<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 16:13:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈبلیو ایچ او کا طالبان سے خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276731/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان خواتین امدادی کارکنوں پر عائد پابندیاں اٹھائیں تاکہ وہ بغیر محرم کے سفر کر سکیں اور ان خواتین تک رسائی حاصل کریں جو مشرقی افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد علاج معالجے سے محروم ہیں۔ اس زلزلے میں 2,200 افراد جاں بحق اور 3,600 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں بے گھر ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں ڈبلیو ایچ او کی نائب نمائندہ ڈاکٹر مکتی شرما نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں خواتین طبی عملے کی شدید کمی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 90 فیصد طبی عملہ مردوں پر مشتمل ہے جبکہ باقی 10 فیصد زیادہ تر دائیوں اور نرسوں پر، جو سنگین زخموں کے علاج کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس صورتحال کے باعث خواتین مریض مرد عملے سے علاج کرانے میں ہچکچاہٹ یا خوف کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکتی شرما نے واضح کیا کہ طالبان کے محرم قوانین اور خواتین پر عائد پابندیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ ہنگامی حالات میں بھی باضابطہ استثنیٰ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے علاج اور بالخصوص ذہنی صحت کے مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جن کے مرد کفیل زلزلے میں جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی باشندوں نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ کنڑ کے سومائی ضلع کے پیر گل نے بتایا کہ ان کے گاؤں کی کئی خواتین شدید ذہنی صدمے اور بلڈ پریشر کے مسائل میں مبتلا ہیں لیکن ان کے لیے کوئی خاتون ڈاکٹر دستیاب نہیں، صرف ایک مرد ڈاکٹر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی خبردار کیا کہ طالبان کے تعلیمی پابندیوں کی وجہ سے خواتین ڈاکٹرز کی نئی کھیپ تیار نہیں ہو رہی، جس سے بحران مزید بڑھے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 11,600 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں، ایسے وقت میں جب افغانستان پہلے ہی ایشیا میں بلند ترین ماں اور بچے کی شرح اموات سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، امریکہ سمیت دیگر ممالک کی امداد میں کٹوتیوں سے افغان صحت کا نظام کمزور ہو چکا ہے۔ مکتی شرما نے بتایا کہ رواں سال متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی 80 طبی مراکز بند ہو چکے تھے جبکہ زلزلے کی تباہ کاریوں سے مزید 16 مراکز غیر فعال ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان وزارتِ صحت اور طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان خواتین امدادی کارکنوں پر عائد پابندیاں اٹھائیں تاکہ وہ بغیر محرم کے سفر کر سکیں اور ان خواتین تک رسائی حاصل کریں جو مشرقی افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد علاج معالجے سے محروم ہیں۔ اس زلزلے میں 2,200 افراد جاں بحق اور 3,600 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں بے گھر ہو گئے۔</strong></p>
<p>افغانستان میں ڈبلیو ایچ او کی نائب نمائندہ ڈاکٹر مکتی شرما نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں خواتین طبی عملے کی شدید کمی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 90 فیصد طبی عملہ مردوں پر مشتمل ہے جبکہ باقی 10 فیصد زیادہ تر دائیوں اور نرسوں پر، جو سنگین زخموں کے علاج کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس صورتحال کے باعث خواتین مریض مرد عملے سے علاج کرانے میں ہچکچاہٹ یا خوف کا شکار ہیں۔</p>
<p>مکتی شرما نے واضح کیا کہ طالبان کے محرم قوانین اور خواتین پر عائد پابندیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ ہنگامی حالات میں بھی باضابطہ استثنیٰ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے علاج اور بالخصوص ذہنی صحت کے مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جن کے مرد کفیل زلزلے میں جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>مقامی باشندوں نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ کنڑ کے سومائی ضلع کے پیر گل نے بتایا کہ ان کے گاؤں کی کئی خواتین شدید ذہنی صدمے اور بلڈ پریشر کے مسائل میں مبتلا ہیں لیکن ان کے لیے کوئی خاتون ڈاکٹر دستیاب نہیں، صرف ایک مرد ڈاکٹر موجود ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او نے یہ بھی خبردار کیا کہ طالبان کے تعلیمی پابندیوں کی وجہ سے خواتین ڈاکٹرز کی نئی کھیپ تیار نہیں ہو رہی، جس سے بحران مزید بڑھے گا۔ اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں 11,600 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں، ایسے وقت میں جب افغانستان پہلے ہی ایشیا میں بلند ترین ماں اور بچے کی شرح اموات سے دوچار ہے۔</p>
<p>مزید برآں، امریکہ سمیت دیگر ممالک کی امداد میں کٹوتیوں سے افغان صحت کا نظام کمزور ہو چکا ہے۔ مکتی شرما نے بتایا کہ رواں سال متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی 80 طبی مراکز بند ہو چکے تھے جبکہ زلزلے کی تباہ کاریوں سے مزید 16 مراکز غیر فعال ہو گئے ہیں۔</p>
<p>افغان وزارتِ صحت اور طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276731</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 11:24:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/08112247a0183de.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/08112247a0183de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
