<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی۔اگست: ترسیلات زر 7 فیصد بڑھ کر 6.35 ارب ڈالر ہو گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276764/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے پیر کو رپورٹ کیا کہ مالی سال 2026 کی ابتدائی دو ماہ (جولائی-اگست) کے دوران ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو جولائی-اگست مالی سال 26 میں 6.35 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال ( مالی سال 25) کے اسی عرصے میں موصول ہونے والی 5.94 ارب ڈالر کی ترسیلات کے مقابلے میں 415 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اس عرصے میں 25 فیصد حصے کے ساتھ ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ سعودی عرب سے ترسیلات میں 6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 1.56 ارب ڈالر ہوگئیں، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 1.47 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات دوسرا بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے جولائی-اگست  مالی سال 26 میں 1.308 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے 1.15 ارب ڈالر کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس، امریکا اور برطانیہ سے ترسیلات میں کمی دیکھی گئی، جو بالترتیب 14 فیصد اور 0.5 فیصد کم ہو کر 537 ملین ڈالر اور 914 ملین ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو اگست 2025 میں ملک کو 3.138 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو اگست 2024 کے 2.942 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6 فیصد یا 195 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔ تاہم یہ جون 2025 کی سطح (3.214 ارب ڈالر) سے قدرے کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے نہ صرف 38 ارب ڈالر کے ہدف کو عبور کیا بلکہ حکومتی اقدامات اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے باضابطہ بینکاری ذرائع کے ذریعے رقوم کو لانے کی کوششوں کے باعث بیرونی کھاتوں کی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے گورنر، جمیل احمد نے اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ مالی سال میں ترسیلات میں اضافہ جاری رہے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ بلند بنیاد  اور ترغیبی اسکیموں کی حالیہ تنظیم نو کے باعث رفتار میں کچھ کمی آسکتی ہے۔ اس کے باوجود، توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو  مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری اور مالیاتی تجزیہ کار، ابراہیم امین نے کہا کہ اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مختلف ممالک میں کام کرنے والے کمرشل بینکوں کی جانب سے سہولت فراہم کی جائے تو ترسیلات میں مستحکم اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کمرشل بینکوں کو اپنے آپریشنز میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنائے گی، جس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر خدمات ملیں گی اور پاکستان آنے والی ترسیلات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حکومت کی مختلف اسکیمیں تیزی سے بیرون ملک پاکستانیوں میں مقبول ہورہی ہیں، جس کی عکاسی ترسیلات میں مستقل اور بہتر نمو سے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ترسیلات کی یہ مستقل رفتار جاری رہی تو ملک رواں مالی سال میں 40 ارب ڈالر کے ہدف کو حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ جغرافیائی و معاشی استحکام برقرار رہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بینکاری ذرائع استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے پیر کو رپورٹ کیا کہ مالی سال 2026 کی ابتدائی دو ماہ (جولائی-اگست) کے دوران ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو جولائی-اگست مالی سال 26 میں 6.35 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال ( مالی سال 25) کے اسی عرصے میں موصول ہونے والی 5.94 ارب ڈالر کی ترسیلات کے مقابلے میں 415 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب اس عرصے میں 25 فیصد حصے کے ساتھ ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ سعودی عرب سے ترسیلات میں 6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 1.56 ارب ڈالر ہوگئیں، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 1.47 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات دوسرا بڑا ذریعہ رہا، جہاں سے جولائی-اگست  مالی سال 26 میں 1.308 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے 1.15 ارب ڈالر کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس، امریکا اور برطانیہ سے ترسیلات میں کمی دیکھی گئی، جو بالترتیب 14 فیصد اور 0.5 فیصد کم ہو کر 537 ملین ڈالر اور 914 ملین ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو اگست 2025 میں ملک کو 3.138 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو اگست 2024 کے 2.942 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6 فیصد یا 195 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔ تاہم یہ جون 2025 کی سطح (3.214 ارب ڈالر) سے قدرے کم ہیں۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے نہ صرف 38 ارب ڈالر کے ہدف کو عبور کیا بلکہ حکومتی اقدامات اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے باضابطہ بینکاری ذرائع کے ذریعے رقوم کو لانے کی کوششوں کے باعث بیرونی کھاتوں کی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے گورنر، جمیل احمد نے اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ مالی سال میں ترسیلات میں اضافہ جاری رہے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ بلند بنیاد  اور ترغیبی اسکیموں کی حالیہ تنظیم نو کے باعث رفتار میں کچھ کمی آسکتی ہے۔ اس کے باوجود، توقع ہے کہ مالی سال 2026 میں ترسیلات زر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جو  مالی سال 25 میں 38 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>بینکاری اور مالیاتی تجزیہ کار، ابراہیم امین نے کہا کہ اگر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو مختلف ممالک میں کام کرنے والے کمرشل بینکوں کی جانب سے سہولت فراہم کی جائے تو ترسیلات میں مستحکم اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کمرشل بینکوں کو اپنے آپریشنز میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنائے گی، جس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر خدمات ملیں گی اور پاکستان آنے والی ترسیلات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ حکومت کی مختلف اسکیمیں تیزی سے بیرون ملک پاکستانیوں میں مقبول ہورہی ہیں، جس کی عکاسی ترسیلات میں مستقل اور بہتر نمو سے ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ترسیلات کی یہ مستقل رفتار جاری رہی تو ملک رواں مالی سال میں 40 ارب ڈالر کے ہدف کو حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ جغرافیائی و معاشی استحکام برقرار رہے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی بینکاری ذرائع استعمال کریں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276764</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 09:59:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/090958399b257ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="737" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/090958399b257ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
