<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بزنس مین پینل کا معاشی بحالی کیلئے سنگل ڈیجٹ شرحِ سود کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے مرکزی بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کی بحالی کے لیے کلیدی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک کم کیا جائے۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی 15 ستمبر 2025 کو شرح سود کا اعلان کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور بی ایم پی کے چیئرمین میاں انجم نثار نے کہا کہ بلند مہنگائی اور غیر معمولی مارک اپ ریٹ نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نجی شعبے کی قرض گیری کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ شرح برقرار رکھنے سے افراطِ زر پر قابو پانے کے بجائے معاشی سست روی مزید گہری ہو گی کیونکہ مہنگائی کی اصل وجہ سیلاب سے پیدا ہونے والے سپلائی کے مسائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرض کے اخراجات میں کمی کسانوں، تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے کاروبار کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی ریٹ 11 فیصد ہے جو چین، بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث برآمدات اور مقامی صنعت غیر مسابقتی ہو گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2010-11 کے سیلاب کے دوران فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی تھی اور اس سال کے سیلاب بھی اسی نوعیت کے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے کہا کہ مزید مانیٹری سختی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کر دیا ہے اور ایس ایم ایز کو قرض تک رسائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیرِ خزانہ سے کہا کہ وہ لچکدار مانیٹری پالیسی کے وعدے پر عمل کریں تاکہ سیلاب اور دیگر چیلنجز کے باوجود معاشی بحالی ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے برآمدی شعبے کے لیے توانائی ٹیرف میں ریلیف کا خیر مقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ ایس ایم ایز کو بھی یہی سہولت دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے چھوٹے کاروباروں کے لیے خصوصی قرض اسکیم متعارف کرانے پر زور دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جو سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم شرح سود اور رعایتی فنانسنگ ہی صنعت کو بحال کرنے، روزگار پیدا کرنے اور برآمدات بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل (بی ایم پی) نے مرکزی بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کی بحالی کے لیے کلیدی پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ تک کم کیا جائے۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی 15 ستمبر 2025 کو شرح سود کا اعلان کرے گی۔</strong></p>
<p>ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور بی ایم پی کے چیئرمین میاں انجم نثار نے کہا کہ بلند مہنگائی اور غیر معمولی مارک اپ ریٹ نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں نجی شعبے کی قرض گیری کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ شرح برقرار رکھنے سے افراطِ زر پر قابو پانے کے بجائے معاشی سست روی مزید گہری ہو گی کیونکہ مہنگائی کی اصل وجہ سیلاب سے پیدا ہونے والے سپلائی کے مسائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرض کے اخراجات میں کمی کسانوں، تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے کاروبار کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی ریٹ 11 فیصد ہے جو چین، بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث برآمدات اور مقامی صنعت غیر مسابقتی ہو گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2010-11 کے سیلاب کے دوران فصلوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی تھی اور اس سال کے سیلاب بھی اسی نوعیت کے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے کہا کہ مزید مانیٹری سختی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کر دیا ہے اور ایس ایم ایز کو قرض تک رسائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وزیرِ خزانہ سے کہا کہ وہ لچکدار مانیٹری پالیسی کے وعدے پر عمل کریں تاکہ سیلاب اور دیگر چیلنجز کے باوجود معاشی بحالی ممکن ہو سکے۔</p>
<p>انہوں نے برآمدی شعبے کے لیے توانائی ٹیرف میں ریلیف کا خیر مقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ ایس ایم ایز کو بھی یہی سہولت دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے چھوٹے کاروباروں کے لیے خصوصی قرض اسکیم متعارف کرانے پر زور دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جو سیلاب سے متاثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم شرح سود اور رعایتی فنانسنگ ہی صنعت کو بحال کرنے، روزگار پیدا کرنے اور برآمدات بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276728</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 11:21:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/081105331a631a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/081105331a631a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
