<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:40:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صرف استحکام کافی نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276732/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں کہا ہے کہ معیشت اب مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے، اور اس کی سب سے بڑی مثال ایس بی پی کے زرمبادلہ ذخائر ہیں جو صرف ڈھائی سال میں 2.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ بیان حقائق کے عین مطابق ہے اور مجموعی مارکیٹ کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی گورنر عنایت حسین نے گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر نہ خریدا ہوتا تو پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو جاتا۔ یہ دعویٰ درست ہے، کیونکہ جون 2024 سے مئی 2025 کے درمیان ایس بی پی نے مارکیٹ سے تقریباً 8.2 ارب ڈالر خریدے۔ اندازوں کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران اب تک کل خریداری 12 سے 14 ارب ڈالر کے درمیان رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ کہنا کہ ان خریداریوں کے بغیر روپیہ کی قدر بڑھ جاتی، قابلِ بحث ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک مداخلت نہ کرتا تو زرمبادلہ کے کم ذخائر پر پیدا ہونے والی گھبراہٹ بڑے پیمانے پر کرنسی گراوٹ کا باعث بن سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب بھی ایس بی پی کے ذخائر نازک سطح پر آتے ہیں تو عوام کا اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔ اس لیے روپے کا استحکام اور مجموعی معاشی استحکام اسٹیٹ بینک کی فعال مداخلت سے جڑا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کو ان مداخلتوں کو جاری رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی فارورڈ لائیبلٹیز کو کم کرنا چاہیے۔ موجودہ 14.3 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے اگر 2.4 ارب ڈالر فارورڈ لائیبلٹیز اور 12 ارب ڈالر شارٹ ٹرم رول اوورز منہا کیے جائیں تو قابلِ استعمال ذخائر لگ بھگ صفر کے قریب رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اب بھی خاطر خواہ پیش رفت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم روپے کی قدر میں اضافہ ایسے وقت پر ہورہا ہے جب شرح سود آدھی کر دی گئی ہے اور روپے اور امریکی ٹریژری کی شرح کے درمیان فرق تاریخی اوسط سے کم ہے۔ یہ اقتصادی منطق کے خلاف ہے اور برآمدات کی طویل مدتی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بڑے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نئے آرڈرز کے لیے صلاحیت بڑھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ بلند لاگت اور ٹیکس نے منافع کو کم کر دیا ہے، جس سے نئے سرمایہ کاری کے مواقع کمزور ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے۔ اسے محتاط مالیاتی موقف برقرار رکھنا چاہیے اور ڈالر کی خریداری جاری رکھنی چاہیے، چاہے اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں معمولی کمی بھی ہوجائے، کیونکہ ایسے اقدامات مؤثر طریقے سے مارکیٹ میں ہڑبڑی کو روکتے ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ وزارت خزانہ اور حکومت کے ساتھ ہے جو اب تک ضروری اصلاحات نافذ نہیں کرسکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنے کم ترقی والے جال سے اس وقت تک باہر نہیں نکل سکتا جب تک مالیاتی اور توانائی کے شعبوں میں ساختی اصلاحات نہ ہوں۔ رسمی شعبے پر ٹیکس کا بوجھ اب بھی بہت زیادہ ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت غیر واضح چھوٹ سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر اصلاحات میں کوئی معنوی پیشرفت نہیں ہوئی اور کم ٹیکس شدہ شعبوں کو نیٹ میں لانے کی سیاسی خواہش بھی موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح توانائی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی غیر مؤثر کارکردگی صارفین پر زیادہ ٹیرف کی صورت میں منتقل ہوتی ہے، جبکہ صنعتی صارفین کم آمدنی والے گھرانوں کو سبسڈی فراہم کرتے ہیں، جس سے مینوفیکچرنگ کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ حکومت نقصان اٹھانے والی سرکاری کمپنیوں کی نجکاری بھی روک کر رکھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ استحکام معیشت کو موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اصلاحات کے بغیر ترقی کی سیڑھی چڑھنے اور روزگار بڑھانے کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام اور مضبوطی بالآخر کمزور بنیادوں کی وجہ سے اثر کھودیں گے اور یہ مسئلہ اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا فوری ضرورت یہ ہے کہ حکومت مشکل فیصلے کرے اور مالیاتی وزارت کے ساتھ مل کر سنجیدگی سے ساختی اصلاحات نافذ کرے تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈال سکے۔ اس کے بغیر، برآمدات اتنی بڑھ نہیں سکیں گی کہ زیادہ ترقی کے ماحول میں درآمدات کی ضروریات پوری ہوں اور موجودہ استحکام کا مرحلہ مسلسل سرمایہ کاری یا قرض کے بہاؤ کو اپنی طرف راغب کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں کہا ہے کہ معیشت اب مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے، اور اس کی سب سے بڑی مثال ایس بی پی کے زرمبادلہ ذخائر ہیں جو صرف ڈھائی سال میں 2.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ بیان حقائق کے عین مطابق ہے اور مجموعی مارکیٹ کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>ڈپٹی گورنر عنایت حسین نے گزشتہ ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر نہ خریدا ہوتا تو پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو جاتا۔ یہ دعویٰ درست ہے، کیونکہ جون 2024 سے مئی 2025 کے درمیان ایس بی پی نے مارکیٹ سے تقریباً 8.2 ارب ڈالر خریدے۔ اندازوں کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران اب تک کل خریداری 12 سے 14 ارب ڈالر کے درمیان رہی ہے۔</p>
<p>تاہم یہ کہنا کہ ان خریداریوں کے بغیر روپیہ کی قدر بڑھ جاتی، قابلِ بحث ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک مداخلت نہ کرتا تو زرمبادلہ کے کم ذخائر پر پیدا ہونے والی گھبراہٹ بڑے پیمانے پر کرنسی گراوٹ کا باعث بن سکتی تھی۔</p>
<p>تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب بھی ایس بی پی کے ذخائر نازک سطح پر آتے ہیں تو عوام کا اعتماد کمزور ہو جاتا ہے۔ اس لیے روپے کا استحکام اور مجموعی معاشی استحکام اسٹیٹ بینک کی فعال مداخلت سے جڑا ہوا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک کو ان مداخلتوں کو جاری رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی فارورڈ لائیبلٹیز کو کم کرنا چاہیے۔ موجودہ 14.3 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے اگر 2.4 ارب ڈالر فارورڈ لائیبلٹیز اور 12 ارب ڈالر شارٹ ٹرم رول اوورز منہا کیے جائیں تو قابلِ استعمال ذخائر لگ بھگ صفر کے قریب رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اب بھی خاطر خواہ پیش رفت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>تاہم روپے کی قدر میں اضافہ ایسے وقت پر ہورہا ہے جب شرح سود آدھی کر دی گئی ہے اور روپے اور امریکی ٹریژری کی شرح کے درمیان فرق تاریخی اوسط سے کم ہے۔ یہ اقتصادی منطق کے خلاف ہے اور برآمدات کی طویل مدتی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بڑے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نئے آرڈرز کے لیے صلاحیت بڑھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ بلند لاگت اور ٹیکس نے منافع کو کم کر دیا ہے، جس سے نئے سرمایہ کاری کے مواقع کمزور ہو گئے ہیں۔</p>
<p>یہ حقیقت ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے۔ اسے محتاط مالیاتی موقف برقرار رکھنا چاہیے اور ڈالر کی خریداری جاری رکھنی چاہیے، چاہے اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں معمولی کمی بھی ہوجائے، کیونکہ ایسے اقدامات مؤثر طریقے سے مارکیٹ میں ہڑبڑی کو روکتے ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ وزارت خزانہ اور حکومت کے ساتھ ہے جو اب تک ضروری اصلاحات نافذ نہیں کرسکی۔</p>
<p>پاکستان اپنے کم ترقی والے جال سے اس وقت تک باہر نہیں نکل سکتا جب تک مالیاتی اور توانائی کے شعبوں میں ساختی اصلاحات نہ ہوں۔ رسمی شعبے پر ٹیکس کا بوجھ اب بھی بہت زیادہ ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت غیر واضح چھوٹ سے فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔</p>
<p>ایف بی آر اصلاحات میں کوئی معنوی پیشرفت نہیں ہوئی اور کم ٹیکس شدہ شعبوں کو نیٹ میں لانے کی سیاسی خواہش بھی موجود نہیں ہے۔</p>
<p>اسی طرح توانائی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی غیر مؤثر کارکردگی صارفین پر زیادہ ٹیرف کی صورت میں منتقل ہوتی ہے، جبکہ صنعتی صارفین کم آمدنی والے گھرانوں کو سبسڈی فراہم کرتے ہیں، جس سے مینوفیکچرنگ کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ حکومت نقصان اٹھانے والی سرکاری کمپنیوں کی نجکاری بھی روک کر رکھ چکی ہے۔</p>
<p>موجودہ استحکام معیشت کو موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اصلاحات کے بغیر ترقی کی سیڑھی چڑھنے اور روزگار بڑھانے کی کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔</p>
<p>استحکام اور مضبوطی بالآخر کمزور بنیادوں کی وجہ سے اثر کھودیں گے اور یہ مسئلہ اسٹیٹ بینک کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔</p>
<p>لہٰذا فوری ضرورت یہ ہے کہ حکومت مشکل فیصلے کرے اور مالیاتی وزارت کے ساتھ مل کر سنجیدگی سے ساختی اصلاحات نافذ کرے تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈال سکے۔ اس کے بغیر، برآمدات اتنی بڑھ نہیں سکیں گی کہ زیادہ ترقی کے ماحول میں درآمدات کی ضروریات پوری ہوں اور موجودہ استحکام کا مرحلہ مسلسل سرمایہ کاری یا قرض کے بہاؤ کو اپنی طرف راغب کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276732</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 12:59:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0811310275a3357.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0811310275a3357.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
