<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب: بجٹ خسارہ اور/یا منی بجٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276748/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیلاب کی تباہ کاریاں روز بروز بڑھ رہی ہیں، جانی نقصان اور مالی نقصانات (نجی و سرکاری دونوں) کے اعتبار سے، جبکہ محکمۂ موسمیات کے مطابق آخری مون سون بارشیں اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے کا امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس بڑھتی ہوئی متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا بیرونی ڈونرز کی امداد دستیاب ہو گی۔ اس تناظر میں یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ 2022 کے سیلاب کے دوران، جب تباہی کا تخمینہ 40 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا تھا، حکومت کو تقریباً 10 ارب ڈالر کے وعدے ملے (گرانٹس اور قرضوں کا مجموعہ) لیکن دو سال بعد، 2024 تک، ان وعدوں میں سے صرف 2.8 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ یہ بات بھی واضح نہیں کہ موصولہ رقم میں سے کتنا قرض تھا اور اس کا مصرف کہاں ہوا، کیونکہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اعلانیہ شکوہ کیا کہ ’’ہم نے 2022 سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی پارلیمنٹیرینز حکومت پر ڈیم بنانے پر زور دے رہے ہیں، جن میں انتہائی سیاسی طور پر متنازع کالا باغ ڈیم بھی شامل ہے، جس کی تعمیر کی سندھ کے وزراء نے سخت مخالفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان، جنہوں نے اُس وقت کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کر 2022 کے سیلابی تباہ کاریوں کے پیمانے اور شدت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، نے گزشتہ ہفتے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ “جب بھی کوئی سپر فلڈ آتا ہے تو بہت سے لوگ بڑے ڈیم جیسے ’جادوئی حل‘ کی طرف لپکتے ہیں۔ مجھے یہ حقیقت بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ بڑے ڈیموں کا دور گزر چکا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ تربیلا کو امریکی مالی معاونت حاصل رہی جبکہ منگلا کو سندھ طاس معاہدے کے بعد عالمی اداروں جیسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک نے مالی سہارا دیا۔ آج حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دیامر اور داسو ڈیم کی تکمیل پر توجہ دینی چاہیے، کسی نئے بڑے ڈیم کی بات محض خواہش تک محدود ہے کیونکہ نہ ان کے لیے سرمایہ دستیاب ہے اور نہ ہی وہ سلٹ بھرنے کے مسائل کے باعث دیرپا چل سکتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیری رحمان نے نشاندہی کی ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے شدید سلٹ فلو نے دونوں بڑے ڈیموں کی گنجائش بری طرح متاثر کی ہے۔ ان کے مطابق حل ناممکن نہیں بلکہ اگر جامع منصوبہ بندی کی جائے تو نسبتاً آسان ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیموں اور ریزروائرز کا نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے ڈیم اچانک آنے والے پانی کو روکنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں سیلاب کے سدباب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہے اور اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ چھوٹے ڈیم ہی آگے کا راستہ ہیں کیونکہ ان کی دیکھ بھال، سرمایہ کاری اور تکمیل نسبتاً آسان ہے۔ تاہم، سیلاب کے خطرات کم کرنے کے لیے ملک گیر موسمیاتی اور آبی آڈٹ کی ضرورت ہے، جس میں بے قابو شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، پہاڑوں میں غیر قانونی کان کنی اور دریا کے بہاؤ میں مداخلت کو روکنا ہوگا۔ اس کے باوجود، دریا اپنی طغیانی کے ساتھ سمندر کی طرف بہے گا اور گلیشیئرز کے غیر معمولی پگھلاؤ کے باعث سیلاب کی شدت مزید بڑھے گی۔ فرق یہ ہوگا کہ ہم کس طرح اس سے نمٹتے ہیں، نقصانات کو کس حد تک کم کرتے ہیں اور زرعی پیداوار کو کس طرح محفوظ رکھتے ہیں۔ مستقبل میں خوراک اور پانی کے تحفظ کے لیے زرعی زمین کے استعمال کا ازسرنو جائزہ بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ معیار کا انسانی سرمایہ موجود ہے جو درست حکمتِ عملی تجویز کر سکتا ہے، مگر اصل مسئلہ سیاسی عزم کا ہے جو ہمیشہ اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ موجودہ وزیرِ ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اشرافیہ کی گرفت پر مبنی پالیسیاں ہی معیشت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بڑھا رہی ہیں، بالخصوص ٹمبر اور بلڈرز مافیا کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مئی 2025 میں 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) منظور کیا، جس کا مقصد پاکستان کو موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے مقابلے میں معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد دینا ہے۔ یہ قرض بجٹ سپورٹ کے طور پر استعمال ہونا تھا تاکہ مہنگے مقامی کمرشل قرضوں کا متبادل فراہم کیا جا سکے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو، مگر جون کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے اس گنجائش کو شدید متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اگر پاکستان آئندہ پانچ برسوں تک جی ڈی پی کے اضافی ایک فیصد کے مساوی سرمایہ کاری ماحولیاتی انفرااسٹرکچر پر کرے تو قدرتی آفات سے ہونے والے معاشی نقصانات نصف رہ جائیں گے اور معیشت تیزی سے سنبھل سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ 2025-26 میں اس مقصد کے لیے 716,766 ملین روپے مختص کیے گئے، جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ 278,313 ملین روپے سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ اخراجات اس طرح تقسیم کیے گئے ہیں۔ موافقت ( ایڈیپٹیشن) یعنی موجودہ ماحولیاتی خطرات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات: 85,435 ملین روپے (گزشتہ سال 46,625 ملین روپے)، تخفیف (مٹی گیشن) : 603,000 ملین روپے (گزشتہ سال 212,861 ملین روپے) اور معاون شعبے: 28,331 ملین روپے (گزشتہ سال 18,887 ملین روپے)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ واضح نہیں کہ اس میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے لیے مختص 2784 ملین روپے بھی شامل ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ موجودہ اخراجات میں 389 ارب روپے ہنگامی صورتحال کے لیے رکھے گئے ہیں جن میں سے صرف 15 ارب روپے قدرتی آفات کے لیے مختص ہیں۔ یہ رقم موجودہ تباہی کے تناظر میں نہایت ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی 114,692 ارب روپے رہی۔ موجودہ بجٹ میں 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن حالیہ سیلاب کے باعث یہ محض 0.5 سے 1 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح متوقع جی ڈی پی 119,509 ارب روپے بنتی ہے۔ اس حساب سے جی ڈی پی کا ایک فیصد 1195 ارب روپے بنتا ہے، لیکن بجٹ میں اس سے کہیں کم مختص کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ خسارہ اس وقت 6,501 ارب روپے (کل بجٹ کا 37 فیصد) ہے، جسے اندرونی اور بیرونی قرضوں سے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ سودی ادائیگیاں تنہا مجموعی اخراجات کا تقریباً نصف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس تین راستے ہیں: اول ، ایک منی بجٹ پیش کیا جائے، جس میں بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس کا بوجھ امیر کے بجائے غریب پر زیادہ پڑے گا۔ دوم، پی ایس ڈی پی میں کٹوتی، جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ سوم، مزید اندرونی اور بیرونی قرضے لینا، جس سے خسارہ دوگنا ہو جائے گا، کرنسی کی رسد بڑھے گی اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اختتام پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر سنگین صورتحال سے دوچار ہے اور معیشت میں بہتری کے کسی بھی دعوے کو مزید ایک سال کے لیے مؤخر کرنا ہوگا، وہ بھی اسی امید پر کہ آئندہ برس مون سون 2025 کی طرح شدید نہ ہو بلکہ نسبتاً معتدل ثابت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیلاب کی تباہ کاریاں روز بروز بڑھ رہی ہیں، جانی نقصان اور مالی نقصانات (نجی و سرکاری دونوں) کے اعتبار سے، جبکہ محکمۂ موسمیات کے مطابق آخری مون سون بارشیں اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے کا امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے پاس بڑھتی ہوئی متاثرین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں؟</strong></p>
<p>اس سوال کے دو پہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا بیرونی ڈونرز کی امداد دستیاب ہو گی۔ اس تناظر میں یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ 2022 کے سیلاب کے دوران، جب تباہی کا تخمینہ 40 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا تھا، حکومت کو تقریباً 10 ارب ڈالر کے وعدے ملے (گرانٹس اور قرضوں کا مجموعہ) لیکن دو سال بعد، 2024 تک، ان وعدوں میں سے صرف 2.8 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ یہ بات بھی واضح نہیں کہ موصولہ رقم میں سے کتنا قرض تھا اور اس کا مصرف کہاں ہوا، کیونکہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اعلانیہ شکوہ کیا کہ ’’ہم نے 2022 سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘‘</p>
<p>کئی پارلیمنٹیرینز حکومت پر ڈیم بنانے پر زور دے رہے ہیں، جن میں انتہائی سیاسی طور پر متنازع کالا باغ ڈیم بھی شامل ہے، جس کی تعمیر کی سندھ کے وزراء نے سخت مخالفت کی ہے۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان، جنہوں نے اُس وقت کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ مل کر 2022 کے سیلابی تباہ کاریوں کے پیمانے اور شدت کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، نے گزشتہ ہفتے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ “جب بھی کوئی سپر فلڈ آتا ہے تو بہت سے لوگ بڑے ڈیم جیسے ’جادوئی حل‘ کی طرف لپکتے ہیں۔ مجھے یہ حقیقت بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ بڑے ڈیموں کا دور گزر چکا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ تربیلا کو امریکی مالی معاونت حاصل رہی جبکہ منگلا کو سندھ طاس معاہدے کے بعد عالمی اداروں جیسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک نے مالی سہارا دیا۔ آج حقیقت یہ ہے کہ ہمیں دیامر اور داسو ڈیم کی تکمیل پر توجہ دینی چاہیے، کسی نئے بڑے ڈیم کی بات محض خواہش تک محدود ہے کیونکہ نہ ان کے لیے سرمایہ دستیاب ہے اور نہ ہی وہ سلٹ بھرنے کے مسائل کے باعث دیرپا چل سکتے ہیں۔”</p>
<p>شیری رحمان نے نشاندہی کی ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے شدید سلٹ فلو نے دونوں بڑے ڈیموں کی گنجائش بری طرح متاثر کی ہے۔ ان کے مطابق حل ناممکن نہیں بلکہ اگر جامع منصوبہ بندی کی جائے تو نسبتاً آسان ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیموں اور ریزروائرز کا نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے ڈیم اچانک آنے والے پانی کو روکنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں سیلاب کے سدباب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہے اور اس میں اضافہ ناگزیر ہے۔ چھوٹے ڈیم ہی آگے کا راستہ ہیں کیونکہ ان کی دیکھ بھال، سرمایہ کاری اور تکمیل نسبتاً آسان ہے۔ تاہم، سیلاب کے خطرات کم کرنے کے لیے ملک گیر موسمیاتی اور آبی آڈٹ کی ضرورت ہے، جس میں بے قابو شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، پہاڑوں میں غیر قانونی کان کنی اور دریا کے بہاؤ میں مداخلت کو روکنا ہوگا۔ اس کے باوجود، دریا اپنی طغیانی کے ساتھ سمندر کی طرف بہے گا اور گلیشیئرز کے غیر معمولی پگھلاؤ کے باعث سیلاب کی شدت مزید بڑھے گی۔ فرق یہ ہوگا کہ ہم کس طرح اس سے نمٹتے ہیں، نقصانات کو کس حد تک کم کرتے ہیں اور زرعی پیداوار کو کس طرح محفوظ رکھتے ہیں۔ مستقبل میں خوراک اور پانی کے تحفظ کے لیے زرعی زمین کے استعمال کا ازسرنو جائزہ بھی ضروری ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ معیار کا انسانی سرمایہ موجود ہے جو درست حکمتِ عملی تجویز کر سکتا ہے، مگر اصل مسئلہ سیاسی عزم کا ہے جو ہمیشہ اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ موجودہ وزیرِ ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اشرافیہ کی گرفت پر مبنی پالیسیاں ہی معیشت پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بڑھا رہی ہیں، بالخصوص ٹمبر اور بلڈرز مافیا کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>اسی دوران  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مئی 2025 میں 1.4 ارب ڈالر کا ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) منظور کیا، جس کا مقصد پاکستان کو موسمیاتی خطرات اور قدرتی آفات کے مقابلے میں معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد دینا ہے۔ یہ قرض بجٹ سپورٹ کے طور پر استعمال ہونا تھا تاکہ مہنگے مقامی کمرشل قرضوں کا متبادل فراہم کیا جا سکے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو، مگر جون کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے اس گنجائش کو شدید متاثر کیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اگر پاکستان آئندہ پانچ برسوں تک جی ڈی پی کے اضافی ایک فیصد کے مساوی سرمایہ کاری ماحولیاتی انفرااسٹرکچر پر کرے تو قدرتی آفات سے ہونے والے معاشی نقصانات نصف رہ جائیں گے اور معیشت تیزی سے سنبھل سکے گی۔</p>
<p>وفاقی بجٹ 2025-26 میں اس مقصد کے لیے 716,766 ملین روپے مختص کیے گئے، جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ 278,313 ملین روپے سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ اخراجات اس طرح تقسیم کیے گئے ہیں۔ موافقت ( ایڈیپٹیشن) یعنی موجودہ ماحولیاتی خطرات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات: 85,435 ملین روپے (گزشتہ سال 46,625 ملین روپے)، تخفیف (مٹی گیشن) : 603,000 ملین روپے (گزشتہ سال 212,861 ملین روپے) اور معاون شعبے: 28,331 ملین روپے (گزشتہ سال 18,887 ملین روپے)</p>
<p>تاہم یہ واضح نہیں کہ اس میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے لیے مختص 2784 ملین روپے بھی شامل ہیں یا نہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ موجودہ اخراجات میں 389 ارب روپے ہنگامی صورتحال کے لیے رکھے گئے ہیں جن میں سے صرف 15 ارب روپے قدرتی آفات کے لیے مختص ہیں۔ یہ رقم موجودہ تباہی کے تناظر میں نہایت ناکافی ہے۔</p>
<p>گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی 114,692 ارب روپے رہی۔ موجودہ بجٹ میں 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، لیکن حالیہ سیلاب کے باعث یہ محض 0.5 سے 1 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح متوقع جی ڈی پی 119,509 ارب روپے بنتی ہے۔ اس حساب سے جی ڈی پی کا ایک فیصد 1195 ارب روپے بنتا ہے، لیکن بجٹ میں اس سے کہیں کم مختص کیا گیا ہے۔</p>
<p>بجٹ خسارہ اس وقت 6,501 ارب روپے (کل بجٹ کا 37 فیصد) ہے، جسے اندرونی اور بیرونی قرضوں سے پورا کرنے کا منصوبہ ہے۔ سودی ادائیگیاں تنہا مجموعی اخراجات کا تقریباً نصف ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس تین راستے ہیں: اول ، ایک منی بجٹ پیش کیا جائے، جس میں بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس کا بوجھ امیر کے بجائے غریب پر زیادہ پڑے گا۔ دوم، پی ایس ڈی پی میں کٹوتی، جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ سوم، مزید اندرونی اور بیرونی قرضے لینا، جس سے خسارہ دوگنا ہو جائے گا، کرنسی کی رسد بڑھے گی اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اختتام پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر سنگین صورتحال سے دوچار ہے اور معیشت میں بہتری کے کسی بھی دعوے کو مزید ایک سال کے لیے مؤخر کرنا ہوگا، وہ بھی اسی امید پر کہ آئندہ برس مون سون 2025 کی طرح شدید نہ ہو بلکہ نسبتاً معتدل ثابت ہو۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276748</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 17:24:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/081602471f0bb76.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/081602471f0bb76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
