی تک محدود اتحاد نہیں رہا بلکہ ایک جامع پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے، جو معاشی انضمام اور ایک مستحکم کثیر قطبی دنیا کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی 25ویں سربراہی کانفرنس عالمی و علاقائی معاملات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ اجلاس کے اہم نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشی طور پر ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کا قیام اور غیر ڈالر تجارتی ادائیگیوں پر زور اس بات کا غماز ہے کہ رکن ممالک مغربی اثر و رسوخ سے آزاد ایک خودمختار مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے پرعزم ہیں۔ سیاسی سطح پر تیانجن اعلامیہ نے خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات کے ایک نئے ماڈل کی بنیاد رکھی ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین کے مطابق پاکستان اور چین کے لیے یہ کانفرنس ہر موسم کی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنی، جہاں تجارت و صنعتی تعاون کو فروغ دینے اور سی پیک کے اگلے مرحلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران دفاع اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے نئے سیکیورٹی مراکز کے قیام پر اتفاق کیا گیا، جو پاکستان کی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p>بھارت اور چین کے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس تعلقات میں بہتری کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت اور سرحدی مسائل پر نئے مکالمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تصادم کے بجائے تعاون کی راہ اختیار کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو پورے خطے کے سیاسی و معاشی ماحول کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک متوازن اور لچکدار سفارتی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اسٹریٹجک حیثیت کو خطے میں رابطوں کے فروغ کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کثیر الجہتی اور مضبوط تعلقات بھی قائم رکھنے چاہئیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ یہ کوئی صفر جمع کھیل نہیں، بلکہ پاکستان کے قومی مفادات اسی میں ہیں کہ وہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس سی او اب محض سیکیورٹی تک محدود اتحاد نہیں رہا بلکہ ایک جامع پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے، جو معاشی انضمام اور ایک مستحکم کثیر قطبی دنیا کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276773</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 11:13:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/091057359d30882.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/091057359d30882.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
