<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:26:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:26:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت فوری طور پر بحالی پیکج کا اعلان کرے، کسان تنظیموں کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276759/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پنجاب کے مختلف کسان تنظیموں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث دیہی علاقوں میں کسانوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جاری ریسکیو اور ریلیف کے ساتھ ساتھ ایک جامع بحالی پیکج بھی فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ کسانوں کی معیشت بحال ہو اور دیہی معیشت مستحکم ہو سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان رہنماؤں نے کہا کہ بحالی پیکج میں مالی امداد، معیاری بیج اور دیگر ضروری زرعی آلات شامل ہونے چاہئیں تاکہ کسان اگلی فصل بونے کے لیے تیار ہو سکیں اور دیہی معیشت معمول پر آ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے علاقے جلال پور پیر والا سے تعلق رکھنے والے فارمر بیورو آف پاکستان (ایف بی پی) کے صدر ڈاکٹر ظفر حیات نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے ہی گندم کی سپورٹ پرائس نہ دینے اور سال کے آغاز میں اناج خریدنے میں تاخیر کے باعث کسانوں پر مالی دباؤ ڈالا ہوا ہے، اور اب سیلاب نے ان کی محنت کو مزید تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوراً بحالی منصوبے پر کام شروع کرنا چاہیے تاکہ کسان بغیر اضافی مالی بوجھ کے اگلے سیزن کی تیاری کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان اتحاد پاکستان (کے آئی پی) کے صدر خالد حسین باٹھ نے کہا کہ سیلاب نے کسان برادری کی کمر توڑ دی ہے۔ تقریباً 2.5 ملین ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی ہے، اہم فصلیں جیسے چاول، کپاس، باجرہ اور تیل والی فصلیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ پنجاب کے 20,000 بڑے اور 20,000 چھوٹے گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کی حمایت میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اور کہا کہ اگر کسان زندہ رہے گا تو ملک زندہ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ، پنجاب زراعت اور لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے متاثرین تک ریلیف پہنچانے میں مصروف ہیں۔ 429 ریلیف کیمپوں میں عملہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ 1,200 سے زائد فیلڈ عملہ امداد کی فراہمی میں سرگرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے کے ریلیف پروگرام کے تحت 725 ٹرالی سبز چارہ، 1,424 گڈیاں اور لوڈر رکشے، اور 8,300 من گندم کا بھوسہ فراہم کیا گیا۔ مزید برآں، 14 بلڈوزرز حفاظتی بند باندھنے کے لیے ضلع انتظامیہ کو سپرد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر زراعت نے لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی خدمات کو بھی سراہا، جہاں 3,466 عملہ ریلیف کیمپوں میں تعینات ہے۔ ان کی خدمات سے 75,161 جانوروں کا علاج کیا گیا، 520,000 سے زائد جانوروں کو ویکسین دی گئی اور 528 ٹن چارہ متاثرہ گھرانوں میں تقسیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پنجاب کے مختلف کسان تنظیموں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث دیہی علاقوں میں کسانوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جاری ریسکیو اور ریلیف کے ساتھ ساتھ ایک جامع بحالی پیکج بھی فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ کسانوں کی معیشت بحال ہو اور دیہی معیشت مستحکم ہو سکے۔</strong></p>
<p>کسان رہنماؤں نے کہا کہ بحالی پیکج میں مالی امداد، معیاری بیج اور دیگر ضروری زرعی آلات شامل ہونے چاہئیں تاکہ کسان اگلی فصل بونے کے لیے تیار ہو سکیں اور دیہی معیشت معمول پر آ جائے۔</p>
<p>سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے علاقے جلال پور پیر والا سے تعلق رکھنے والے فارمر بیورو آف پاکستان (ایف بی پی) کے صدر ڈاکٹر ظفر حیات نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے ہی گندم کی سپورٹ پرائس نہ دینے اور سال کے آغاز میں اناج خریدنے میں تاخیر کے باعث کسانوں پر مالی دباؤ ڈالا ہوا ہے، اور اب سیلاب نے ان کی محنت کو مزید تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوراً بحالی منصوبے پر کام شروع کرنا چاہیے تاکہ کسان بغیر اضافی مالی بوجھ کے اگلے سیزن کی تیاری کر سکیں۔</p>
<p>کسان اتحاد پاکستان (کے آئی پی) کے صدر خالد حسین باٹھ نے کہا کہ سیلاب نے کسان برادری کی کمر توڑ دی ہے۔ تقریباً 2.5 ملین ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی ہے، اہم فصلیں جیسے چاول، کپاس، باجرہ اور تیل والی فصلیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ پنجاب کے 20,000 بڑے اور 20,000 چھوٹے گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کی حمایت میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اور کہا کہ اگر کسان زندہ رہے گا تو ملک زندہ رہے گا۔</p>
<p>دریں اثنا، وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ، پنجاب زراعت اور لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے متاثرین تک ریلیف پہنچانے میں مصروف ہیں۔ 429 ریلیف کیمپوں میں عملہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ 1,200 سے زائد فیلڈ عملہ امداد کی فراہمی میں سرگرم ہے۔</p>
<p>زرعی شعبے کے ریلیف پروگرام کے تحت 725 ٹرالی سبز چارہ، 1,424 گڈیاں اور لوڈر رکشے، اور 8,300 من گندم کا بھوسہ فراہم کیا گیا۔ مزید برآں، 14 بلڈوزرز حفاظتی بند باندھنے کے لیے ضلع انتظامیہ کو سپرد کیے گئے۔</p>
<p>وزیر زراعت نے لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی خدمات کو بھی سراہا، جہاں 3,466 عملہ ریلیف کیمپوں میں تعینات ہے۔ ان کی خدمات سے 75,161 جانوروں کا علاج کیا گیا، 520,000 سے زائد جانوروں کو ویکسین دی گئی اور 528 ٹن چارہ متاثرہ گھرانوں میں تقسیم کیا گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276759</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 09:10:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد بیگ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0909083204abf91.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0909083204abf91.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
